غیر ملکی کمپنیاں چین میں کاروباری ترقی کے لئے پرامید ہیں

2017-10-11 17:47:43
Comment
شیئر
شیئر Close
Messenger Messenger Pinterest LinkedIn



چین میں جنرل الیکٹرک اور اکاونٹنگ کی معروف  فرم  Ernst & Young سمیت غیر ملکی کمپنیوں کے سربراہان  نے حال ہی میں سی آر آئی کو انٹرویو  دیا۔ انٹرویو میں ان کا  کہنا تھا کہ انہوں نے گزشتہ پانچ برسوں میں حقیقی طور پر  چین کی مارکیٹ میں  تبدیلیاں محسوس کی ہیں اور چین کی متعلقہ پالیسوں سے فائدہ اٹھایا ہے۔۔ دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو  اور  "چین ساختہ دوہزار پچیس"  Made in China ۲۰۲۵ سمیت   دیگر  منصوبوں کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ ، چین میں غیر ملکی کمپنیاں چین کی مارکیٹ اور معیشت کے مستقبل کے حوالے سے  پرامید ہیں۔
جنرل الیکٹرک کے سینئر نائب صدر، گریٹر چین کے سربراہ اور چیف ایگزیکٹو آفیسر نے نامہ نگار کو بتایا کہ چین میں کاروباری  صورتحال کو مسلسل طور پر بہتر بنایا جارہا ہے۔ چین میں  مختلف سطح کی حکومتوں نے  کاروباری اداروں کے لیے  سلسلے وار  سروس پلیٹ فارم اور ورکنگ نظام قائم کیا اور متعدد سہولتیں فراہم کی ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ  اکاونٹنگ فرم  Ernst & Young کے  شراکت دار  Titus Von dem Bongart جرمنی سے ہیں  اور انہیں چین میں کام کرتے ہوئے بیس سال ہوگئےہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ چین کی تیز رفتار ترقی اور مارکیٹ کے فروغ کے عینی شاہد ہیں۔ حالیہ برسوں میں  چین کی مارکیٹ کی تبدیلیاں EYکے لئے بھی فائدہ مند ہیں۔
اقوام متحدہ کے تحت تجارتی ترقی کی کانفرنس کی تحقیقات سے  ظاہر ہوا کہ چین سرمایہ کاری کے  لحاظ سے بین الاقوامی کمپنیوں کے پسندیدہ ممالک میں سے ایک بن چکا ہے۔ 


شیئر

Related stories