ارمچی: دور افتادہ سرحدی علاقے سے دنیا تک رسائی کے لیے مرکزی دروازہ بننے تک کا سفر

2018-08-12 15:37:56
Comment
شیئر
شیئر Close
Messenger Messenger Pinterest LinkedIn

ارمچی:  دور افتادہ سرحدی علاقے سے  دنیا تک رسائی کے لیے مرکزی دروازہ بننے تک کا سفر

ارمچی:  دور افتادہ سرحدی علاقے سے  دنیا تک رسائی کے لیے مرکزی دروازہ بننے تک کا سفر

اگست کے مہینے میں ارمچی کے مرکز   نقل و حمل   سےجو ریل گاڑی سامان کی ایک بڑی کھیپ لے کر یورپ کی جانب روانہ ہوگی   ،وہ اس مرکز کے قیام کے بعد سے اب تک چلنے والی ۱۴۴۸ ویں ریل گاڑی ہے ۔ 
چین کی   جانب سے پیش کردہ بیلٹ اینڈ روڈانیشییٹو کو دو ہزار اٹھارہ میں پانچ سال مکمل ہو   جائیں گے۔ مئی دو ہزار سولہ میں جب ارمچی میں ریل گاڑی کے ذریعے  سامان کی نقل   وحمل کے اس مرکز کا افتتاح ہوا تو یہاں سے چار بین الاقوامی لائنز کے ذریعے ہفتے   میں صرف ایک مرتبہ سا مان کی ترسیل کی جاتی تھی۔ اب اس مرکز سے انیس لائنز کے ذریعے   ایشیا اور یورپ کے سترہ ممالک کے چوبیس شہروں تک سامان کی ترسیل کا کام   کیا جاتاہے۔ 
سنکیانگ چنٹیا بین الاقوامی مرکز نقل و حمل کے ڈپٹی جنرل مینیجر ،   نان جون کے مطابق اب اس مرکز سے روزانہ ۳،۶۰۰ ٹن سے زائد سامان کی کھیپ کی ترسیل   اور وصولی کی جاتی ہے اور اسی وجہ سے بیلٹ اینڈ روڈ کے ساتھ وابستہ ممالک میں ارمچی   کو نقل و حمل کے ایک سب سے بڑے مرکز کی حیثیت حاصل ہو چکی ہے ۔ انہوں نے مزید بتایا   کہ طریقہ کار کے نظام میں بہتری اور اصلاح کے بعد چین سے یورپ تک سامان کی ترسیل کا   عمل بائیس دن سے کم ہو کر پندرہ دن جب کہ چین سے وسطی ایشیا تک کا سفر چھیاسٹھ   گھنٹوں سے کم ہو کر چوالیس گھنٹوں تک کا رہ گیا  ہے۔ اس مرکز میں دو سو سے زائد   انواع کی اشیا کی ترسیل کے لیے ایک پلیٹ فارم بنایا گیا ہے جہاں سے کپڑوں  سے لے کر   مشینری اور بجلی کی مصنوعات تک کی ترسیل کی جاتی ہے ۔ نان جون نے فخرئیہ انداز میں   کہا کہ بیلٹ اینڈ راوڈ انیشیٹو کے باعث سنکیانگ مغربی دنیا کی طرف کھلنے والے   دروازے میں تبدیل ہو گیا ہے ۔  
 

 


شیئر

Related stories