پاکستان کے صدر ممنون حسین کا شنگھائی تعاون تنظیم کی سمٹ سے خطاب

2018-06-10 17:10:26
Comment
شیئر
شیئر Close
Messenger Messenger Pinterest LinkedIn

پاکستانی صدر ممنون حسین کا شانگھائی تعاون تنظیم کی سمٹ سے خطاب

پاکستان کے صدر ممنون حسین نے اتوار کےروز  شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان  کی کونسل کی سمٹ سے خطاب کیا۔  انہوں نے  سمٹ کے کامیاب  انعقاد  ، چینی عوام اور حکومت  کی پرجوش  مہمان نوازی پر  صدر شی جن پھنگ کا  شکریہ ادا  کیا۔

 صدر ممنون حسین نے کہا کہ سمٹ سے  شنگھائی تعاون تنظیم کے تمام رکن ممالک ، مبصر ممالک کے سربراہان کو خطے کی معیشت ، علاقائی سلامتی اور مشترکہ ترقی کے حوالے سے  مشاورت کا موقع فراہم کیا  گیا۔
  
انہوں نے کہا کہ  پاکستان نے سمٹ کے حوالے سے  ایک خصوصی ڈاک ٹکٹ جاری کیا  ہے  جو اس خوبصورت موقع کی یاد دلاتا رہے گا -
افغانستان میں امن و استحکام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے جناب ممنون حسین نے  کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم میں افغان رابطہ گروپ کی تشکیل ایک خوش آئند عمل ہے۔ اس ضمن میں پاکستان ، افغانستان میں امن کے قیام کے لیے اپنا فراخدلانہ تعاون جاری رکھے گا ۔ 
 
شنگھائی تعاون تنظیم   کی موجودہ  سمٹ میں  انسداد منشیات کی  دستاویز پر  دستخط  ہونا ہماری ٹھوس کامیابی ہے۔ اس  سے ہمیں خطے  کو منشیات سے پاک رکھنے میں مدد ملے گی۔
پاکستان نے پچھلے چند  سالوں  کے دوران  دہشت گردی پر قابو  پا  کر امن و امان قائم کیا ہے۔ جس سے بین الاقوامی سرمایہ کاری کو فروغ ملا ہے اور پاکستان نجی سرمایہ کاری کے لیے ایک بہترین منزل قرار پایا ہے ۔عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق اس معاملے میں پاکستان کا شمار جنوبی ایشیا میں پہلے اور دنیا بھر میں پانچویں نمبر پر کیا جا رہا ہے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے مختلف منصوبوں میں تیز رفتاری کی وجہ سے ہم مستقبل میں مزید ترقی کی توقع کر رہے ہیں اقتصادی راہداری کے تحت 9 صنعتی زونز قائم ہو رہے ہیں جہاں صنعت کاروں کومزید سہولتیں حاصل ہوں گی ۔ 
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ابھرنے والے نئے امکانات  اور خطے کے دیگر ممالک کے انسانی اور تکنیکی  وسائل اور مختلف شعبوں میں بڑھتی ہوئی پیداوار ہماری اجتماعی  ترقی کی رفتار کو تیز کر سکتی ہے یہ آثار ایک نئے منصفانہ عالمی اقتصادی نظام  کی بنیاد بن سکتے ہیں سرمایہ کاری ، تجارت اور کسٹم کی سہولتیں ، ای کامرس ، ریل و روڈ مواصلاتی رابطے و سیاحت کے فروغ کے لیے ایس سی او کے اقدامات اس عمل کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔ اس طرح کے اقدامات پر  عملدرآمد سے  نہ صرف معیشت مضبوط ہو گی بلکہ عوام کا معیار زندگی بھی بلند ہو گا ۔ 
 صدر ممنون حسین نے مزید  کہا کے اس خطے کی عوام کی  فلاح و بہبود اور ترقی کے لیے پانچ نکاتی ترجیحات  کا تعین ضروری ہے ، ان میں پہلی ترجیح  یہ  ہے کہ دیر پا امن و استحکام کی خاطر باہمی اعتما د کے فروغ کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں  تا کہ خطے کے ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیاں فروغ پا سکیں ،

 دوسری  یہ ہے  کہ ترقیاتی منصوبوں کو مخصوص جیو پولیٹیکل زاویے  سے دیکھنے کی بجائے خطے کے تمام ترقیاتی منصوبوں خاص طور  پر  مواصلات کے منصوبوں کی  حمایت کی جائے جن میں دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو  ، اور پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے خاص طور پر قابل ذکر  ہیں –

 تیسری  یہ کے خوشحالی اور ترقی کے ضمن میں شنگھائی سپرٹ کے تحت ترقی میں شراکت کے ر ہنما اصول کو بہر صورت پیش نظر رکھا جائے جس کے تحت غربت کا خاتمہ کیا جاسکے اور کمزور معیشتیں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں یہ مقاصد ایس سی او اور ترقیاتی بنک اور ترقیاتی فنڈ  کے قیام سے حاصل کیے جا سکتے ہیں-

 چوتھی  یہ کہ    ایس سی او بزنس کونسل تجارت کے مختلف شعبوں کے درمیان رابطے یقینی بنائے اور تاجروں کے درمیان تبادلوں کے لیے ایس سی او   ویزا سسٹم کا اجرا کیا جائے


اور  آخری ترجیح یہ ہے کہ رکن ممالک کے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے خصوصی پروگرام تشکیل دیے  جائیں اور نوجوانوں کے درمیان باہمی رابطوں کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں  ۔

صدر ممنون حسین نے کہا کہ  پاکستان ایس سی او کے ہر اول دستے کے رکن کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا ۔

 


شیئر

Related stories