دنیا میں سب سے بڑا تعلیمی نظام

2018-02-06 10:21:47
Comment
شیئر
شیئر Close
Messenger Messenger Pinterest LinkedIn

دنیا میں سب سے بڑا تعلیمی نظام

دنیا میں سب سے بڑا تعلیمی نظام

دنیا  میں چین کی آبادی سب سے زیادہ  ہے اس لئے طالب علموں کی تعداد بھی سب سے زیادہ ہے۔اس وقت چین میں جو تعلیمی نظام   قائم کیا  جا رہا ہے وہ  دنیا  کا سب سے وسیع   تعلیمی نظام ہے فی الحال چین میں کل وقتی یعنی پورا وقت تعلیم حاصل کرنے والوں کی تعداد بیس کروڑ سے زیادہ ہے۔

چین کا تعلیمی نظام  شیر خوار بچوں  کی تعلیم ، پرائمری ، مڈل اور یونیورسٹی  کی سطح  پر مشتمل ہے۔اس میں پرائمری سے مڈل  تک یعنی  نو سال تک مفت تعلیم کا نظام  رائج ہے۔ اس وقت   ملک کے نوے فیصد سے زائدبچے نو سال تک  مفت تعلیم حاصل کرتے ہیں جبکہ چینی حکومت کی کوشش ہے کہ کچھ عرصے کے بعد یہ شرح سو فیصد  تک پہنچا دی جائے۔

حالیہ کچھ عرصے سے چین میں غیر سرکاری تعلیمی اداروں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے تاہم  ملک کے بیشتر  تعلیمی ادارے سرکاری نوعیت کے ہیں۔

 

شیر خوار بچوں کی تعلیم

چین میں چھ سال کی عمر سے چھوٹے بچوں کے لئے تعلیم کو  شیر خوار بچوں کی تعلیم کہا جاتا ہے۔ اس وقت چین میں ان بچوں کی تعداد دس کروڑ کے قریب  ہے  اور  انھیں کنڈرگارڈن  کے ذریعے تعلیم دی  جاتی  ہے۔چین کے تعلیمی اداروں نے  ان بچوں کی عمر، صلاحیت  اور نفسیات کے مطابق  مختلف  سطح کے تعلیمی کورس مرتب کئے ہیں ۔

اس وقت چین میں کنڈرگار ڈن اداروں  کی تعداد ایک لاکھ  کے قریب ہے ۔عام طور پر  تین سے چھ سال تک کی عمر کے چینی بچے  کنڈرگارڈن میں تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔ تاہم فی الحال داخلے کی شرح صرف پچاس فیصد کے قریب ہے۔

چین میں کنڈرگارڈن  کی سطح پر دو قسم کے ادارے ہیں سرکاری اور غیر سرکاری ۔سرکاری کنڈرگارڈن اداروں کی فیس کم ہے ۔ ان اداروں کے پاس بھر پور تجربات  اور تعلیمی وسائل ہیں جبکہ چین کے ساٹھ فیصد  کنڈرگارڈن غیر سرکاری نوعیت کے ہیں جن کی  فیس نسبتاً زیادہ ہے ۔چینی حکومت نے ان غیر سرکاری کنڈرگار ڈن اداروں  کی ترقی کے لئے کچھ ترجیحی پالیسیاں مرتب کی ہیں۔

 

پرائمری تعلیم

چین میں پرائمری تعلیم چھ سال کی عمر سے شروع ہو تی ہے جو مفت فراہم کی جاتی ہے ۔ بچے کے والدین صرف کتابوں کی فیس کے علاوہ کچھ  متفرق فیس ادا کرتے ہیں جبکہ غریب و نادار  بچوں سے فیس نہیں لی جاتی ۔ اس کے علاوہ ان کی دیگر معاملات  زندگی  میں مالی امداد بھی کی جاتی ہے۔

پرائمری سکو ل کی  تعلیم کا دورانیہ چھ سال ہوتا ہے۔ کور س  میں چینی زبان، علم ریاضی،سائنس، غیرملکی زبان، اخلاقیات، موسیقی اور  جسمانی صحت سے متعلق تعلیم شامل ہے ۔تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اس قت چین میں پرائمری سکولوں کی کل تعداد دو لاکھ  ہے اور ان سکولوں میں زیر تعلیم طلبہ کی تعداد دس کروڑ کے قریب  ہے یعنی اس عمر کے اٹھانوے فیصد سے زیادہ  چینی بچوں کو مناسب تعلیمی سہولیات میسر ہیں۔

چین کے بیشتر پرائمری سکول حکومت کے زیر انتظام چلتے ہیں ۔چین میں یہ مسئلہ سامنے آیا ہے کہ ترقی یافتہ  اور پسماندہ علاقوں کے  سکولوں  کے تعلیمی معیار میں  واضح فرق ہے جو غیر منصفانہ تعلیم کے مسئلے کا باعث ہے۔اس مسئلے کے حل کے لئے چینی حکومت  کوشش کر رہی ہے کہ تعلیمی وسائل کی تقسیم کی اصلاح کی جائے تاکہ تمام بچوں کو تعلیم کے یکساں  مواقعے  میسر آ سکیں ۔

 

جونئیر ہائی سکول  کی تعلیم

چین میں جونئیر ہائی سکول تک بھی  تعلیم مفت  فراہم  کی جاتی ہے۔ہر سال طالب علم کو صرف چند سو یوان کی متفرق فیس ادا کرنی پڑتی ہے۔اس سلسلے میں بھی غریب و نادار  طالب علموں کو  حکومت کی طرف سے فیس کی معافی اور  وظائف کی امدادی رقم کی فراہمی  کی سہولیات حاصل  ہیں۔

چین میں جونئیر ہائی سکول  تعلیم کا دورانیہ تین سال ہے۔ کور س میں چینی زبان، علم ریاضی ، غیرملکی زبان، اخلا قیات، آئی ٹی سائنس ، علم کیمیا اور  علم طبعی وغیرہ شامل ہیں۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اس و قت چین میں جونئیر ہائی سکولوں  کی کل تعداد پچاس ہزار  ہے اور ان سکولوں کے طالب  علموں کی تعداد  پانچ  کروڑ کے  قریب  ہے۔یعنی اس عمر کے نوے فیصد سے زائد  چینی بچوں کو مناسب تعلیمی سہولیات میسر  ہیں۔بیشتر چینی جونئیر ہائی سکول سرکاری نوعیت کے ہیں۔

جونئیر ہائی سکول  کی تعلیم مفت ہے اس لئے  پرائمری سکول سے جونیئر سکول میں داخلے کے لئے امتحان کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ عام طور پر  طالب  علم اپنے گھر کے نزدیکی سکول کا انتخاب کرتے ہیں۔دیہی علاقوں  کے کچھ اچھے سکولوں میں طالب علموں کورہائشی سہولتیں بھی دی جاتی ہیں تاکہ دور  افتادہ علاقوں کے رہانے والے بچے بھی اچھے طریقے سے تعلیم حاصل کر سکیں۔اس کے ساتھ ساتھ چینی حکومت انٹرنیٹ کے ذریعے تعلیم دینے کا نظام  قائم کر رہی ہے تاکہ  تمام بچےمساوی طور پر تعلیمی وسائل سے استفادہ کر سکیں۔

 

سنیئر ہائی سکول کی  تعلیم

چین کے سنیئر ہائی سکول کےتعلیمی نظام میں معمول کے سنیئر ہائی سکول کے علاوہ بالغوں کے لئے ہائی سکول، پیشہ ورانہ ہائی سکول اور  درمیانے درجے کے  پیشہ ورانہ سکول شامل ہیں۔ سنیئر ہائی سکول  کی تعلیم مفت نہیں ہو تی ۔ہر طالب علم کو   سالانہ ہزار وں یوان فیس ادا کرنی پڑتی ہے۔

سنیئر ہائی سکول کی  تعلیم کا دورانیہ بھی تین سال ہے۔ کورس میں چینی زبان، علم ریاضی ، غیرملکی زبان، آئی ٹی سائنس ، علم کیمیا اور  علم طبعیات وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اس وقت چین میں سنیئر  ہائی سکولوں  کی کل تعداد تیس  ہزار  ہے اور ان سکولوں کے طالب علموں کی تعداد  چار  کروڑ کے  قریب ہے یعنی اس عمر کے اسی فیصد سے زیادہ  چینی نوجوانوں کو مناسب تعلیمی سہولیات میسر ہیں۔بیشتر چینی سنیئر ہائی سکول سرکاری نوعیت کے ہیں۔سنیئر ہائی سکول میں داخلے کے لئے امتحان لازمی ہوتا ہے۔طالب علم امتحان میں اپنے  حاصل کردہ پوائنٹس کے مطابق اپنی پسند کے سکول کا انتخاب کرتے ہیں۔

 

اعلیٰ تعلیم

چین کے اعلیٰ تعلیمی نظام میں جونیئر کالج، انڈَر گریجویٹ،ماسٹر اور ڈاکٹر  یٹ سمیت چند  سطح کی  تعلیم شامل ہے۔اعلیٰ تعلیمی اداروں میں  عام یونیورسٹیوں کے علاوہ اعلیٰ پیشہ ورانہ سکول،فاصلاتی نظام تعلیم اور بالغوں کے لئے اعلیٰ تعلیمی ادارے موجود ہیں۔

چین میں اعلیٰ تعلیم کی تاریخ ایک سو  سال پرانی ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اس وقت چین میں کل دو ہزار اعلیٰ تعلیمی ادارے ہیں جن میں طالب علموں کی تعداد دو کروڑ سے زائد ہے۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلے کے لئے امتحان  پاس  کیا جاتا ہے۔طالب علم امتحان میں اپنے  حاصل کردہ پوائنٹس کے مطابق اپنی پسند کےسکول کا انتخاب کرتے ہیں۔چین کی وزارت تعلیم اور مختلف صوبوں کے محکمہ تعلیم مشترکہ طور پر امتحان کا بندوبست کرتے ہیں ۔ پھر مختلف یونیورسٹیاں اور کالج  خود اپنے ادارےمیں داخلے کا معیار  مقررکرتے ہیں۔اس وقت چین کے بیشتر  اعلیٰ تعلیمی ادارے سرکاری نوعیت کے ہیں۔ تاہم  حالیہ برسوں سے ملک میں غیر سرکار ی  اعلیٰ تعلیمی اداروں نے خوب ترقی کی ہے  جس کے باعث سرکاری اداروں کے ساتھ مسابقت کی   فضا  پیدا ہوئی ہے۔دوسری طرف زیادہ سے زیادہ چینی طالب  علم ترقی یافتہ ملکوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواہاں ہیں اس لئے چین کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کو  سنگین  چیلنجز درپیش ہیں۔اس وقت کچھ چینی یونیورسٹیاں ترقی یافتہ ملکوں کے مشہور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے تعاون   سےچین میں باہمی اشتراک سے اعلیٰ تعلیمی ادارے قائم کر رہی ہیں تاکہ چینی طالب علم اپنے ملک میں ہی دنیا کے بہترین تعلیمی وسائل سے فائدہ اٹھا سکیں۔

 

دیگر معاشرتی تعلیمی ادارے

مذکورہ بالا رسمی تعلیمی نظام کے علاوہ چین میں مختلف اقسام کے خصوصی تعلیمی ادارےموجود ہیں جو  مختلف عمر  کے لوگوں کو اپنی پسند کے مطابق   مخصوص تعلیم اور تربیت دیتے ہیں۔ان اداروں میں کم عمر بچوں کے ثقافتی سینٹر اور انٹرنیٹ پر چلنے والے تعلیمی کورس  وغیرہ شامل ہیں۔چینی بچے ان ثقافتی سنیٹر میں اپنی پسند کےمطابق موسیقی، رقص اور  مصوری وغیرہ  کی فنی تربیت حاصل کر  سکتے ہیں اور سائنس و ٹیکنالوجی   سے متعلق  مطالعہ اور ریسرچ کی سرگرمیوں میں حصہ لے سکتے ہیں ۔

 

سنیئر ہائی اسکول میں داخلے کا امتحان

سنیئر ہائی سکول میں داخلے کے امتحان میں چینی زبان کے علاوہ غیرملکی زبان، علم ریاضی ، علم طبعیات اور علم کیمیا  کے امتحانات شامل ہیں۔یہ امتحان عام طورپر  ماہ   جون میں منعقد ہوتا ہے۔ امتحان میں زیادہ سے زیادہ نمبر  حاصل کرنے کے بعد ہی کسی  اچھے سنیئر ہائی سکول میں داخلے کا موقعہ مل سکتا ہے۔  اسی طرح سے یونیورسٹی  میں داخلے کے امتحان میں کامیابی حاصل کرنے کا امکان بھی  بڑھ  جاتا ہے۔ اس لئے چینی طالب علم اس امتحان کو بڑی اہمیت دیتے ہیں ۔چین کے نوے فیصد طالب علم یہ امتحان پاس کرکے ہائی سکول میں داخل ہو  تے ہیں۔

 

یونیورسٹیوں میں داخلے کا امتحان

یونیورسٹیوں میں داخلے کے امتحانات کے تمام پیپر  اور سوالات وزارت تعلیم  اور مختلف صوبوں کے محکمہ تعلیم  مرتب کرتے ہیں۔ یہ امتحان ہر سال سات جون سے شروع ہوتا ہے اور دو سے تین دن جاری رہتا ہے۔

اس  امتحان میں چینی زبان، علم ریاضی اور غیرملکی زبان کے امتحانات لازمی ہوتے ہیں اس کے علاوہ مختلف علاقوں کے امتحان میں کچھ  آپشنل یعنی اختیاری امتحانات بھی ہوتے ہیں مثلاً آرٹ کے امتحانات، سائنس کے امتحانات وغیرہ۔

یونیورسٹیوں میں داخلے کا امتحان طالب علموں کے مستقبل کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اس لئے چین میں اس امتحان پر  بڑی توجہ دی جاتی ہے۔اس وقت اس امتحان میں حصہ لینے والے پچاس فیصد سے زائد طالب علموں کو اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلہ مل  جاتا ہے جبکہ  تعلیم کے لٖحاظ سے کچھ ترقی یافتہ علاقوں میں یہ شرح ستر تا اسی فیصد  تک پہنچ  چکی ہے۔

یونیورسٹیوں کے علاوہ  چین میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے کچھ دیگر ذرائع بھی موجود ہیں  جن کی ڈگری بھی تسلیم کی جاتی  ہے۔مثلاً ای سی ٹی نامی امتحان،طالب علم رسمی سکول کی بجائے ازخود تمام کورس سیکھنے کے بعد اس امتحان میں شرکت کے ذریعے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا موقعہ حاصل کر سکتے ہیں۔

گریجویٹ کے لئے امتحان

چین میں گریجویٹ تعلیم  کے لئے  داخلے کے  امتحان  کے  دو حصے ہیں   ایک ہے ماسٹر  کی ڈگری  کا اور دوسرا ڈاکٹر کی ڈگری کا۔ماسٹر ڈگری کا امتحان  تحریر ی اور زبانی دو حصوں پر مشتمل ہوتا  ہے۔طالب علم پہلے تحریری امتحان میں حصہ لیتا ہے اور پھرمطلوبہ پوائنٹس حاصل کرنے کے بعد   ہی وہ زبانی امتحان میں حصہ لینے کا حق دار ہوتا ہے۔ اس امتحان کے لئے تمام سوالات وزارت تعلیم براہ راست مرتب کرتی ہے۔

ڈاکٹر کی ڈگری  کے امتحان کے سوالات مختلف یونیورسٹیاں اور  تحقیقی ادارے  خود ہی مرتب کرتے ہیں۔صرف ماسٹر ڈگری کے حامل طلبہ ہی اس امتحان میں  حصہ لے سکتے ہیں۔

حالیہ برسوں سے چین میں روزگار  کے ابتر  حالات کے باعث گریجویشن کے  امتحان میں حصہ لینے والوں کی تعدادمیں خوب اضافہ ہوا جس کے نتیجےمیں امتحان میں کامیابی کی شرح کسی حد تک گھٹ گئی ہے۔

پیشہ ورانہ سرٹیفکٹ کے لئے امتحان

چین میں  بہت زیادہ پیشے اپنانے کے لئے پیشہ ورانہ سرٹیفکٹ کی ضرورت ہوتی ہے یوں سرٹیفکٹ کے حصول کے لئے  طرح طرح کے امتحانات منعقد ہوتے ہیں۔ان میں غیرملکی زبانوں کے امتحان، کمپیوٹر کی صلاحیت کے امتحان، رقص و موسیقی کے امتحان اور قانون،اکاؤنٹنگ سمیت مختلف پیشوں کے امتحان شامل ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ کچھ  پیشوں کے لئے بین الاقوامی سرٹیفکٹ کے امتحانات بھی چین میں  لئے جارہے ہیں۔


شیئر

Related stories