امریکہ کی جانب سے چھیڑی گئی تجارتی جنگ کے پیش نظر چین کے ساتھ امریکی صنعتی اداروں کے تعاون میں اضافہ

2018-07-12 11:42:53
Comment
شیئر
شیئر Close
Messenger Messenger Pinterest LinkedIn
امریکی  وقت کے مطابق دس تاریخ کی رات امریکی تجارتی دفتر نے چین کی جانب سے دو سو بلین کی برآمدی مصنوعات کی محصولات میں دس فیصد اضافہ کرنے کی فہرست جاری کی ۔ جس کے پیش نظر  چین کی وزارت تجارت نے کہا کہ یہ ایک نا قابل قبول اقدام ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک  اور عوام کے مفادات کے تحفظ کے لئے چینی حکومت کو اس کا جواب دینا ہو گا ۔ 
دو سو بلین کی مصنوعات پر مزید محصولات لگانے کے  معنی یہ ہیں کہ امریکہ  کے لئے چین کی  برآمدی مصنوعات کے نصف حصے پر منفی اثرات پڑیں گے ۔ رائے عامہ کا خیال ہے کہ وائٹ ہاوس کے اس اقدام کا مقصد چین پر دباو ڈالنا ہے تاکہ چین امریکہ کے ساتھ سمجھوتہ کرے  ۔ دراصل اس  اقدام پر عمل درآمد کے لئے دو مہینوں تک  لوگوں کی رائے لینا ہے اور اس دوران مختلف غیر یقینی عناصر موجود ہیں ۔ 
لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ حال ہی میں کئی امریکی صنعتی ادارے چین کے ساتھ تعاون کے لئے آئے ہیں ۔ جیسا کہ  دس تاریخ کو  پوری دنیامیں مشہور  الیکٹرک گاڑی اور توانائی کمپنی تاسلا نے چین کے شہر شنگھائی میں اپنے  پہلے بیرون ملک  کارخانے کے قیام  کےلئے چین کے ساتھ سرمایہ کاری کے  معاہدے پر دستخط کئے ۔ جبکہ گیارہ تاریخ کو امریکہ کے شہر  شکاگو کے میئر  کی قیادت میں ایک تجارتی وفد نے بیجنگ میں چین کے ساتھ دو ہزار اٹھارہ سے دو ہزار تیئیس تک اہم صنعتی شعبوں میں تعاون کے پنج سالہ  منصوبے پر دستخط کئے  ہیں ۔ یہ چین اور امریکہ کی  مقامی حکومتوں کے درمیان طے پانے والا پہلا پنج سالہ منصوبہ ہے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ وائٹ ہاوس تجارتی تحفظ پسندی میں مصروف  ہے  مگر امریکی مقامی حکومت اور صنعتی و کاروباری اداروں نے اپنے عمل سے تجارتی جنگ کی مخالفت اور  چینی منڈی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے ۔  


شیئر

Related stories