دور حاضر میں چین کی جدید تعمیرات

2018-01-09 14:35:48
Comment
شیئر
شیئر Close
Messenger Messenger Pinterest LinkedIn

دور حاضر  میں چین کی جدید تعمیرات

برڈ نیسٹ

انیس سو  اسی کے عشرے میں  اصلاحات اور کھلی پالیسی کے نفاذ کے بعد چین کی معاشرتی صورتحال میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئیں  اور چین کی تعمیرات  کا انداز بھی جدید رنگ اختیار کر گیا ۔ عمارتیں زیادہ رنگین اور متنوع ہونے لگیں۔ کچھ اونچی عمارتیں چین کے مختلف شہروں میں  تعمیر کی  گئیں جن کی بلندی دنیا بھرمیں پیش پیش  ہے۔یہ عمارتیں  چین کی اصلاحات کی علا مت بن گئیں ۔ان میں   شانگہائی شہر  کا ورلڈ ٹریڈ سینٹر،  جن ماو ٹاور اور ہانگ کانگ کا انٹرنیشنل  فنانشل  سینٹر  شامل ہیں۔

 

قومی تھیئٹر

یہ قومی تھیئٹر بیجنگ کے مرکز  یعنی تھیان آن من چوک کے پاس  موجود ہے جس کی تعمیر دو ہزار سات میں مکمل ہوئی۔یہ چین کا قومی سطح کا اعلیٰ ترین فنی سینٹر ہے ۔تھیئٹر کی شکل بیضوی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ  جھیل کی سطح پر ایک چمکدار چاند  اترا  ہوا ہو۔

 

برڈ نیسٹ

برڈ نیسٹ یعنی قومی اسٹیڈیم سنہ دو ہزار آٹھ کے اولیمپک گیمز کا مرکزی اسٹیڈیم ہے ۔اس منصوبے کا کل رقبہ اکیس ہیکٹر ہے جب کہ تعمیراتی رقبہ دو لاکھ اٹھاون ہزار مربع میٹر ہے۔اسٹیڈیم کے اندر تقریباً  اکیانوے ہزار نشستیں ہیں ۔ یہاں اولیمپک گیمز ، پیراولیمپک گیمز اور مختلف قسم کے مقابلے منعقد ہوئے تھے۔برڈ نیسٹ کی شکل ایک گھونسلے اور ایک جھولے کی مانند ہے جو نیک خواہشات کی علامت ہے۔

 

واٹر کیوب

برڈ نیسٹ کے ساتھ ساتھ واٹر کیوب نامی تیراکی کا اسٹیڈیم ہے۔واٹر کیوب کی ساخت پانی کے بلبلے جیسی ہے۔اولمپیک گیمز کے بعد یہ بیجنگ کے عام شہریوں کا ایک نیا تفریحی مرکز بن گیا ہے۔

 

مرکزی ٹی وی یعنی سی سی ٹی وی کی نئی عمارت

یہ نئی عمارت بیجنگ کے مشرقی کمرشل علاقے میں واقع ہے  جس کی اونچائی دو سو چونتیس میٹرز ہے۔اس کی شکل انگریزی حرف یو  جیسی ہے اس لئے یہ عجیب و غریب  ڈیزائن لوگوں  کی  توجہ کا مرکز   ہے۔تاہم  ایسے ڈیزائن کی عمارت کی تعمیر میں اعلیٰ ترین تعمیراتی تیکنیکس  اور فنی تصورات کو بروئے کار لایا گیا ہے جو تعمیرات کی تاریخ میں اہمیت کے حامل ہیں ۔ 


شیئر

Related stories