سنکیانگ ویغور خود اختیار علاقہ

2018-05-21 14:53:23
Comment
شیئر
شیئر Close
Messenger Messenger Pinterest LinkedIn

سنکیانگ  ویغور خود اختیار علاقہ

سنکیانگ  ویغور خود اختیار علاقہ


سنکیانگ  ویغور خود اختیار علاقے کا مختصر جائزہ

سنکیانگ ویغور خوداختیار علاقے  کو مختصر طور پر سنکیانگ کہا جاتا ہے ۔یہ چین کے شمال مغرب میں یوریشیا  براعظم کے مرکز میں واقع ہے ۔سنکیانگ کا کل رقبہ سولہ لاکھ چونسٹھ ہزار چار سو مربع کلومیٹر ہے۔ آٹھ ممالک سے ملحقہ یہ صوبہ رقبے کے اعتبار سے چین کا سب سے بڑا صوبہ ہے ۔مشرق سے مغرب تک سنکیانگ بالترتیب منگولیا ، روس ، قازقستان ، کرغزستان ، تاجکستان، افغانستان ، پاکستان اور بھارت سے ملحقہ ہے ۔اس کی سرحدی لائنوں کی  کل لمبائی پانچ ہزار چھ سو کلومیٹر  سے زائد بنتی ہے ۔سنکیانگ چین کا سب سے زیادہ ممالک  سے ملحقہ سب سے زیادہ بیرونی  خشک گودیوں کا حامل  اور سب سےطویل  سرحدی لائن  والا صوبہ ہے ۔

سنکیانگ چین کی اقلیتی قومیتوں کے پانچ خوداختیار علاقوں میں سے ایک ہے ۔اس میں ویغور ، قازق، ہوئی ، کرغز ، ، منگولیائی اور ہان سمیت تیرہ قومیتوں کے باشندے آباد ہیں ۔سنکیانگ کی کل آبادی  تقریباً  دو کروڑ تیئس لاکھ  نفوس پر مشتمل ہے جن میں اقلیتی قومیتوں کی آبادی کا تناسب تقریباً ساٹھ فیصد  بنتاہے ۔

 

جغرافیہ

سنکیانگ سمندر سے دور ایشیا کے مرکز میں واقع ہے ۔اس کے چاروں اطراف بلندو بالا پہاڑی سلسلےہیں۔شمال سے جنوب تک بالترتیب ارٹائی پہاڑی سلسلہ ، تھیان شان اور، کھون لون  پہاڑ ی سلسلے پھیلے ہوئے ہیں ۔پہاڑوں کے درمیان جونگور بیسن اور طالمور بیسن ہیں ۔عام طور پر لوگ تھیان شان پہاڑ ی سلسلے سے جنوب کی جانب حصے کو جنوبی  سنکیانگ ، تھیان شان کے شمال  کی جانب حصے کو شمالی سنکیانگ جبکہ ہامی اور تورپان بیسن کی جانب  کےحصے کو مشرقی سنکیانگ کہتے  ہیں ۔

چین کا دو تہائی صحرا ئی علاقہ سنکیانگ میں واقع ہے ۔جنوبی سنکیانگ  کے تکلی مکان   صحرا کا رقبہ تین لاکھ تیس ہزار مربع کلومیٹر ہے جو چین کا سب سے بڑا صحر اہے اور  یہ دنیا کا دوسرا رواں صحر ا ہے شمالی سنکیانگ کے علاقے جونگور بیسن میں گربان تونگت  صحرا چین کا دوسرا بڑا صحرا ہے جس کا رقبہ اڑتالیس ہزار مربع کلومیٹر  بنتا ہے ۔یہ صحرا  تیل ، قدرتی گیس اور معدنیات کی دولت سے  مالامال وسائل کا علاقہ ہے ۔صحرا اور پہاڑ کے اطراف میں کئی دریا ، جھیلیں اور نخلستان پھیلے ہوئے ہیں ۔سنکیانگ کے تمام شہر اور قصبے ان نخلستانوں  میں واقع ہیں ۔

سنکیانگ کی آب و ہوا معتدل  یا نیم معتدل  ہے۔یہاں ہونےوالی بارش کی سالانہ اوسط   مقدار ایک سو پینسٹھ اعشاریہ چھ  ملی میٹر ہے ۔تاہم اس خطےمیں برف پوش پہاڑوں اور برفانی چوٹیوں  سے منفرد قدرتی نمکین  آبی ذخیرے کی تشکیل ہوئی ۔ اس خطے میں گلیشئیر  اکیس کروڑ تیس لاکھ مکعب میٹر کے علاقے پر پھیلے ہوئے ہیں ۔پہاڑوں سے پگھلنے والی برف سے متعدد  دریا اور جھیلیں وجود میں آئیں جن  کا آبی رقبہ پانچ ہزار پانچ سو پانچ مربع کلومیٹر بنتا ہے۔ان میں بوستن جھیل   کا رقبہ تقریباً ایک ہزار مربع کلومیٹر ہےجو چین کی اندرونی زمین میں میٹھے پانی  کی سب سے بڑی جھیل ہے۔ 

سنکیانگ کے مشرق میں واقع ترپان بیسن کی آئی دنگ جھیل سطح سمندر سے ایک سو چون میٹر نیچے ہے۔یہ چینی سر زمین کا انتہائی نچلا حصہ ہے۔تارم بیسن کے علاقے میں  تارم دریا کی کل لمبائی دو ہزار ایک سو کلومیٹر بنتی ہے جو چین کی اندرونی سر زمین کا سب سے لمبا دریا ہے۔ سنکیانگ میں آبی وسائل کی دستیابی کی فی کس اوسط مقدار چین میں پیش پیش ہے ۔

سنکیانگ میں مختلف موسموں اور مختلف علاقوں میں آبی وسائل کی صورتحال بھی مختلف ہے۔ یہاں سردیوں اور گرمیوں کے درجہ حرارت میں فرق بہت زیادہ ہے۔سنکیانگ کے علاقے التائی میں چین کا سب سے کم درجہ حرارت ریکارڈ کیا جا چکا ہے۔ جب کہ ترپان کا علاقہ چین میں  سب سے زیادہ  درجہ حرارت کا حامل  علاقہ ہے ۔

 

تاریخ

سنکیانگ کو قدیم زمانے میں "مغربی علاقے"کے طور پر جانا جاتا ہے ۔دو ہزار  سال سے زائد کے عرصے سے یہ چین کا ایک حصہ  چلا آ رہا ہے ۔ساٹھ قبل از مسیح میں ہان شاہی خاندان نے سنکیانگ پر  براہ راست حکمرانی شروع کی۔اس کے بعد ایک ہزار سے زائد برسوں میں سنکیانگ  کےعلاقے کے سرکاری ادارے چین کی مرکزی حکومت کی طرف سے قائم کئے جا رہے ہیں ۔

تین سو سال قبل چھینگ شاہی خاندان کی مرکزی حکومت سنکیانگ کے تمام علاقوں پر حکمرانی کرنے لگی سنہ اٹھارہ سو چوراسی میں سنکیانگ کو صوبے کا درجہ دیا گیا ۔یوں اندرونی چین کے مختلف صوبوں کے درمیان روابط بھی مزیدقریبی ہونے لگے۔

ستمبر سنہ انیس سو انچاس میں سنکیانگ میں پرامن طریقے سے آزادی کا اعلان ہوا ۔اسی سال یکم اکتوبر کو عوامی جمہوریہ چین کا قیام عمل میں آیا اورسنکیانگ دوسرے صوبوں کی طرح چین کا ایک خوداختیار علاقہ بن گیا ۔

 

توانائی کا منبع

سنکیانگ میں تیل ، قدرتی گیس ، کوئلہ ، چٹانی تیل اور یورینیم سمیت پانچ اقسام کی معدنیات موجود ہیں۔ ان معدنیات میں تیل ، قدرتی گیس اور کوئلے کے ذخائر سنکیانگ میں وافر  مقدار میں موجود ہیں ۔ یہاں کوئلے کے   ذخائر کی متوقع مقدار اکیس کھرب نوے ارب ٹن ہے جو پورے ملک کا چالیس فیصد بنتا ہے ۔ تیل کے ذخائر کی متوقع مقدار تیئس ارب چالیس کروڑ ٹن ہے جو چین کے ارضیاتی ذخائر کاتیس فیصد ہے۔ سنکیانگ میں قدرتی گیس کے ذخائر کی متوقع مقدار ایک سو تیس کھرب مکعب میٹر ہے جو چین کے ارضیاتی  ذخائر کا چونتیس فیصد بنتا ہے ۔  دو ہزار چار میں سنکیانگ کی قدرتی گیس کو مشرقی چین کے شہر شنگھائی اور آس پاس کے علاقوں تک پہنچانے کا ایک منصوبہ مکمل ہوا  ۔

سنکیانگ کے وسیع آبی توانائی کے وسائل برف پگھلنے کی بدولت ممکن ہوئے ہیں۔یہاں دستیاب آبی وسائل کا علاقہ پورے چین کا تین فیصد بنتا ہے ۔اس علاقے میں پانچ سو ستر چھوٹے بڑے دریا بہتے ہیں ۔زمینی  سطح کے پانی کے بہاؤ کی سالانہ مقدار اٹھاسی ارب چالیس کروڑ مکعب میٹر ہے ۔  یہاں کےآبی وسائل کے ذخائر کی کل مقدار  اڑتیس ہزار ایک سو اٹہتر اعشاریہ سات میگاواٹ ہے ۔جو سالانہ اکہتر ارب پچیس کروڑ نوے لاکھ کلوواٹ گھنٹے  کی بجلی فراہم  کر سکتا ہے ۔

سنکیانگ سمندر سے دور اندرونی علاقے میں واقع ہے ۔ یہاں موسم عام طور پر خشک رہتا ہے اور بارشیں بھی کم ہوتی ہیں ۔خوشگوار موسم کے باعث  یہ علاقہ  شمسی توانائی کے وسائل سے مالامال ہے ۔ یہاں سال بھر سورج نکلنے کا   دورانیہ تقریباً دو ہزار پانچ سو پچاس سے تین ہزار پانچ سو    گھنٹے بنتا ہے ۔ تابکاری کی  کل سالانہ مقدار پانچ ہزار چار سو تیس سے چھ ہزار چھ سو ستر MJ      فی مربع میٹر ہے جو چین میں دوسرے نمبر پر ہے۔

سنکیانگ کے چاروں اطراف پہاڑ ہی پہاڑ ہیں جو ہوا کی  توانائی کےوافر وسائل کی  تشکیل میں مدد دیتے ہیں۔ یہاں ہوا کی  قابل دریافت  توانائی کی مقدار تقریباً دو کروڑ میگاواٹ ہے ۔ توانائی کے کل ذخائر کی مقدار تقریباً نو کھرب دس ارب کلوواٹ گھنٹے  ہے۔دا بان چھنگ میں چین میں ہوا سے بجلی پیدا کرنے والا سب سے بڑا اسٹیشن موجود ہے ۔

 

معیشت

معیشت کا ایک جائزہ

حالیہ برسوں میں سنکیانگ کی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے ۔سنہ دو ہزار دس میں سنکیانگ کے علاقے میں جی ڈی پی کا حجم پانچ کھرب  چینی یوان سے تجاوز کر گیا ۔سنہ دوہزار بارہ میں سنکیانگ میں جی ڈی پی  کا حجم  سات کھرب ترپن ارب چینی یوان سے زیادہ  بنا۔سنکیانگ میں فی کس پیداواری مالیت  تنتیس ہزار نو سو چینی یوان رہی۔

 

صنعت

اس وقت سنکیانگ کی صنعت تیزی سے ترقی کر رہی ہے ۔لوہے ، کوئلے ، تیل ، مشینری، کیمیائی صنعت ، تعمیراتی مواد،ٹیکسٹائل، چینی سازی ، کاغذ سازی ،چمڑے  اور تمباکو سمیت مکمل صنعتی نظام قائم ہوا ہے۔سنکیانگ میں مختلف اقسام کے ساٹھ ہزار صنعتی ادارے موجود ہیں۔سنہ دو ہزار بارہ میں سنکیانگ میں صنعتی اضافی مالیت (ویلیو ایڈڈ) دو کھرب بانوے ارب چینی یوان سے تجاوز کر گئی۔

حالیہ برسوں میں سنکیانگ چین کا توانائی اور وسائل  کے اعتبار سے اہم ترقیاتی علاقہ ہے۔اہم صنعتی منصوبوں کی تعمیر سے معیشت کو خوب فروغ ملا ہے ۔سنہ دو ہزار بارہ میں سنکیانگ میں کل تین سو ستاسی اہم صنعتی منصوبے زیر تعمیر ہیں  یا تعمیر کئے جائیں گے ۔

 

زراعت

سنکیانگ میں سورج کی روشنی اور زمین کے وافر وسائل موجود ہیں ۔یہاں زرعی میدان کا رقبہ چھ کروڑ تیس لاکھ اسی ہزار ہیکٹر بنتا ہے جس میں کھیتوں کا رقبہ اکتالیس لاکھ دس ہزار ہیکٹر ہے۔کھیتوں کا فی کس رقبہ پورے ملک کے اوسط معیار کے دو اعشاریہ ایک گنا کے برابر ہے۔عمدہ آبی وسائل کے حامل علاقے میں نخلستان کی زراعت کو فروغ دیا جاتا ہے ۔سنکیانگ کی اہم زرعی فصلوں میں گندم ، مکئی اور چاول شامل ہیں۔معاشی لحاظ سے اہم فصلوں میں کپاس ،چقندر اور Humulus lupulus    وغیرہ  شامل ہیں۔سنہ دو ہزار بارہ میں سنکیانگ میں خوراک کی پیداوار ایک کروڑ ستائیس لاکھ تیس ہزار ٹن تھی۔سنکیانگ میں کپاس کی پیداوار چین میں کلیدی اہمیت رکھتی ہے ۔

سنکیانگ متنوع پھلوں کی وجہ  سے مشہور ہے ۔یہاں  کےعام پھلوں میں انگور ، تربوز ،سردا، سیب ، ناشپاتی ، خوبانی،آڑو،انار، شاہ دانہ ،انجیر، اخروٹ اوربادام شامل ہیں۔ترپان میں انگور اور سردابہت میٹھے ہوتے ہیں ۔سنہ دو ہزار بارہ میں سنکیانگ میں پھلوں کی پیداوار ایک کروڑ بائیس لاکھ بیس ہزار ٹن تک جا  پہنچی تھی ۔

سنکیانگ میں زرعتی مشینری کا معیار  نسبتاً بلند ہے ۔حالیہ برسوں میں سنکیانگ میں ٹماٹر ، چقندر، گاجرسمیت  دیگر خام مال کی بنیاد پر  زرعتی صنعتی سلسلے وجود میں آئے ہیں ۔

 

مویشی بانی

سنکیانگ میں مویشیوں کی  بہت  سی اقسام پائی جاتی ہیں۔ یہ چین میں مویشی بانی کا ایک اہم علاقہ ہے۔سنکیانگ میں قدرتی سبزہ زار کا کل رقبہ پانچ لاکھ ستر ہزار مربع کلومیٹر ہے۔قدرتی سبزہ زار  نے سنکیانگ میں مویشی بانی کی ترقی  کی بنیاد رکھی ۔یہاں پالے جانے والے گھوڑے  بہت مشہور ہیں ۔پالتو جانوروں میں بھیڑیں ، بکرے ، گدھے ، خچر، اونٹ اور یاک وغیرہ شامل ہیں۔سنکیانگ میں بکرے کے گوشت کی  پیداوار چین میں دوسرے نمبر پر ہے۔ یہاں سنہ دو ہزار بارہ کے آواخر تک پالے جانے والے جانوروں کی کل تعداد چار کروڑ تنتیس لاکھ تیس ہزار تھی ۔

سنکیانگ چین میں مویشی بانی کی نئی انواع  کی افزائش کا مسکن ہے۔اب یہاں عمدہ کھال کی حامل  بھیڑ یں، چینی merino    ، Karakul      بھیڑ، بھوری گائے اور ای لی گھوڑوں سمیت خودتخلیق کردہ انواع بھی  موجود ہیں ۔یہ انواع منفرد حیاتیاتی خصوصیات اور اعلیٰ اقتصادی مالیت کی حامل ہیں جو چین میں مویشی بانی کے قیمتی وسائل اور نسلیں ہیں۔ 

 

خاص صنعت

سنکیانگ میں شربت ، دودھ سے بننے والی اشیاء، روزمرہ استعمال کا کیمیائی مواد ،مصالحہ جات ، قیمتی پتھروں کی مشینیں،چینی سازی اور اقلیتی قومیتوں کےاستعمال کی اشیاء سمیت دس سے بارہ صنعتیں موجود ہیں۔ٹماٹر، انگور ، چقندر سمیت اشیاء کا استعمال کرنے والی صنعت خاص اعلیٰ  پیمانے تک پہنچ چکی ہے۔علاوہ ازیں یہاں کی  دودھ سے بنی ہوئی اشیاء بھی بہت مقبول ہیں ۔


شیئر

Related stories