چین کے صدر شی جن پھنگ اور عالمی اقتصادی فورم کے چیئرمین کلاس شواب کی باہمی ملاقات

2018-04-16 20:05:42
Comment
شیئر
شیئر Close
Messenger Messenger Pinterest LinkedIn

 سولہ تاریخ کو چین کے صدر شی جن پھنگ نے عالمی اقتصادی فورم کے چیِئرمین  کلاس شواب سے  بیجینگ کے عظیم عوامی ہال میں ملاقا ت کی۔ چین کے صدر شی جن پھنگ نے کہا  کہ حال ہی میں اینٹی گلوبلائزیشن رجحان اور تجارتی تحفظ پسندی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ اس سے عالمی معیشت کو  خطرات اور  اس کے غیر  مستحکم ہونے میں اضافہ ہو گا۔تاریخ کے کئی حوالہ جات سے ظاہر ہوتا ہے  کہ بین الاقوامی روابط  کے لئے دروازہ بند کرنا آخر کار بند گلی میں جانا ہے ۔صرف کھلے پن اور تعاون کے ذریعے راستے کو کھولا جائےگا۔اس حوالے  سے بڑے ممالک کو اہم اور خصوصی ذمہ داری قبول کرنی چاہیئے۔ایک ذمہ دارانہ ملک کی حیثیت سے چین عالمی  برادری کے ساتھ مل کر کھلے پن کے فروغ میں  تعاون کرنا چاہتا ہے اور تعاون کے ذریعے باہمی مفادات کے حصول کے  لئے کوشش کرنا چاہتا ہےتاکہ دنیا کے  روشن،مستحکم اور خوشحال مستقبل کے حصول کے لئے مثبت کردار ادا کیا جاسکے-
 صدر شی جن پھنگ نے مزید کہا کہ چین اور عالمی اقتصادی فورم کے درمیان تعاون  چین میں اصلاحات اور کھلے پن کی پالیسی  پر عملدرآمد کے عمل کے ساتھ  ساتھ جاری ہے ۔فریقین کو وقت کے ساتھ ساتھ ترقی کرنی  ،تعاون کو مضبوط بنانا اور عالمی معیشت کے اضافے میں نئی قوت ڈالنے کے لئے مشترکہ طور پر کوشش کرنی چاہیئے تاکہ عالمی چیلیجنز سے  نمٹنے کے لئے ممکنہ طریقہ کار طے کیا جا سکے۔
کلاس شواب نے کہا ہے کہ چینی صدر نے بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے ،کھلے پن پر مبنی عالمی معیشت کی تشکیل کی تجاویز پیش کی ہیں۔ ان تجاویز سے دنیا کے مختلف ممالک کو تعاون کی سمت دکھائی گئی ہے اور مضبوط طاقت کی بنیاد بھی ڈالی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی اقتصادی فورم اقتصادی عالمگیریت اور کثیرالاطرافی کے فروغ کا حامی ہے ،تحفظ پسندی اور یک طرفہ سوچ کی مخالفت کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی اقتصادی فورم کو گزشتہ چالیس برسوں میں چین کے ساتھ تعاون پر فخر ہے ۔
عالمی اقتصاد ی فورم دی بیلٹ اینڈ روڈ کی تعمیر کے فروغ ،جدت کاری کی ترقی سمیت دیگر حوالوں سے چین کے ساتھ طویل المدت تعاون کرنے کا خواہاں ہے۔

شیئر

Related stories