صدر شی جن پھنگ کا بو آو ایشیائی فورم کے سالانہ اجلاس کی افتتاحی تقریب سے خطاب

2018-04-10 15:25:07
Comment
شیئر
شیئر Close
Messenger Messenger Pinterest LinkedIn

صدر شی جن پھنگ کا بو آو ایشیائی فورم کے سالانہ اجلاس کی افتتاحی تقریب سے خطاب

صدر شی جن پھنگ کا بو آو ایشیائی فورم کے سالانہ اجلاس کی افتتاحی تقریب سے خطاب

بو آو ایشیائی فورم کے سالانہ اجلاس دو ہزار اٹھارہ کی افتتاحی تقریب دس تاریخ کی صبح صوبہ حہ نان کے قصبے بو آو میں شروع ہوئی۔ افتتاحی تقریب سے چینی صدر شی جن پھنگ  اپنے خطاب میں چین کی کھلی پالیسی اور  اصلاحات کے نئے روڈ میپ پر روشنی ڈالی ۔ چینی صدر نے   ایشیا اور دنیا  میں بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر ، ایشیا اور دنیا کے روشن مستقبل کے بارے میں چین کاموقف پیش کیا۔

چینی صدر مملکت شی جن پھنگ نے بو آو ایشیائی فورم سے خطاب کرتے ہوئے  کہا ہے  کہ گزشتہ چالیس برسوں میں  چین ایک بند ملک سے ہمہ گیر طور پر کھلا ملک بن چکا ہے اور  بین الاقوامی رابط سازی سمیت  دیگر متعلقہ امور میں ایک بڑے ذمہ دار ملک کی حیثیت سےاپنا کردار ادا کرتا چلا آ رہا ہے ۔چین میں ایک بڑی تعداد میں  غیر ملکی سرمایہ کاری آئی ہے اور  اب چینی سرمایہ کاری پوری دنیا میں پھیل رہی ہے۔ ڈبلیو ٹی او میں شمولیت سے لے کر دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو پیش کرنے  تک، چین نے ایشیا اور عالمی مالیاتی بحران کے خاتمے کے لئے اہم کردار ادا کیا ہے اور گزشتہ  کئی برسوں سے عالمی اقتصادی ترقی میں چین کی خدمات کا تناسب تیس فیصد سے تجاوز کیے ہوئے ہے جس کی بدولت چین  عالمی معیشت کے استحکام  اور  ترقی کو برقرار رکھنے کی ایک بڑی قوت بن گیا ہے۔کھلی پالیسی اور  اصلاحات چین کا دوسرا انقلاب ہے۔یہ چینی عوام کی خواہشات، اور  جدت اور ترقی و خوشحالی کے لئے پوری دنیا کے عوام کی امنگوں اور  وقت کے تقاضے سے ہم آہنگ ہے۔انہوں نے کہا چین خواہ کتنے ہی مراحل  تک ترقی کرے گا ، وہ  کسی کے لئے خطر ےکا باعث نہیں ہو گا  اور نہ ہی موجودہ بین الاقوامی نظام میں کوئی خلل ڈالے  گا ۔اس کے علاوہ اپنی طاقت  کے دائرہ کار کے قیام کی کوشش نہیں کرے گا ۔ انہوں نے کہا کہ چین ہمیشہ عالمی امن و ترقی  کے لئے کوشش کرتاہے اور بین الاقوامی نظام کا تحفظ کرتا ہے ۔ انہوں نے پر زور الفاظ میں  کہا کہ چین باہمی مفادات اور مشترکہ ترقی کی تزویراتی پالیسی پر  قائم رہے گا ۔ اس کے ساتھ ساتھ  چین اعلی معیار کی تجارت اور آزاد انہ سرمایہ کاری پر زور دے گا جبکہ چینی خصوصیات کی حامل آزاد تجارتی بند گاہوں کی تعمیر  بھی  کی جائے گی ۔چینی صدر شی جن پھنگ نے کہا کہ رواں سال چینی حکومت چند علامتی اقدامات اختیار کریگی تاکہ چینی منڈی میں داخلے کے لیے زیادہ آسانی ہو۔انہوں نے کہا  کہ سرمایہ کاری کا ماحول ہوا کی مانند ہے اور صاف و شفاف  ہوا سے زیادہ سے زیادہ بیرونی سرمایہ کاری موصول ہو سکے گی ۔ انہوں نے کہا کہ چین بین الاقوامی اقتصادی اور تجارتی قوانین و ضوابط  کے تحت علمی اثاثوں کے تحفظ کو مضبوط بنائے گا ۔ مسابقت کی حوصلہ افزائی کی جائے گی جبکہ اجارہ داری کی مخالفت کی جائے گی ۔  جناب شی جن پھنگ نے کہا کہ رواں سال کی پہلی ششماہی میں  بیرونی سرمایہ کاروں کے لئے منفی فہرست میں ترمیم کا کام مکمل ہو گا اور سرمایہ کاری کے لیے رسائی سے قبل مقامی باشدوں کے  لیےمساوی سلوک  اور منفی فہرست کے انتظامی ںظام پر عمل درآمد کیا جائے گا ۔شی جن پھنگ نے کہا کہ چین  صرف  تجارتی منافع  کو اپنا مقصد نہیں بناتا  اور  درآمدات کو بڑھانے کا خواہاں ہے  ۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال چین میں کاروں کے درآمدی محصولات میں بڑی حد تک کمی لائی جائے گی اور اس کے ساتھ ساتھ دیگر مصنوعات کے محصولات میں بھی کمی کی جائے گی ۔ اس کے علاوہ عوام کی زیادہ مانگ والی خصوصی اور بہترین مصنوعات کی درآمد میں بھی اضافے کی  کوشش کی جائے گی ،علاوہ ازیں عالمی تجارتی تنظیم کے تحت حکومت کی خریداری کے معاہدے میں شمولیت کے عمل کو تیز تر کیا جائے گا ۔ شی جن پھنگ نے ترقی یافتہ ممالک سے چین کے ساتھ اعلی تیکنیکی مصنوعات کی برآمدات پر عائد مصنوعی پابندیوں  کو اٹھانے کا مطالبہ بھِی کیا ۔چینی صدر شی جن پھنگ نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا  کہ پانچ سال پہلے انہوں نے دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیئٹو پیش کیا۔ اس کے بعد سے اب تک چین نے اسی سے زائد  ممالک  اور  بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ دی بیلٹ اینڈ روڈ کے حوالے سے تعاون کے معاہدے طے کئے ہیں۔دی بیلٹ اینڈ روڈ کی تعمیر  کے سلسلے میں چین اپنا  ہم خیال حلقہ   تشکیل نہیں دے گا اور  اپنے تصورات کو دوسروں پر مسلط نہیں کریگا۔تمام فریقوں کے ساتھ مشترکہ بات چیت، مشترکہ تعمیر اور مشترکہ خوشحالی کے اصول کی بنیاد پر دی بیلٹ اینڈ روڈ کے سلسلے میں تعاون کریںگے  اور بین الاقوامی تعاون کا سب سے وسیع پلیٹ فارم قائم کریںگے جو  کہ معیشت کی عالمگیریت کے رجحان کے مطابق ہے۔

افتتاحی   تقریب  سے بو آو ایشیائی فورم کے   بورڈ  کے چیئرمین یاسو فوکودا ، بیرونی رہنماوں اور صنعت کاروں کے نمائندوں نے    اپنے خیالات  کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چین میں اصلاحات اور کھلی پالیسی سے حاصل   کردہ کامیابیوں نے  نہ صرف چین کی ترقی بلکہ دنیا کے مخالف ممالک کے لئے عظیم مواقع   فراہم کئے ہیں ۔ چین کے اختیار کردہ اقدامات دنیا کےلئے حوصلہ افزا ہیں ۔ اس سے   ظاہر ہوتا ہے کہ چین مستقبل میں بھی اصلاحات اور  کھلے پن کے راستے پر گامزن رہے گا   ۔ اور یہ چین اور دنیا  کی مشترکہ ترقی اور خوشحالی کے لئے مفید ثابت ہو گا   ۔ 
یاد رہے کہ بو آو ایشیا ئی فورم آٹھ سے گیارہ اپریل تک جاری رہے گا ۔ مختلف   ممالک اور علاقوں سے مختلف  رہنماوں ، بین الاقوامی تنظیموں کے سربراہان ، سیاسی ،   صنعتی اور تجارتی حلقوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات اور دانشوروں سمیت دو ہزار سے   زائد افراد موجودہ فورم میں شریک ہیں ۔  


شیئر

Related stories