بائیڈن کا امریکہ ریسکیو پلان مشکلات سے دوچار

2021-04-04 16:17:09
شیئر:

امریکی صدر بائیڈن معیشت کو فروغ دینے اور چین کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لئے مصروف عمل ہیں۔ انیس کھرب  ڈالرز مالیت کے کووڈ-۱۹ ریلیف بل کی منظوری کے بعد،  وہ سول انجینئرنگ اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں جس کے لیے تیئیس کھرب امریکی ڈالرز درکار ہیں۔

بائیڈن کا  امریکہ ریسکیو پلان مشکلات سے دوچار_fororder_1

لیکن امریکی خزانے میں اتنی بڑی رقم موجود نہیں ہے۔ یہ رقم امریکہ میں صرف دولت مند افراد اور کمپنیوں سے ہی لی جاسکتی ہے، لیکن دولت مند افراد کیسے ایک نئے صدر کو انھیں "چھرا گھونپنے" کی اجازت دے سکتے ہیں؟ امریکی سینیٹ میں اقلیتی پارٹیوں کے رہنما اور ریپبلکن پارٹی سے وابستہ میک کونل نے یکم اپریل کو مجوزہ منصوبے سے متعلق سخت الفاظ میں کہا کہ ریپبلکن پارٹی آخر تک اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
 بائیڈن نے امید ظاہر کی ہے کہ کانگریس رواں برس موسم گرما  تک مذکورہ تیئیس کھرب ڈالرز کے منصوبے کی منظوری دے دے گی۔ تاہم دولت امند افراد اور کاروباری اداروں کی شراکت کے بعد بھی اس خطیر رقم کا حصول کافی مشکل ہے۔ میک کونل نے بائیڈن کی اس نئی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سالانہ چار لاکھ  ڈالرز آمدن کے حامل رائے دہندگان حکومت کو کمپنیوں اور مالدار افراد پر ٹیکس بڑھانے کی اجازت نہیں دیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسا بنیادی ڈھانچہ تعمیر کرنا چاہئے، جو ہم برداشت کرسکیں۔ ٹیکسوں میں بے تحاشا اضافے سے معیشت کو نشانہ بنانے اور قومی قرضوں کے بوجھ کو بڑھانےسے گریز کرنا چاہئے۔

بائیڈن کا  امریکہ ریسکیو پلان مشکلات سے دوچار_fororder_2

ریپبلکن پارٹی کے علاوہ دیگر حلقوں نے بھی بائیڈن کے منصوبے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ "وال اسٹریٹ جرنل" نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ  بائیڈن ٹیکس آرہا ہے۔ اگرچہ بائیڈن نے یہ واضح نہیں کیا کہ ٹیکس نیٹ میں سالانہ چار لاکھ ڈالرز سے زائد آمدنی کے حامل افراد یا خاندان شامل ہیں،  لیکن اس تبصرے میں کہا گیا ہے کہ "امریکہ میں متوسط ​​طبقہ 1968 کے بعد ٹیکسوں میں سب سے زیادہ اضافے کا بوجھ برداشت کرے گا۔" 
تاہم ، اضافی ٹیکس بائیڈن کے بنیادی ڈھانچے کی لاگت کو پورا کرنے کے لئے کافی نہیں ہے۔ کارنرسٹون میکرو کنسلٹنگ کے تجزیہ کار شنائیڈر کے مطابق، انفراسٹرکچر منصوبہ امریکی مالیاتی خسارے میں تقریباً پانچ کھرب امریکی ڈالر کے مجموعی اضافے کا باعث بنے گا۔  حکومت کا بڑھتا ہوا سالانہ مالیاتی خسارہ عام عوام کے لیے باعث پریشانی ہے۔