چینی صدر شی جن پھنگ کا اپیک کی ستائیسویں غیر رسمی سربراہی کانفرنس سےویڈیو خطاب

2020-11-20 22:57:33
شیئر:

بیس نومبر کی شب چینی صدر شی جن پھنگ نے ویڈیو لنک کے ذریعے اپیک کی ستائیسویں غیر رسمی سربراہی کانفرنس سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی معیشت بحرالکاہل کی طرح ہے جس طرح کئی دھارے اور چاروں سمندر آکر اس میں ملتے ہیں اسی طرح عالمی معیشت بھی شراکت داری اور قوت محرکہ کی حامل ہے ۔ اس وقت دنیا بھر میں خاص طور پر ایشیائی اور بحرالکاہلی علاقے میں بڑی تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ایشیا اور بحرالکاہل کے مستقبل کا راستہ علاقائی ترقی، خطے کی ترقی ، عوام کی فلاح و بہبود اوردنیا کے مستقبل سے منسلک ہے ۔ جناب شی نے کہا کہ رواں سال اپیک کا سب سے اہم کام ۲۰۲۰ کے بعد تعاون کے وژن کو آغازکرنا ہے۔ہم نے ایشیائی اوربحرالکاہلی علاقے میں ہم نصیب سماج کی تعمیر کے ہدف کو طے کیا ہے ،توہمیں اس کی بنیاد پر ایشیائی اوربحرالکاہلی علاقے کے تعاون کے نئے دور کا آغاز کرنااور ایشیائی اوربحرالکاہلی علاقے میں ہم نصیب سماج کی تعمیرکرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آزادانہ تجارت اور سرمایہ کاری کی تکمیل ایک دن میں نہیں کی جا سکتی ہے۔ ایشیائی اوربحرالکاہلی علاقے کو امن و استحکام اور  کثیرالجہتی کا تحفظ کرنا چاہیے نیز کھلی عالمی معیشت کی تعمیر کرنی چاہیے اور ثابت قدمی سے کثیرالطرفہ تجارتی نظام کی حمایت کرنی چاہیئے جہاں عالمی تجارتی تنظیم مرکزی کردار ادا کرتی ہے ۔ ایشیائی اور بحرالکاہلی علاقے کو چاہیے کہ وہ   آزادانہ تجارت اور سرمایہ کاری کو مزید فروغ دیں ، معیشت کی عالمگیریت کھلی ، شراکت دار ، متوازن ،جیت جیت کی سمت میں بڑھے، جس سے  تمام فریق فائدہ اٹھا سکیں ۔ 

شی جن پھنگ  نے نشاندہی کی کہ چین علاقائی جامع اقتصادی شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کا خیرمقدم کرتا ہے اور جامع اور ترقی پسند ٹرانس پیسیفک پارٹنرشپ معاہدے میں شامل ہونے پر غورکرے گا۔  انہوں نے نشاندہی کی کہ مستقبل میں ڈیجیٹل معیشت دنیا   کی ترقی کا راستہ  ہے ، اور  انوویشن  ایشیا  اور بحر الکاہل کی معیشت کی ترقی  کا نیا آسمان   ہے۔  اپیک انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل اکانومی روڈ میپ کو مکمل طور پر نافذ کرنا ، نئی ٹیکنالوجیز کے پھیلاؤ اور استعمال کو فروغ دینا ، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی تعمیر کو مضبوط بنانا ، اور ڈیجیٹل تفریق کو ختم کرنا ضروری ہے۔  چین نے تجویز پیش کی ہے کہ تمام جماعتیں اس وبا سے لڑنے اور معیشت کی بحالی کے  لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے تجربے کو شیئر کریں ، ڈیجیٹل کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کی حمایت کریں ، ڈیجیٹل معیشت کی صلاحیت کو فروغ دیں اور ایشیاء  بحرالکاہل  کی معیشت کی بحالی کو ایک نئی تحریک دیں  ۔  شی جن پھنگ  نے نشاندہی کی کہ اگلے سال چین  ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے غربت میں کمی کرنے سے متعلق  ایک  سیمینار منعقد کرے گا تاکہ ایشیا  بحر الکاہل  کے خطے سےغربت کے خاتمے  کے سلسلے میں مدد دینے کے لیے  ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے فوائد کو بھرپور انداز میں پیش کیا جا سکے۔

شی جن پھنگ نے نشاندہی کی کہ ایشیا بحر الکاہل کا معاشی تعاون کبھی بھی زیرو سم کھیل یا سیاسی کھیل نہیں رہا ہے بلکہ یہ باہمی کامیابی ، باہمی فائدے اور باہمی مفادات کے لیے ترقی کا ایک پلیٹ فارم ہے۔ چین اپیک کے کردار کو بڑی اہمیت دیتا ہے اور اپیک کی ترقی کی حمایت کرتا رہے گا۔ تاکہ اپیک ہمیشہ کی طرح ایشیا بحر الکاہل کے خطے کی تعمیر و ترقی پر توجہ دے اور اس سے خطے کو فائدہ پہنچے ۔ چین اپیک کے مختلف ممالک کے ساتھ  ایشیا بحر الکاہل کے پرامن، خوشحال اور روشن مستقبل کی تعمیر کرے گا اور بنی نوعِ  انسان کے ہم نصیب سماج کی تعمیر کرے گا۔

شی جن پھنگ نے نشاندہی کی کہ ہمیں ویکسین سے متعلق تحقیق، تیاری اور تبادلے کو مضبوط بنانا چاہیے اور ترقی پذیر ممالک میں ویکسین کی دستیابی اور اسے قوت خرید کے مطابق  رکھنے کو فروغ دینا چاہیے۔ چین صحت عامہ، چھوٹے ، درمیانے اور مائکرو کاروبار سمیت  مختلف شعبوں میں پالیسیوں کے تبادلے اور صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے  اپیک کی حمایت کرتا ہے۔ چین نے   ٹیلی میڈیسن کا انیشیٹیو پیش کیا، تاکہ غربت زدہ  اور دور دراز علاقوں کے لوگوں کو بروقت اور موثر علاج کی سہولت دی جاسکے ، اور انسداد وبا کے حوالے سے باہمی تعاون اور معاشی بحالی میں مدد مل سکے۔