بو آو ایشیائی فورم میں شریک غیرملکی سربراہوں نے چین کی اصلاحات و کھلے پن کی پالیسی کو سراہا

2018-04-11 11:12:18
Comment
شیئر
شیئر Close
Messenger Messenger Pinterest LinkedIn

بو آو ایشیائی فورم میں شریک غیرملکی سربراہوں نے چین کی اصلاحات و کھلے پن کی پالیسی کو سراہا

بو آو ایشیائی فورم میں شریک غیرملکی سربراہوں نے چین کی اصلاحات و کھلے پن کی پالیسی کو سراہا

دس تاریخ کو  بو آو ایشیائی فورم دو ہزار اٹھارہ کے سالانہ اجلاس کی افتتاحی تقریب چین کے جنوبی صوبے ہائی نان کے بو آو قصبے میں منعقد ہوئی۔چین کے صدر مملکت شی جن پھنگ نے افتتاحی تقریب سے خطاب کیا اور ان کے بعدغیرملکی سربراہوں نےتقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چین کے اصلاحات و کھلے پن کو توسیع دینے کے سلسلہ وار اقدامات کی حوصلہ افزائی کی گئی ہےاورچین کا اصلاحات و کھلا پن دنیا کی مشترکہ ترقی کو فروغ دے گا۔
اقوام متحدہ کے سیکٹری جنرل اینتونیو گوتریز نےاپنے خطاب میں کہا کہ رواں سال چین  اصلاحات و کھلے پن کی پالیسی کے نفاذ کی چالیسویں سالگرہ منارہا ہے ۔ہم چین میں ہونے والی تبدیلیوں ، چین اور عالمی برادری کے درمیان تعلقات میں ہونے والی تبدیلیوں کےچشم دید گواہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ فورم سے نہ صرف ایشیا میں پر امید جزبے  اور قوت سے جان ڈالی گئی  بلکہ بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کے لئے  بھی ہماری کوششوں کی  عکاسی کی گئی ہے۔
وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اصلاحات و کھلےپن کے نفاذ کے چار عشروں میں چین نے نمایاں ترقی کی ہے، کروڑوں افراد کو غربت سے باہر نکالا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ عالمی معیشت کو بھی تبدیل کیا ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم نے کہاکہ چین موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے، عالمی تجارتی ترقی ، عالمی برادری میں انصاف کو فروغ دینے اورپائیدار ترقی کو آگے بڑھانے میں رہنمائی کردار ادا کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ فورم کے عنوان سے نہ صرف ایشیائی ترقی کی حقیقت سامنے آئی بلکہ روشن مستقبل بھی ظاہر ہوا ہے۔وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ ایشیائی ممالک کو پر امید مستقبل کے لئے مشترکہ طور پر کوشش کرنی چاہیئے۔ 


شیئر

Related stories