چین کی جانب سے سیاسی مفادات کی خاطر انسانی حقوق کے استعمال کی شدید مخالفت

2021-02-23 16:22:31
شیئر:

چین کی جانب سے سیاسی مفادات کی خاطر انسانی حقوق کے استعمال کی شدید مخالفت_fororder_0223pic for news

چین نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں برطانیہ اور دیگر ممالک کی جانب سے سنکیانگ، تبت اور ہانگ کانگ سے متعلق منفی بیانات کی شدید مخالفت کی ہے۔ جنیوا میں چینی وفد کے ترجمان لیو یوئن اینگ نے کہا کہ چین نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ تمام فریق برابری اور باہمی احترام کی بنیاد پر انسانی حقوق کے امور سے متعلق تعمیری بات چیت اور تعاون کریں، انسانی حقوق کو نہ تو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہیے اور نہ ہی اسے دوسرے ممالک کی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے کے لئے ایک آلے کے طور پر استعمال ہونا چاہئے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ گمراہ کن اور غلط بیانیے کی انسانی حقوق کونسل میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

انہوں نے سنکیانگ اور تبت میں آباد مختلف قومیتوں کی ترقی کو چین میں انسانی حقوق کی ترقی کا نمونہ قرار دیا۔ ترجمان نے کہا کہ سنکیانگ میں سماجی استحکام، معاشی نمو، نسلی اتحاد، مذہبی ہم آہنگی، ثقافتی ترقی اور لوگوں کے معیار زندگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ تمام نسلی گروہوں کے افراد کو قانون کی روشنی میں وسیع حقوق اور آزادی حاصل ہے۔ اس کے برعکس برطانیہ میں لوگوں کی زندگی اور صحت کے حق کو نظرانداز کیا گیا ہے، ملک میں کووڈ۔19کے باعث 40 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد افراد اپنی قیمتی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ برطانیہ میں غربت بدستور ایک حل طلب مسئلہ ہے، برطانوی فوج عراق اور افغانستان جیسے مقامات پر بے گناہ افراد کی ہلاکتوں میں ملوث ہے، نسلی امتیازی سلوک اور نفرت انگیز اقدامات برطانیہ میں عام ہیں جبکہ تارکین وطن کے حقوق کی شدید خلاف ورزی کی جارہی ہے۔

ترجمان نے پرزور الفاظ میں کہا کہ برطانیہ اور دیگر ممالک ملکی سطح پر انسانی حقوق کے امور پر توجہ دیں، انسانی حقوق کے معاملات پر سیاست سے گریز کریں، دیگر ممالک کو بدنام کرنے کے لئے جھوٹ کا استعمال ترک کریں اور عالمی سطح پر انسانی حقوق کی صحت مند ترقی میں حقیقی کردار ادا کریں۔