چین کےشن زن شہر کی تیزرفتار ترقی میں سائنسی اور تکنیکی تخلیق کا اہم کردار

2018-05-22 16:28:23
Comment
شیئر
شیئر Close
Messenger Messenger Pinterest LinkedIn

چین کےشن زن شہر کی تیزرفتار ترقی میں سائنسی اور تکنیکی تخلیق کا اہم کردار

چین کےشن زن شہر کی تیزرفتار ترقی میں سائنسی اور تکنیکی تخلیق کا اہم کردار

تیس برس قبل شن زن شہرکے قیام کے ابتدا میں وہاں کوئی اعلی  تعلیمی ادارہ اور  تحقیقی انسٹی ٹیوٹ نہیں تھا تاہم  دو ہزار  سترہ  میں شن زن شہر کی جی ڈی پی کا چار فیصد سے زائدحصہ تحقیقات اور ترقی کے لئے استعمال کیا گیا ۔ قومی سطح کے ہائی اور جدید تیکنیکی اداروں کی تعداد دس ہزار سے تجاوز کر گئی جبکہ  ہائی ٹیک صنعت میں ویلیو ایڈٹ کا تناسب جی ڈی پی کا تیس فیصد سے زیادہ رہا ۔شن زن شہر  میں چینی  کمیونسٹ پارٹی کی بلدیاتی کمیٹی کے سربراہ وانگ وے جونگ نے کہا کہ اس وقت شن زن شہر نے  تیکنیکی تخلیق کے حوالے سے ایک نیا نظام قائم کیا ہے جو پورے ملک میں ایک مثال ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال  بین الاقوامی پیٹنٹ ایپلی کیشنز کی تعداد بیس ہزار چار سو تک جا پہنچی اور اس حوالے سے شن زن شہر گزشتہ چودہ برسوں کے دوران ملک کےدوسرے شہروں کے مقابلے میں سر فہرست رہا ۔شن زن شہر کی آبادی دو کروڑ ہے جن میں باصلاحیت افراد کی تعدادا یک چوتھائی سے بھی زیادہ ہے ۔ جناب وانگ کا کہنا ہے کہ خود سے تخیلق کرنا شن زن شہر کی ترقی کے لئے اولین حکمت عملی طے پا گئی ہے ۔


شیئر

Related stories