امریکہ میں اقلیتیں نسلی امتیاز کا شکار

2021-04-08 20:13:37
شیئر:

امریکہ میں اقلیتیں نسلی امتیاز کا شکار_fororder_2

امریکی اقلیتیں منظم نسلی امتیاز کا شکار ہیں اور مشکل صورتحال سے دوچار ہیں۔  سفید فام امریکی پولیس اہلکار کے ہاتھوں قتل ہونے والےافریقی نژاد امریکی شہری جارج فلائیڈ سے متعلق  29 مارچ کو عوامی مقدمے کی سماعت کی گئی۔
امریکی حکومتی اعدادوشمار سے پتہ چلتا ہے کہ پولیس کے ہاتھوں فائرنگ کے ذریعے ہلاک ہونے والے نوجوان افریقی نژاد امریکیوں کی شرح سفید فام نوجوانوں کے مقابلے میں  21 فیصد زائد ہے۔ 15 سے 19 سال تک کی عمر کے افریقی نژاد  شہریوں سے متعلق پولیس فائرنگ کی شرح فی ملین 31.17   ہے ، جبکہ سفید فام افراد میں یہ شرح صرف 1.47 فی ملین ہے۔
کیا امریکی پولیس اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق تادیبی کارروائی کی جائے گی؟ جواب نفی میں ہے کیونکہ متعلقہ جیوری عام طور پر قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر "فطری اعتماد" رکھتی ہے۔
امریکہ میں صرف افریقی نژاد امریکی شہری ہی نسلی امتیاز کا شکار نہیں ہیں۔ لاطینی امریکی اور ایشیائی اقلیتیں بھی طویل عرصے سے نسلی امتیاز کا شکار ہیں۔خاص طور پر کووڈ-۱۹ وبا کے بعد سے کچھ امریکی سیاست دانوں نے انسداد وبا کے حوالے سے  اپنی کوتاہیوں کو چھپانے کے لیے ایشیائی باشندوں کو بدنام کیا ہے ، جس کی وجہ سے امریکہ میں ایشیائی امریکیوں کے خلاف پُرتشدد نفرت انگیز جرائم میں اضافہ ہوا ہے۔ گذشتہ دو ماہ کے دوران ایشیائی امریکی باشندوں  کے حقوق کے تحفظ کے لیے آوازیں بھی اٹھائی گئی ہیں اور امریکہ بھر میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔