اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 46 ویں سیشن کے اعلی سطحی اجلاس سے وانگ ای کا خطاب

2021-02-23 12:20:24
شیئر:

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 46 ویں سیشن کے اعلی سطحی اجلاس سے وانگ ای کا خطاب_fororder_0223王毅

 چین کے ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ ای نے 22 تاریخ کو بیجنگ میں ویڈیو لنک کے ذریعے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 46 ویں  سیشن کے اعلی سطحی اجلاس میں شرکت کی اور تقریر کی۔وانگ ای نےکووڈ- ۱۹  وبا کے تناظر میں انسانی حقوق  کے فروغ اور تحفظ سے متعلق چین کا موقف پیش کرتے ہوئے  چار نکات پیش کیے۔ پہلا ، انسانی حقوق کے سلسلےمیں عوام کو مرکزی حیثیت دینے کے تصور پر قائم رہنا ، دوسرا ، مختلف ممالک کے مخصوص حالات کے مطابق  انسانی حقوق کے تصور  پر عملدارآمد کرنا ،تیسرا ، انسانی حقوق کے تحفظ کے عمل کو جامع انداز میں فروغ دینا اور چوتھا ، بین الاقوامی انسانی حقوق کی بات چیت اور تعاون کو آگے بڑھانا۔وانگ ای نے مزید  کہا کہ  چینی کمیونسٹ پارٹی کی قیادت میں ، چین نے چینی خصوصیات کے حامل سوشلزم کا ایک ایسا کامیاب راستہ اپنایا ہے جو چین کے خصوصی حالات اور  انسانی حقوق کی روح کے مطابق  ہے۔ وانگ ای نے کہا کہ کووڈ-۱۹ وبا کا سامنا کرتے ہوئے ، چینی حکومت نے ہمیشہ عوام کی حفاظت اور صحت کو اولین ترجیح دی ہے اور انسانی جان کی عظمت اور وقار کی حفاظت کی ہے۔ ویکسین عوام کی صحت ، بقا اور ترقی کے حق سے تعلق رکھتا ہے۔ اس لئے عالمی سطح پر ویکسینوں کی  منصفانہ تقسیم اشد ضروری ہے  ،خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں ویکسین کی دستیابی کو یقینی بنانا چاہیے۔وانگ ای نے اس بات پر زور دیا کہ چین انسانی حقوق کے امور کے ذریعہ دوسرے ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت کی مخالفت کرتا ہے۔ سنکیانگ میں کبھی بھی  "نسل کشی" ، "جبری مشقت" یا "مذہبی ظلم" نہیں ہوا ہے۔ یہ سنسنی خیز دعوے جہالت اور تعصب پر مبنی  ہیں اورمکمل طور پر بدنیتی پر مبنی سیاسی تشہیر  ہیں اورحقائق کے  منافی ہیں۔ ہانگ کانگ کے قومی سلامتی  قانون نے  ہانگ کانگ کو افراتفری سےنکال کر  حکمرانی کی طرف منتقلی کا ایک بڑا  آغاز فراہم کیا ہے ، اور  بنیادی قانون کے مطابق ہانگ کانگ کے شہریوں کو حاصل کردہ قانونی حقوق اور آزادیوں کا بھی تحفظ کیا ہے۔