چین کی معاشی بحالی ، ابھرتی ہوئی نئی منڈیوں کو تحریک فراہم کرتی ہے، عالمی بینک

2021-01-14 15:59:08
شیئر:

چین کی معاشی بحالی ، ابھرتی ہوئی نئی منڈیوں کو تحریک فراہم کرتی ہے، عالمی بینک_fororder_中国发展

 حال ہی میں ، عالمی بینک کی جاری  کردہ "عالمی معاشی آؤٹ لک" رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ کووڈ-۱۹ کی وبا کے مسلسل  پھیلاؤ کے باعث ۲۰۲۱  کی پہلی ششماہی  میں بھی عالمی معیشت  تنزلی کا شکار رہے گی ۔ تیرہ جنوری کو گلوبل تھنک ٹینک کے زیر اہتمام منعقدہ  سیمینار میں ، عالمی بینک  کے اہلکار کی جانب سے  نشاندہی کی گئی کہ سرمایہ کاری میں کمی اور قرضوں کے بوجھ کا بڑھنا مختلف ممالک کی معیشت پر وبا کے نمایاں  اثرات ہیں، تاہم مشرقی ایشیاء میں چین کی معاشی بحالی بے حد  غیر معمولی اور اہم  ہے کیونکہ یہ دیگر عالمی معیشتوں خاص طور پر مشرقی ایشیا اور ابھرتی ہوئی نئی معیشتوں میں معاشی بحالی کی محرک ہے۔عالمی بینک نے نشاندہی کی کہ ۲۰۲۰ میں ، چین  معاشی بدحالی سے محفوظ رہنے والی  واحد بڑی معیشت بن سکتا ہے ۔ عالمی بینک کے اندازوں  کے مطابق  ۲۰۲۱میں چین کے جی ڈی پی کی شرحِ نمو 7.9  فیصد تک پہنچ جائے گی۔ اسی وقت میں  چین کے ذریعے متحرک  ، ابھرتی ہوئی مارکیٹس کی معاشی نمو  نئے سال میں 5 فیصد بڑھے گی ، جو کہ پہلے لگائے گئے  4.6 فیصد کے اندازے سے زیادہ ہے۔عالمی سرمایہ کاری میں کمی کے تناظر میں دیکھا جائے تو  چین کی سرمایہ کاری اور تجارت کا حجم مستحکم رہا، بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری جاری رکھتے ہوئے چین کھپت کو ترقی کا بنیادی انجن سمجھتا ہے۔ اس کے علاوہ ، چین نے مالیات  اور کھپت کے شعبوں میں ڈیجیٹلائزیشن کو مستقل بنیادوں پر  فروغ دیا ہے۔اس بحالی کے ماڈل نے وبا کے  بعد ممالک کو پائیدار معاشی ترقی کا تجربہ فراہم کیا۔ یہ بھی واضح رہے کہ دوسرے ممالک کے مقابلے میں ، چین کی مینوفیکچرنگ انڈسٹری خاص طور پر طبی آلات کا شعبہ بے حد مضبوط اور مستحکم ہے۔چین نا صرف اپنی ضروریات کی تکمیل کو یقینی بناتا ہے  بلکہ یہ طبی سامان دنیا کو بھی فراہم کرسکتا ہے۔ یہی اس وقت میں چین کی مستحکم معاشی بحالی کو یقینی بناتا ہے  ۔ اس  کے  ساتھ  ساتھ  چین نے عالمی معاشی بحالی کے لیے بھی اپنا  کردار ادا کیا ہے ۔