چین کی سپریم عوامی عدالت اور سپریم عوامی پروکیوریٹریٹ کی طرف سے ورکنگ رپورٹس پیش

2018-03-09 19:23:58
Comment
شیئر
شیئر Close
Messenger Messenger Pinterest LinkedIn

نو تاریخ کو چین کی سپریم عوامی عدالت کے سربراہ چو چھیانگ اور سپریم عوامی   پروکیوریٹریٹ کے سربراہ چھاؤ چیان مین نے این پی سی کی تیرہویں قومی کمیٹی کے پہلے   اجلاس میں الگ الگ ورکنگ رپورٹس پیش کیں جن میں گزشتہ پانچ سالوں میں ان دو اداروں   کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور دو ہزار اٹھارہ کے لیے تجاویز پیش کی   گئیں۔

چینی صدر شی جن پھنگ ،وزیر اعظم لی کھہ چھیانگ، لی چان شو، وانگ یانگ ، وانگ ہو نینگ ،چاؤ  لہ جی اور ہان چنگ سمیت چینی رہنماؤں نے اس اجلاس میں شرکت کی۔
 چو چھیانگ نے رپورٹ میں کہا کہ عوامی عدالت کی اصلاحات کو گہرائی کے ساتھ   فروغ دیا جا رہا ہے۔اس لیے انہوں نے کہا کہ  دو ہزار اٹھارہ  میں جرائم پر قانون کے   مطابق سزا دی جائے،قومی سلامتی اور سماجی استحکام کا تحفظ کیا جائے ،عوام کے قانونی   حقوق و مفادات کی ٹھوس حفاظت کی جائے ،عدالت کے نظام میں اصلاحات کو فروغ دیتے ہوئے   انصاف اور برابری کو یقینی بنایا جائے۔
چھاؤ چیان مین نے کہا کہ گزشتہ پانچ   برسوں میں پروکیوریٹریٹ نے ملازمت سے متعلق جرائم میں ملوث ڈھائی لاکھ سے زیادہ   افراد سے تفتیش کی ہے  اور ملک کے لیے پچپن ارب تیس کروڑ آر ایم بی کے برابر   اقتصادی نقصانات کو بچایاہے ۔علاوہ ازیں٘ بیالیس ممالک یا علاقوں میں فرار ہونے   والے دو سو بائیس مشتبہ افراد کو ملک میں واپس لایا گیا ہے۔

شیئر

Related stories