شنگھائی تعاون تنظیم کی چھنگ تاوُ سمٹ میں چینی صدر کے خطاب پر مثبت رد عمل

2018-06-12 11:45:21
Comment
شیئر
شیئر Close
Messenger Messenger Pinterest LinkedIn

شنگھائی تعاون تنظیم کی چھنگ تاوُ  سمٹ میں چینی صدر کے خطاب پر مثبت رد عمل

شنگھائی تعاون تنظیم کی چھنگ تاوُ  سمٹ میں چینی صدر کے خطاب پر مثبت رد عمل


دس تاریخ کو چین کے صدر شی جن پھنگ نے چھن تاوُ  شہر میں شنگھائی تعاون تنظیم کی سمٹ میں تنظیم کے ہم نصیب معاشرے کے قیام کے حوالے سے اہم خطاب کیا جس پر مثبت رد عمل کا اظہار کیا گیا ۔ تنظیم کے رکن ملکوں کے میڈیا نے چینی صدر کے خطاب کی بھر پور کوریج کی ۔ مختلف شخصیات نے  شنگھائی تعاون تنظیم کی ترقی اور مستقبل کے بارے میں پر امیدی کا اظہار کیا۔افغان سیاسی تبصرہ نگار اسماعیل اللہ حتف نے کہا کہ موجودہ سمٹ میں دو ہزار انیس سے دو ہزار اکیس تک دہشت گردی، انتہا پسندی اور علیحدگی پسندی کے خلاف شنگھائی تعاون تنظیم کےتعاون کا فارمولا مرتب کیا گیا ہے جس سے علاقائی امن و استحکام کو زیادہ مضبوط کیا جائے گا۔ شنگھائی تعاون تنظیم  اور افغانستان کے رابطہ گروپ کے کردار کے حوالے سے چینی صدر کے پیش کردہ ٹھوس اقدامات پر تبصرہ کرتے ہوئے بیلا روس  کی نیشنل یونیورسٹی کے دانشور سدورسکی نے کہا کہ  سیکیورٹی کے حوالے سے چینی صدر کا پیش کردہ مشترکہ اور جامع تعاون نیز پائیدار سیکیورٹی کا تصور خطے کے امن و امان اور ترقی کے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔پاکستانی تبصرہ نگار  سلطان حالی نے کہا کہ چینی صدر نے  اپنی خطاب  میں یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ ترقی اور   شراکت داری میں ہم آہنگی ہونی چاہیے۔یہ شنگھائی روح  کا اہم حصہ ہے  جو شنگھائی تعاون تنظیم کی ترقی کی اصل قوت محرکہ ہے۔چینی صدر کے تصور  سے تنظیم کے رکن ممالک ثقافتی، سیاسی اور اقتصادی باٰڑ پار کرکے باہمی احترام کی بنیاد پر ایک مشترکہ ہدف کی جانب آگے بڑھ سکیں گے۔


شیئر

Related stories