بو آو ایشیائی فورم کا سالانہ اجلاس دو ہزار اٹھارہ

2018-04-08 14:41:40
Comment
شیئر
شیئر Close
Messenger Messenger Pinterest LinkedIn

بو آو ایشیائی فورم کا سالانہ اجلاس دو ہزار اٹھارہ جلد ہی  چین کے سب سے بڑے خصوصی اقتصادی زون ، صوبہ ہائی نان کے قصبے بو آو میں منعقد ہوگا۔ دس اپریل کو چینی صدر شی جن پھنگ بو آو ایشیائی فورم میں شرکت کریںگے اور  نئے عہد میں چین کی اصلاحات اور  کھلی پالیسیوں پر روشنی ڈالیں گے۔

یاد رہےکہ دو ہزار تیرہ میں بو آو ایشیائی فورم  میں شریک بتیس چینی و غیرملکی صنعتی و کاروباری اداروں کے رہنماوں نے صدر   شی جن پھنگ کے ساتھ تبادلہ خیال کیا تھا ۔ اس ملاقات میں چینی صدر نے یہ وعدہ کیا تھا کہ چین میں کھلی پالیسی پر عمل درآمد  زیادہ وسیع پیمانے پر جاری رہیگا۔انہوں نے کہا کہ چینی حکومت نے ملک و قوم کی ترقی کے حوالے سے صد سالہ منصوبے مرتب کئے  اور  چینی قوم کی نشاۃ ثانیہ  کے چینی خواب کا تصور پیش کیا ۔ ان منزلوں کی تکمیل کے عمل سے چینی معیشت میں مسلسل نئی قوت متحرکہ ڈالی جائیگی اور  ہماری کوششوں کی بنا پر چین کی تیز رفتار اقتصادی ترقی برقرار رہیگی۔چینی حکومت غیرملکی سرمایہ کاری کے لئے زیادہ سازگار ماحول فراہم کریگی ، تحفظ پسندی کو ترک کرکے تمام ملکوں کے ساتھ معقول اور  مشترکہ خوشحالی کے تصور پر مبنی کثیرالطرفہ تجارتی نظام کے قیام کے لئے کوشاں رہے گی ۔

دو ہزار تیرہ  بو آو ایشیائی فورم

دو ہزار تیرہ بو آو ایشیائی فورم

دو ہزار تیرہ کے موسم خزاں میں وسطی ایشیا اور  جنوب مشرقی ایشیا کے ملکوں کے دورے کے دوران صدر شی جن پھنگ نے دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیئٹو  پیش کیا۔ یوں مشترکہ بات چیت، مشترکہ تعمیر اور  مشترکہ خوشحالی کے تصورات پر مبنی چین کا نیا نظریہ لوگوں کے سامنے پیش کیا گیا ۔ماہرین کا خیال ہے کہ  دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیئٹو   عالمی اقتصادی تعاون اور  شراکت داری کے حوالے سے چین کی طرف سے پیش کیا جانے والا ایک نیا پلیٹ فارم ہے۔

دو ہزار تیرہ کے موسم خزاں میں وسطی ایشیا اور  جنوب مشرقی ایشیا کے ملکوں کے دورے کے دوران صدر شی جن پھنگ نے دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیئٹو  پیش کیا

دو ہزار تیرہ کے موسم خزاں میں وسطی ایشیا اور  جنوب مشرقی ایشیا کے ملکوں کے دورے کے دوران صدر شی جن پھنگ نے دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیئٹو  پیش کیا

اپنی ترقی کے علاوہ چین دوسرے ملکوں کے ساتھ ترقی کے ثمرات شیئر کرنے کا خواہاں بھی ہے۔گزشتہ پانچ برسوں میں چین نے چالیس سے زائد  ملکوں اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ  تعاون کے معاہدے طے کئے اور  تیس سے زیادہ ملکوں کے ساتھ پیداواری قوت  کے سلسلے میں تعاون کے نظام قائم کئے ہیں  ۔دی  بیلٹ اینڈ روڈ  سے متعلق ملکوں میں پچاس ارب امریکی ڈالرز کی سرمایہ کاری کی گئی ہے ،ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک  نے  دی بیلٹ اینڈ روڈ  کی تعمیر میں شریک ملکوں کے لئے ایک ارب سترہ کروڑ امریکی ڈالرز  کے قرضے فراہم کئے ہیں۔ سلک روٹ فنڈ  کی طرف سے سرمایہ کاری کا حجم چار ارب امریکی ڈالرز تک جا پہنچا ہے  ۔ متعلقہ ملکوں میں چین کی سرمایہ کاری سے  ایک ارب دس کروڑ امریکی ڈالرز کی ٹیکس آمدن  اور  ایک لاکھ اسی ہزار روزگار کے مواقعے فراہم  کئے گئے ہیں۔


آزاد تجارتی آزمائشی زون  شنگھائی

آزاد تجارتی آزمائشی زون  

آزاد تجارتی آزمائشی زونز کا قیام چینی قیادت کی جانب سے ایک اور  اہم قدم ہے۔دو ہزار تیرہ کے بعد سے ملک میں قومی سطح کے کل  گیارہ  آزاد تجارتی آزمائشی زونز قائم کئے جا چکے ہیں  جو  چین کی اصلاحات ، کھلی پالیسی کے نفاذ اور  عالمگیریت میں شمولیت کے اہم پلیٹ فارم کے مترادف ہیں۔


اصلاحات اور کھلی پالیسی چین کی حیرت انگیز ترقی اور  مزید کامیابیوں کا راز ہے

اصلاحات اور کھلی پالیسیچین کی حیرت انگیز ترقی اور مزید کامیابیوں کا راز ہے

۔یاد رہے کہ  انیس سو اٹھہتر میں چینی کمیونسٹ پارٹی  کی مرکزی کمیٹی نے ملک میں اصلاحات اور کھلی پالیسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا جس کے نتیجے میں پانچ ہزار سال پرانی تاریخ کے مالک چین کا دروازہ پوری دنیا کے لئے کھل گیا۔اکتوبر دو ہزار تیرہ میں چینی کمیونسٹ پارٹی کی قیادت نے ملک کی اصلاحات کو ہمہ گیر طور پر گہرائی تک پہنچانے اور جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد گزشتہ پانچ برسوں میں چین نے  معیشت، سیاست، ثقافت، معاشرت، ماحول اور  پارٹی کے نظم و نسق سمیت شعبوں میں سلسلہ وار اصلاحاتی اقدامات اختیار کئے اور  تاریخی کامیابیاں حاصل کیں۔

معیشت کی عالمگیریت کے رجحان کے تناظر میں چینی صدر شی جن پھنگ نے  یہ خیال ظاہر کیا کہ  مزید ترقی کے لئے چین کے سامنے صرف ایک راستہ ہے یعنی اصلاحات اور  کھلی پالیسی کو مزید آگے بڑھانا ہے۔

صدر شی جن پھنگ کی نظر میں ایک ارب تیس کروڑ  آبادی کے ملک چین کی ترقی کے لئے بنی نوع انسان کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ہے جو سیکھنے کے قابل ہو۔چین کی ترقی  اپنے بنائے  راستے پر گامزن ہو کر ممکن ہو سکےگی۔اصلاحات اور کھلی پالیسی یہی راستہ ہے۔

بو آو ایشیائی فورم رواں سال چین کی پہلی اہم سفارتی کاروائی ہے۔ دنیا نئے عہد  میں عالمی ترقی کے لئے چین کی آواز سننے کے لئے تیار ہے۔

 

 


شیئر

Related stories