​چین کے مشہور قدرتی مناظر

2017-09-14 10:56:03
Comment
شیئر
شیئر Close
Messenger Messenger Pinterest LinkedIn


 

    کوئلین اور دریائے لی جانگ

کوئلین شہر کوانگ شی خود اختیار علاقے کے شمال مشرقی جانب واقع ہے۔یہ شہر چین کا سب سے مشہور سیاحتی شہر ہے۔اس شہر کو قدیم زمانے سے ہی جنت نظیر کہا جاتا ہے۔کوئلین اہم سیاحتی شہر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک تاریخی اور ثقافتی شہر بھی ہے۔دریائے لی جانگ کے دل فریب مناظر اور کارسٹ نامی کرہِ ارض کی اشکال کوئلین کی علامتیں ہیں۔یہاں سرسبز و شاداب پہاڑ ،صاف و شفاف پانی،عجیب و غریب غاریں اور انوکھی اشکال کی چٹانیں بھی موجود ہیں جو چین کے قدرتی مناظر کی بھر پور عکاسی کرتی ہیں۔کوئلین شہر  اور اس کے قدرتی مناظر ایک دوسرے میں ضم ہیں جس کو کوئلین کی منفرد ثقافت تصور کیا  جاتا ہے۔

   زمانہ قدیم سے ہی کوئلین وسیع و عریض جنگلات ،منفرد اشکال کی پہاڑی چوٹیوں،حسین وادیوں ،بہتے آبشاروں ،برستی پھواروں اور پہاڑوں  کی ڈھلوانوں پر بنائے گئے کھیتوں کی وجہ سے بہت معروف رہا ہے۔یہاں دس سے بارہ اقلیتی قومیتیں آباد ہیں جن میں جوانگ، یاؤ،میاؤ ، تونگ،مولاؤ اور ماونان وغیرہ شامل ہیں۔کوئلین کے حسین و جمیل قدرتی مناظر ،قومیتی رسم و رواج اور تاریخ و  ثقافت سے لطف اندوز ہونے  کے لیے چینی اور  غیر ملکی سیاحوں کے علاوہ  بیرونی ممالک کے  سرکردہ رہنما بھی یہاں آتے رہتے ہیں۔

کوئلین میں بہنے والے لی جانگ دریا کی بل کھاتی موجیں آئینے کی طرح صاف و شفاف دکھائی دیتی ہیں۔ دریائے لی جانگ دنیا کے  سب سے خوبصورت مقامات میں سے ایک ہے۔ اس دریا کی کل لمبائی چار سو سینتیس کلو میڑ ہے جس کی ابتدا شن آن کاؤنٹی کے بلی  نامی پہاڑ سے ہوتی ہے۔یہ دنیا کے کارسٹ نامی زمینی اشکال کے نمونوں میں سے ایک ہے جس کی علامات میں دلکش پہاڑ ،دریا،کھیت،غاریں اور چٹانیں شامل ہیں۔ یہاں کے پہاڑوں میں طرح طرح کی غاریں موجود ہیں جن میں عجیب و غریب اشکال کی چٹانیں پائی جاتی ہیں۔بلاشبہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ کوئلین سیاحوں کے لیے ایک جادوئی مقام  کی حیثیت رکھتا ہے۔

      کوئلین سے یان سو تک بہنے والے دریائے لی جانگ کی لمبائی تراسی کلو میٹر ہے۔یہ اس دریا کے سب سے دلکش مناظر کا حامل  علاقہ ہے۔اس علاقے سے گزرتے ہوئے دریائے لی جانگ بل کھاتا ہوا ،کھیتوں ،پہاڑوں اور چٹانوں کے بیچ سے گزرتے ہوئے بہتا ہے۔ارد گرد کے مناظر اس  قدر حسین ہیں کہ یہاں آنے والوں والے سیاح اس کی دل کشی میں کھو جاتے ہیں ۔

    کو ئلین کے ایک قصبے  یان سو  کو سیاحوں کی جنت کہا جاتا  ہے۔یان سو قصبے کی مغربی جانب  واقع سڑک کی شکل انگریزی حرف ایس سے ملتی جلتی ہے۔جس کی لمبائی پانچ سو سترہ میڑ اور چوڑائی آٹھ میڑ کے لگ بھگ ہے۔سڑک کی تہہ سنگِ مرمر سے بنائی گئی ہےجبکہ اس کے کنارے روایتی طرزِتعمیر کے مکانات موجود ہیں۔یہاں بنائی جانے والی دکانوں میں یاد گاری تحائف اور مقامی خاص کھانے فروخت کیے جاتے ہیں۔یہاں آنے والے سیاحوں کی تعداد بہت زیادہ ہےاور سیاحوں کے لیے کافی سہولیات بھی مہیا کی گئی ہیں۔

 

کوہ چھانگ پائی

کوہ  چھانگ پائی شمال مشرقی چین کے صوبہ جی لین میں واقع ہے یہ چین اور شمالی کوریا کی سرحدی چوٹی ہے۔ اس کے علاوہ یہ اس علاقے کے تین بڑے دریاؤں یعنی تھو   من جان ، یا لو جان اور سون ہوا جان کا مشترکہ منبہ بھی ہے۔ کوہ چھانگ پائی کے جنگلات میں نایاب جنگلی جانوروں کی کثیر تعداد پائی جاتی ہے   ۔ سنہ انیس سو اسی میں کوہ چھانگ پائی کو اقوام متحدہ کے مرتب کردہ بین الاقوامی حیاتیاتی حفاظتی علاقوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

چینی زبان میں چھانگ پائی کا مطلب ہے ہمیشہ سفید رہنے والا۔یہی وجہ ہے کہ کوہ چھانگ پائی کی بلندو بالا پہاڑی چوٹیوں کی چٹانوں کا رنگ سفید رہتا ہے اور سال  بھر یہ چٹانیں برف  کی سفید  چادر اوڑھے رکھتی  ہیں ۔ کوہ چھانگ پائی اپنے دل کش مناظر اور قدرتی وسائل سے مالامال ہونے کے باعث بہت مشہور ہے۔ شمال مشرقی چین کی بیشتر قیمتی جڑی بوٹیاں  ، جنگلی پھل اور  کھمبیاں یہیں پیدا ہوتی ہیں۔ یہ علاقہ  نایاب جنگی جانوروں مثلاً  شیر اور  لال تاج والے سارس پرندوں  کا آبائی مسکن بھی ہے۔

کوہ  چھانگ پائی کی سیر کرنے والے سیاحوں کے لیےعمدہ سہولیات میسر ہیں۔ پہاڑ کے دامن میں واقع شہر یان جی سے سیاح بس کے ذریعے پہاڑی علاقوں تک پہنچ سکتے ہیں ۔ جہاں مختلف  معیار کے ہوٹلز  اور دوسری بنیادی سہولیات مہیا کی گئی  ہیں۔

 

چین کے مشہور سیاحتی  شہر

 چین کے مختلف علاقوں کے شہروں کی اپنی اپنی تاریخ ، ثقافت اور رسوم و رواج ہیں۔یہ شہر مختلف خصوصیات کے حامل ہیں۔ مثال کے طور پر بیجنگ چین کا دارالحکومت ہے، شانگہائی اقتصادی مرکز  ہے جب کہ  تبت کا صدر مقام لہاسہ اور جنوبی شہر کھون مینگ وغیرہ بھی اقتصادی و تجارتی مراکز ہیں ۔

چین کے  ایک سو سینتیس شہروں کو  قومی سطح  کے مثالی سیاحتی شہر وں کے اعزاز سے نوازا گیا ہے۔ان میں بیجنگ ، شانگہائی،  تھیئن جن ،گوانگ چو، ھانگ چو ، شن جن ، شی آن اور  لہاسہ سمیت دیگر شہر شامل ہیں۔اس کے علاوہ ہاربینگ، چھین تاؤ اور چن چو سمیت دس سے بارہ تاریخی اور ثقافتی شہروں کو بھی مثالی  شہروں کے طور پر منتخب کیا گیا ہے ۔

 

بیجنگ

بیجینگ چین کا دارالحکومت اور  سیاسی و ثقافتی مرکز  ہے۔ ایک قدیم اور  ثقافتی شہر  ہونے کے باعث یہاں سیروسیاحت کے حامل مقامات کی تعداد بہت زیادہ ہے  ۔ سب سے مشہور  مقامات میں گو گونگ یعنی شہر ممنوعہ ، دیوار چین ،  گرمائی محل اور تھیئن آن من اسکوائر شامل ہیں ۔

گو گونگ ایک شاہی محل ہے جسے شہر ممنوعہ بھی کہا جاتا ہے۔یہ محل  چند سو سال پہلے چین کے مینگ اور چھینگ، دو شاہی ادوار میں تعمیر کیا گیا۔  منفرد طرز تعمیر کی بنا  پر گو گونگ اپنی ایک الگ حیثیت رکھتا ہے۔یہ اس وقت عالمی سطح پر محفوظ سب سے بڑی اور  کلی طور لکڑیوں  سے بنائی گئی قدیم عمارتیں ہیں  ۔ محل میں  بنائے گئےمختلف کمروں کی تعداد  نو   ہزار  نو سو  ننانوے  اعشاریہ پانچ ہے ۔ اس  تعداد کی وجہ یہ ہے کہ  چینی افسانوی داستانوں میں کہا جاتا ہے کہ جنت میں شہنشاہ کے محل میں دس ہزار کمرے ہوں گے ۔ لہذا ارضی دنیا میں بادشاہ  نے  آسمانی شہنشاہ کے  احترام  میں  اپنے محل  میں آدھے کمرے  کی کمی کر کے  نو ہزار نو سو ننانوے  اور ایک نصف کمرے کی  تعمیر کرائی  ۔    محل کی سرخ  دیوار یں  اور   سنہری رنگ کی ٹائلیں   اس محل  کی سب سے اہم خصوصیات ہیں ۔

 

دیوار چین

دیوار چین کی کل لمبائی پانچ  ہزار کلومیٹر سے زائد  ہےیہ دیوار   چینی باشندوں نے دو ہزار  برس سے زائد کےعرصے   میں تعمیر  کی ۔ زمانہ قدیم    میں جب  دشمن کی طرف سے حملے  کے آثار  نظر آتے تو پہرےدار   دیوار چین کی مختلف جگہوں پر  قائم چوکیوں کومشعلوں سے روشن کر دیتے   ۔ یوں ایک کے بعد دوسری چوکی  روشن ہوتی جاتی اور دشمن کے بارے میں اطلاع فوجی مرکز تک پہنچ جاتی ۔  پرانے زمانے میں دیوار چین کی تعمیر  کا  مقصد امن و امان کا تحفظ تھا  ۔ ایک طویل دیوار  کی تعمیر سے  ایک طرف اپنی سرزمین کا تحفظ کیا جاتا تھا تو  دوسری طرف  یہ دیوار  بیرونی حملہ آوروں کی راہ میں ایک بہت بڑی رکاوٹ بھی تھی ۔ چینیوں کی نظر  میں  دیوار چین اینٹوں سے بنی صرف ایک دیوار ہی نہیں بلکہ یہ ایک عظیم عالمی تعمیراتی شاہکار بھی ہے ۔

 

نیو جیہ مسجد

بیجینگ  میں اپنے قیام کے دوران  اگر آپ مسجد جا کر باجماعت نماز ادا کرنا چاہتے ہیں تو  ایسا ممکن ہے  ۔ بیجینگ کے مختلف اضلاع میں مساجد  موجود ہیں ۔ بیجینگ  میں سب سے بڑی مسجد نیو جیہ مسجد ہے جو بیجینگ کی قدیم ترین مسجد شمار کی جاتی ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نیو جیہ مسجد عرب اور چینی طرز تعمیر  کا  خوبصورت امتزاج ہے۔ سنہ نو سو چھیانوے عیسوی میں عرب  سے آئے مسلمانوں نے اس  مسجدکی تعمیر شروع کی ۔ مسجد  کی بیرونی ساخت میں قدیم چینی محلات کے فن تعمیر کو عرب طرزِتعمیر  کے  ساتھ ملا کر  اس طرح تشکیل دیا گیا کہ  گویا یہ اس کی چھت اور محر ابیں ہیں۔نیوجیہ مسجد  تقریباً چھ سو مربع میٹر کے رقبے پر محیط ہے جب کہ اس مسجد میں بیک وقت ایک ہزارنمازی نماز ادا کر سکتے ہیں ۔مسجد کی ایک اور  خاص بات اس کاغیر ملکی خدمات کا شعبہ ہے ۔یہ شعبہ نمازیوں اور  یہاں آنے والےسیاحوں کے لئے خدمات فراہم کرتا ہے ۔

چین میں اصلاحات اور کھلی پالیسی کے نفاذ میں پیش رفت کے ساتھ ساتھ  بیجنگ میں دن دگنی رات چوگنی ترقی ہو رہی ہےجب کہ بیجنگ کا شمار دنیا کے سب سے بڑے بین الاقوامی شہروں میں ہوتا ہے۔دو ہزار آٹھ میں بیجنگ میں اولمپیک گیمز کا انعقاد کیا گیا۔ بیجنگ اولمپک گیمز  کےلیے بنائے جانے والےمیدان اور دوسری متعلقہ تنصیبات بھی شہر کے نئے سیاحتی مقامات بن کر سامنے آئے  ہیں۔علاوہ ازیں بیجنگ  آنے والے غیرملکی سیاح ، بیجنگ کی قدیم  گلیوں کی سیر کرنابھی بہت پسند کرتے ہیں جہاں سیاح  بیجنگ کے روایتی رسم و رواج اور  علامتی  رہن سہن سے بھی لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

 

شی آن

 شمال مغربی چین میں واقع شی آن شہر صوبہ شان سی کا صدر مقام ہے ۔ شی آن شمال مغربی چین کا سیاسی، اقتصادی اور آمدورفت کا مرکز بھی ہے ۔چین کی تاریخ میں کل دس شاہی خاندانوں  نے شی آن کو اپنا دارالحکومت بنایا اس لحاظ سے شی آن  چین کے تمام شہروں میں اپنی ایک منفرد حیثیت رکھتا  ہے۔

ایک مشہور کہاوت ہے کہ اگر آپ  گزشتہ بیس برس کے چین کو  دیکھنا چاہتے ہیں تو آپ شن چن شہر جائیں ۔ اگر گزشتہ سو سال کے چین کو دیکھنا مقصود ہو تو  شانگہائی جایا جائے ، ایک ہزار  سالہ  چین کو دیکھنےکے لئے  آپ کو  بیجینگ جانا چاہیے اور اگر   آپ  گزشتہ پانچ  ہزار سالہ  چین کو  دیکھنے کے متمنی ہیں تو  آپ  کو شی آن شہر ضرور دیکھنا پڑے گا ۔ شی آن شہر  دنیا کےاہم قدیم ترین  دارالحکومتوں کے حامل شہروں  یونان کے   ایتھنز    ، اٹلی کے روم اور مصر کے دارالحکومت  قاہرہ  کا ہمعصر  ،قدیم ترین شہرکہلاتا ہے ۔  قدیم دستاویزات کے مطابق  گیارہویں صدی قبل از  مسیح سے دسویں صدی تک بالترتیب  تیرہ شاہی ادوار  میں  شی آن شہر کو صدر مقام  رہنے کا اعزاز حاصل رہا۔  جس کامجموعی دورانیہ گیارہ  سو  دو سال سے  زیادہ  ہے۔ سنہ انیس سو  اکیاسی میں اقوام متحدہ  کے ادارے یونیسکو نے شی آن شہر کو بین الاقوامی  تاریخی  اہمیت کا  حامل شہر  قرار دیا ۔ یہ چین کی تاریخ میں چین اور مغرب کے درمیان ہونے والا  وسیع  ترین  پہلا  اقتصادی و ثقافتی تبادلہ تھا ۔ شاہراہ ریشم  شی آن شہر سے چین کے صوبہ گان سو کے  علاقے تون ھوانگ  سے گزرتی ہوئی جنوبی اور شمالی اطراف کی جانب  سنکیانگ  کو عبور  کر  کے یورپ تک  پہنچی۔اس شاہراہ کی کل لمبائی  سات ہزار  کلومیٹر سے زائد  ہے ۔ شاہراہ  ریشم  کے بننے کے بعد یہ راستہ  گذشتہ ایک ہزار سال سے زائد تک کےعرصے تک چین اور مغرب کے درمیان تبادلوں کا اہم  ذریعہ بنا رہا  ۔

 

تیرا کوٹا

 سنہ انیس سو چوہتر میں مٹی کے بنے ہوئے سپاہیوں  اور گھوڑوں کے  مجسموں کی   بڑی تعداد  دریافت ہوئی  جنہیں تیرا کوٹا کہا جاتا ہے۔ سنہ انیس سو پچہتر میں مقامی حکومت  نے پہلے مقبرے پر  ایک  عجائب گھر   تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ۔چار برس بعد یہ عجائب گھر عوام کے لیے کھول دیا گیا ۔ اس کے فوراً بعد  چھینگ بینگ ما یونگ  یعنی چھینگ شاہی دور  کے مٹی کے بنے ہوئے سپاہیوں اور گھوڑوں  کے مجسموں کو  دنیا کے آٹھویں معجزے کا اعزاز   حاصل  ہوا ۔ مٹی کے بنے ہوئے سپاہیوں اور گھوڑوں  کے مجسمے اپنے وسیع پیمانے ، شاندار  انداز ،  اعلی سائنسی و  فنی معیار   کی وجہ سے  لوگوں کو  اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں ۔شی آن شہر اپنے اس خصوصی عجائب گھر کی بدولت چین کے اہم ترین سیاحتی  شہروں میں سے ایک بن گیا ہے ۔

شی آن چینی مسلمانوں کے گنجان آباد شہروں میں سے ایک ہے ۔ اس لئے اس شہر کی ثقافت میں اسلامی ثقافت کےرنگ نمایاں ہیں۔ یہاں کے  پکوان اس قدر لذیز ہیں کہ ان کا چرچا پورے چین میں ہے۔   یہاں کے کھانوں میں  بکرے کے گوشت کے سوپ میں پکائے جانے والے نان بہت مشہور  ہیں۔  شی آن آنے والے سیاحوں کو  یانگ رو پاو مو نامی ان پکوان کا ذائقہ ضرور چکھنا چاہیے ۔

لہاسہ

لہاسہ چین کے تبت خود اختیار علاقے کا صدر مقام ہے۔ اس کا رقبہ انتیس ہزار باون مربع کلومیٹر ہے۔یہ کوہ ہمالیہ  کے شمالی دامن میں واقع ہے ۔ سال  بھر لہاسہ میں دھوپ  نکلنے کا کل دورانیہ تین ہزار گھنٹوں سے زائد ہے اس لئے اسے دھوپ کا شہر   بھی کہا جاتا ہے۔سطح مرتفع پر واقع  ہونے کی وجہ سے یہ موسم گرما میں سیر و سیاحت کے حوالے سے بہترین مقام ہے۔

لہاسہ کی سطح سمندر سے اوسط بلندی تین ہزار چھ سو میٹر ہے اس لئے یہاں  آکسیجن کی  مقدار میدانی علاقوں کےمقابلے میں تیس فیصد کم ہے۔ یہاں باہر سے آنے والے لوگوں کو عام طور پر  سر درد  سمیت کچھ جسمانی تکالیف بھی محسوس ہوتی ہیں۔تاہم تھوڑی دیر آرام کرنے کے بعد یہ تکالیف دور ہو جاتی ہیں۔

تبتی زبان میں لہاسہ کا مطلب ہے" مقدس جگہ "۔ یہاں  کے باشندے ایک شاندار ثقافت کے امین ہیں ۔ لہاسہ کےمنفرد قومیتی رسم و رواج ، مندروں کی بہتات،جنت نظیر دلکش قدرتی مناظر اور برف پوش سطح مرتفع سیاحوں کو اپنی جانب کھینچتے ہیں ۔ لہاسہ شہر کے شمال مغرب میں واقع  ما بو ری پہاڑ پر ایک محل تعمیر کیا گیا ہےجسے پودالا محل کہتے ہیں۔یہ محل بہترین انداز سے ڈیزائن کیا گیا ہے اور یہ دنیا کا سب سے  بلند جگہ پر بنایا جانے والا محل بھی ہے۔ سنہ انیس سو چورانوے میں پودالا محل کو یونیسکو کی جانب سے عالمی ثقافتی ورثوں کی فہرست میں شامل کیا گیا۔

اس کے علاوہ لہاسہ کے مشہور ترین آثار قدیمہ میں باکوجے نامی سڑک اور تا چاؤ محل بھی شامل ہیں۔


شیئر

Related stories