چین چاند کے تاریک حصے پر پہنچنے والا پہلا ملک بن گیا

2019-01-04 20:24:57
Comment
شیئر
شیئر Close
Messenger Messenger Pinterest LinkedIn

تحریر زبیر بشیر


چین کے چھانگ عہ فور تحقیقی مشن کے ساتھ جانے والے روبوٹ یوتو- ٹو نے جمعرات تین جنوری کی شب خلائی گاڑی سے علیحدہ ہونے کے بعد چاند کے تاریک حصے پر اتر کر ایک نئی تاریخ رقم کردی۔

چین چاند کے تاریک حصے پر پہنچنے والا پہلا ملک بن گیا

چائنا نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن کی جانب سے جاری کئے گئے بیان کے مطابق چاند گاڑی چھانگ عہ فور رات دس بج کر چوالیس منٹ پر چاند کے تاریک حصے پر اتری اور چاند کے اس حصے پر پہلی بار اپنے نشان ثبت کئے۔ اس تمام کارروائی کو چاند گاڑی پر موجود کیمروں کی مدد سے محفوظ کر لیا گیا۔

یہ تصاویر مواصلاتی سیٹلائیٹ چوئے چیاو کے ذریعے زمین کی جانب ارسال کی گئیں۔ بیجنگ میں قائم کنٹرول روم نے بیجنگ کے مقامی وقت کے مطابق علی الصبح تین بج کر سات منٹ پر یوتو-ٹو کو چاند گاڑی سے الگ ہونے کے احکامات جاری کئے۔

چین چاند کے تاریک حصے پر پہنچنے والا پہلا ملک بن گیا

احکامات ملتے ہی یوتو- ٹو نے اپنے سولر پینل پھیلائے اور آہستگی سے اپنے مرکزی نظام کو حرکت دینا شروع کی تو ساتھ ہی چاند گاڑی نے اس روبوٹ کو چاند کی سطح پر اترنے کے لئے معاونت فراہم کرنے کے لئے ڈھلانی راستہ بچھا دیا۔

اس سارے نظام کے حرکت میں آتے ہی یوتو- ٹو چاند کے تاریک حصے کا معائنہ کرنے کے لئے چاند کی سطح پر اتر گیا ۔ یوں چین کی جانب سے روانہ کیا گیا یہ مشن انسان کی جانب سے چاند کے اس حصے کی جانب پہنچنے والا پہلا مشن بن گیا۔

چین کی جانب سے چاند کے اس حصے پر پہنچنے کے لئے پہلی باقاعدہ کوشش سن 2013 میں بھیجے جانے والے مشن چھانگ عہ تھری کے ذریعے کی گئی تھی۔ چھانگ عہ تھری چین کا وہ پہلا مشن تھا جو اپنے ساتھ ایسے اجسام کو لے جانے کی صلاحیت رکھتا تھا جو چاند پر اتر کر باقاعدہ کوئی کام سر انجام دے سکیں۔


چھانگ عہ قدیم و جدید کا حسین امتزاج

چین کی روائتی دیو مالائی داستانوں کے مطابق چھنگ عہ چاند کی دیوی ہے جو چاند پر رہتی ہے۔ آج کے جدید دور میں چھانگ عہ چین کی جانب "چاند پر تحقیق کے لئے روانہ کئے جانے والے مشن کا نام ہے۔

آپ کی دلچسپی کے لئے کچھ تذکرہ کر کرلیتے ہیں دیو مالائی کردار چھانگ کا اور پھر بات کریں گے چین کی خلائی تحقیق کے حوالے سے۔

چین چاند کے تاریک حصے پر پہنچنے والا پہلا ملک بن گیا


چھانگ عہ چاند کی دیوی

چھانگ عہ نقرئی رنگ کی ایک خوبصورت لڑکی تھی جو آسمانوں کے شہنشاہ یو ہوانگ کے دربار میں کام کرتی تھی۔ وہ محل کے جس حصے میں رہتی تھی وہ حصہ پریوں کے لئے مختص تھا۔ ایک دن ایک نہایت قیمی اور خوبصورت چینی کا بنا ہوا مرتبان اس سے ٹوٹ گیا۔ سزا کے طور اسے زمین پر عام انسانوں کےساتھ رہنے کے لئے بھیج دیا گیا۔ اپنے نئے روپ میں اس نے ایک غریب گھر میں جنم لیا۔

وہ ایک دلکش اور خوبصورت لڑکی تھی ایک دن اس کی ملاقات اس وقت کے ایک مشہور تیر انداز "ہو ای" سے ہوئی دونوں ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو گئے اور دونوں کی شادی ہوگئی۔ ایک مرتبہ آسمان پر دس سورج طلوع ہوگئے۔ لوگ ان سورجوں کی گرمی اور تمازت کو برداشت نہیں کر پا رہے تھے۔ اس وقت کے شہنشاہ نے "ہو ای " کو حکم دیا کہ وہ تیر سے نشانہ لگا کر لوگوں کو ان سورجوں سے نجات دلائے۔ ہو ای نے کامیابی سے نشانہ لگایا اور نو سورج تباہ کردئیے۔ انعام کے طور پر ہو ای کو آب حیات دیا گیا۔ اس نے اسے پینے کی بجائے اپنے گھر میں چھپا کر رکھ دیا کہ وہ اسے اپنی بیوی چھانگ عہ کے ساتھ پینا چاہتا تھا۔

قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ہو ای کا ایک نہایت قریبی ساتھی فینگ مینگ جو کہ اس کی تیراندازی اور شہرت سے بہت جلتا تھا ہو ای کی غیر موجودگی میں اس کے گھر آیا اور اس نے چھانگ عہ کو کہا وہ آب حیات اسے دے دے۔ چھانگ عہ، فینگ مینگ کے ارادوں کو بھانپ چکی تھی اس نے جلدی سے سارا آب حیات خود ہی پی لیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس وزن بالکل ہلکا ہوگیا اور ہواوں میں اڑنے لگی ،اڑتے اڑتے وہ چاند تک پہنچ گئی اور اس نے چاند پر موجود ایک محل میں اپنا بسیرا کر لیا۔

جب ہو ای کو اس حقیقت کا پتہ چلا تو اسے بہت دکھ ہوا۔ اس نے چھانگ عہ کے پسندیدہ پھل جمع کئے اور اس کی یاد میں ایک دعائیہ تقریب کا اہتمام کیا۔ آج بھی چین میں مڈ آٹم فیسٹیول یا مون فیسٹیول محبت کی اسی داستان کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ لاکھوں چینی بچے ہزاروں سال سے اس داستان کو سن کر بڑے ہوئے ہیں۔

جدید دور میں چھانگ عہ کا خلائی حوالہ

چھانگ عہ کا تذکرہ چاند پر جانے والے 1969 کےمشن اپالو11 کے ارکان اور ہوسٹن میں خلائی کنٹرول روم کے اہلکاروں کے درمیان گفتگو میں بھی ہوا۔ کنٹرول روم نے اپالو 11 کے اراکین جن میں نیل آرمسٹرانگ ، بز ایلڈرن اور مائیکل کولنز شامل تھے ان کو ازراۃ تفنن بتایا کہ چاند پر ایک خوبصورت لڑکی چھانگ عہ موجود ہے اور اس کے ساتھ وہاں ایک خرگوش بھی موجود ہے۔ اس دوران کنٹرول روم نے چھانگ عہ کے لافانی زندگی حاصل کرنے کی مختصر داستان بھی سنائی۔ جواباً اپالو 11 سے آواز آئی ہم ضرور نظر رکھیں گے اور جیسے ہی وہ لڑکی نظر آئی ہم کنٹرول روم کو آگاہ کریں گے۔

چین چاند کے تاریک حصے پر پہنچنے والا پہلا ملک بن گیا

چینی عزم

چین کے لوگ چھانگ عہ سے بہت محبت کرتے ہیں۔ میرے خیال میں ان کے ذہن میں اپالو 11 کے ارکان کی یہ گفتگو کسی نہ کسی طور ہر ٹھہر گئی تھی۔ گذشتہ چالیس برسوں میں جہاں زندگی کے دیگر شعبوں میں چین نے اپنی سبقت اور برتری کے جھنڈے گاڑے ہیں وہیں چین نے خلائی تحقیق کے میدان میں اپنی لافانی کردار چھانگ عہ کو جدید دور میں زندہ و جاوید کر دیا۔



چھانگ عہ I

چین نے سن 2007 میں چاند پر تحقیق کے حوالے سے اپنے پہلے خلائی مشن کو روانہ کرنے کا فیصلہ کیا تو اس کا نام کی چاند کی دیوی کے ساتھ چینی قوم کی محبت اور عقیدت کی وجہ سے چھانگ عہ رکھا۔

چھانگ عہ II

اسی طرح چین نے سن 2010 میں بغیر انسان کے ایک اور مشن چاند پر روانہ کیا جس کا نام چھانگ عہ ٹو رکھا گیا۔


چھانگ عہ III

چین کا تیسرا چھانگ عہ مشن تھری بیجنگ کے مقامی وقت کے مطابق دسمبر سن 2013 کو شام نو بج کر بارہ منٹ پر چاند کی سطح پر اترا۔ اس مشن کے ساتھ ایک روبوٹک گاڑی بھی تھی جس کا نام چاند کی دیوی کے ساتھ خرگوش کے نام کی مناسبت یوتو رکھا گیا۔

چھانگ عہV I

چین کاخلائی تحقیقاتی مشن " چھانگ عہ فور " ہفتے کی صبح دو بج کر تئیس منٹ پر چین کے جنوب مشرقی صوبے سیچوان سے روانہ ہوگیا ہے۔ یہ مشن چاند کے تاریک حصوں کا معائنہ کرے گا۔ یہ چاند پر روانہ کی گئی مہمات میں سے منفرد اور الگ مہم ہے۔ چاند اور زمین ایک ہی رخ میں اپنے اپنے مدار میں ایک ساتھ گردش کرتے ہیں جس کی وجہ سے چاند ایک خاص حصہ ہمیشہ اندھیرے میں رہتا ہے اور آج تک انسان کی نظروں سے اوجھل ہے۔ موجودہ مشن اس حوالے سے بھی منفرد ہے کہ پہلی بار کوئی تحقیقاتی مشن چاند کے اس حصے پر باقاعدہ لینڈنگ کرے گا اور وہاں سے نمونے اکھٹے کرےگا۔
اس سے قبل سن 1959 میں روس اور سن 1968 میں امریکا چاند کے اس حصے کی تصویر کشی کی کوشش کرچکے ہیں۔امریکا، روس اور چین کے خلائی مشنچاند پراپنے قدم رکھ چکے ہیں تاہم چاند کا جو حصہ زمین سے ہمیں نظر نہیں آتا اور تاریک رہتا ہے اس پر آج تک کوئی خلائی مشن نہیں پہنچ سکا لیکن اب چین کے اس مشن کے ذریعے یہاں تک رسائی ممکن ہوگی۔

چین نے اس مشن کو مارچ تھری بی راکٹ کے ذریعے روانہ کیا ہے اس یہ راکٹ بھی خلائی مشن میں اپنی سرفہرست پوزیشن بنا لے گا جو سیاروں کے حوالے سے سائنسی تحقیق میں اہم مقام ہوگا۔

چین کا یہ مشن 27 روزہ سفر کے بعد سورج کے دونوں جانب سے بھی معلومات زمین تک پہنچا دے گا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مشن ریڈیو اسٹرنومیکل مطالعے کے لیے بھی کارآمد ہوگا۔کیونکہ چاند کا یہ رخ ہمیشہ زمین سے دور رہا ہے اور ہمارے کی مداخلت سے بھی آزاد رہا ہے جس میں ریڈیائی لہریں اور ارتعاش وغیرہ شامل ہیں۔

چاند کے تاریک حصوں کا معائنہ کرنے کے لئے چین کی جانب سے بھیجا جانے والا مشن چھانگ عہ4 چاند کی سطح پر لینڈ کر چکا ہے۔ چاند کے اس حصے پر پہنچے والا یہ دنیا کا پہلا تحقیقی مشن ہے۔

یہ مشن بیجنگ کے مقامی وقت کے مطابق 3 جنوری بروز جمعرات صبح دس بج کر چھبیس منٹ پر چاند کی سطح پر اترا۔ چائنا نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن نے چاند کی سطح پر اس مشن کی کامیاب لینڈنگ کا اعلان کیا۔
دنیا کے اپنی طرز کے اس پہلے مشن نے لینڈنگ کے بعد چاند کے تاریک حصے کی واضح تصاویر زمین پر ارسال کرنا شروع کردیں ۔
چین کے خلائی تحقیقاتی ادارے "چائنا نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن" سی این ایس اے کے مطابق چھانگ عہ فور چاند کے تاریک حصے پر اترنے کے لئے اپنے مخصوص مدار میں 12 دسمبر کو داخل ہواتھا۔ اس وقت سے کنٹرول روم اس مشن کا مکمل جائزہ لیتا رہا ہے۔ چاند کے تاریک حصے کی جانب پہنچنے پر بھی کنٹرول روم اس مشن سے اپنا بہترینرابطہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔ چھانگ عہ فور چاندکی سطح پر اترنے سے قبل1.7 کلومیٹر فی سیکنڈ کی ریلیٹو ولاسٹی سے چاند کی سطح کا جائزہ لیتا رہا۔

چین چاند کے تاریک حصے پر پہنچنے والا پہلا ملک بن گیا

چین چاند کی دونوں اطراف پہنچنے والا دنیا کا پہلا ملک

دو ہزار تیرہ میں چھانگ عہ تھری چاند کے سامنے کےحصے پر کامیاب لینڈنگ کر چکا ہے ۔یوں چین دنیا کا پہلا ایسا ملک بن گیا ہے جو چاند کے سامنے اور تاریک دنوں حصوں پر لینڈ کر چکا ہے۔
چین کےخلابازی کے شعبے سے وابستہ سائنسدان یےبھے جیان نے کہا کہ چھانگ عہ فورکا سائنسی مشن چاند کے تاریک حصے پر کسی بھی ملک کی جانب سے پہلی کامیاب لینڈنگ ہے۔اس سے یہ ظاہرہے کہ خلابازی کے نصب العین کی ترقی میں چین کا یہ ہدف ہےکہ کائنات کے گم شدہ گوشوں کی تلاش کی جائے اور انسان کی پائیدار ترقی کے لیے ایک راستے کی تلاش کی جائے ۔

چاند کائنات میں تحقیق کا دروازہ

چاند کائنات میں انسانی تحقیقات کے لیے ایک دروازہ سمجھا جاتا ہے۔اسی معنی سے دیکھا جائے ، تو چھانگ عہ فوراس دروازے کو کھولنے کی ایک تازہ ترین کوشش ہے اور بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کے لیے چین کی تازہ ترین کوشش بھی ہے۔


شیئر

Related stories