کوبوچی کے صحرا میں شجر کاری سے مقامی رہائش پزیر لوگوں کے لئے خوشحالی کا دروازہ کھول دیا گیا ہے

2018-08-06 16:43:32
Comment
شیئر
شیئر Close
Messenger Messenger Pinterest LinkedIn

 کوبوچی کے صحرا میں شجر کاری سے مقامی رہائش پزیر لوگوں کے لئے خوشحالی کا دروازہ کھول دیا گیا ہے

 کوبوچی کے صحرا میں شجر کاری سے مقامی رہائش پزیر لوگوں کے لئے خوشحالی کا دروازہ کھول دیا گیا ہے

 کوبوچی کے صحرا میں شجر کاری سے مقامی رہائش پزیر لوگوں کے لئے خوشحالی کا دروازہ کھول دیا گیا ہے

 کوبوچی کے صحرا میں شجر کاری سے مقامی رہائش پزیر لوگوں کے لئے خوشحالی کا دروازہ کھول دیا گیا ہے

 کوبوچی کے صحرا میں شجر کاری سے مقامی رہائش پزیر لوگوں کے لئے خوشحالی کا دروازہ کھول دیا گیا ہے

 کوبوچی کے صحرا میں شجر کاری سے مقامی رہائش پزیر لوگوں کے لئے خوشحالی کا دروازہ کھول دیا گیا ہے

 کوبوچی کے صحرا میں شجر کاری سے مقامی رہائش پزیر لوگوں کے لئے خوشحالی کا دروازہ کھول دیا گیا ہے

کوبوچی صحرا چین کے انر  منگولیا خود اختیار علاقے کے آردوس شہر کے شمالی علاقے میں اٹھارہ ہزار  چھہ سو مربع کلومیٹر  پر محیط ہے  جو چین کا ساتواں بڑا صحرا ہے ۔ لیکن   سیٹلائٹ سے کھینچی گئی تصویر میں اس وقت  آپ کو  درخت ہی درخت نظر  آتے ہیں ۔ مقامی حکومت ، اداروں اور عام شہریوں کی مشترکہ کوششوں سے کوبوچی صحرا میں صحرا زدگی کی روک تھام میں نمایاں کامیابی حاصل ہوئی ہے اور اس سے حاصل ہونے والے معاشی منافع سے مقامی کسانوں اور مویشی بانوں کی آمدنی میں بھی خوب اضافہ ہوا ہے ۔ 
تیس سال قبل کوبوچی صحرا کے علاقے میں رہائش پزیر افراد بہت غریب تھے ۔ وہ کچے مکانات میں رہتے تھے اور موسم بہار میں جب گرد وغبار کے جھکڑ چلتے تھے تو ریت کی وجہ سے مکانوں کے دروازے نہیں کھل سکتے تھے ۔ اس علاقے میں آمدو رفت کے لیے واحد سہولت اُونٹ کی سواری تھی ۔ لیکن اب صحرا میں ہر طرف سبزا ہی سبزا  نظر آتا ہے ۔ قائم ہوئے نئے  دیہات  سے شاہراہ گزرتی ہے ۔  کسان اور  مویشی بان اس  پرکشش علاقے میں اب خوش حال زندگی بسر کرتے ہیں ۔ 
یاد رہے کہ دو ہزار سترہ میں کوبوچی صحرا میں صحرا زدگی کی روک تھام کے سلسلے میں کامیابی کےعمل کو اقوام متحدہ کے اعلامیے میں شامل کیا گیا اور  کوبوچی صحرا عالمی سطح پر  انسداد صحرا زدگی کی مثال بن گیا ہے ۔ 

شیئر

Related stories