دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو زمانے کے دھارے کی رہنمائی کر رہا ہے : سنہوا نیوز ایجنسی کا تبصرہ

2018-08-26 16:21:06
Comment
شیئر
شیئر Close
Messenger Messenger Pinterest LinkedIn

دو ہزار تیرہ میں چینی صدر شی جن پھنگ نے دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو  پیش کیا اور اب   پانچ سال ہو چکے ہیں۔سنہوا نیوز ایجنسی کی جانب سے ایک تبصرے میں لکھا ہوا ہے   کہ  پانچ برسوں میں بیلٹ اینڈ روڈ کی تعمیر کو اہم ثمرات حاصل ہوئے ہیں۔
پانچ   برسوں میں ایک سو سے زیادہ ممالک یا عالمی تنظیموں نے دی بیلٹ اینڈ روڈ کی حمایت کا   اظہار کیا اوران میں اسی سے زیادہ نے چین کے ساتھ تعاون کے معاہدوں پر دستخط کیے   ہیں۔
پانچ برسوں میں اس انیشیٹو کو عالمی سطح پر بڑے پیمانے پر سراہا گیا ہے   ۔مبصر کے خیال میں اس کی پہلی وجہ یہ ہے کہ دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو نے ترقی کے   لیے دنیا کی خواہش پر توجہ دی ہے۔ تاحال چین نے دی بیلٹ اینڈ روڈ سے وابستہ ممالک   کے ساتھ اسی سے زیادہ آزاد تجارتی زونز قائم کیے ہیں اور ان ممالک کے لیے روزگار   کے لاکھوں مواقع فراہم کیے گئے ہیں۔حقائق سے ظاہر ہے کہ دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو   خوشحالی اور ترقی کے لیے مختلف ممالک کی خواہشات اور خوبصورت زندگی کے لیے عوام کی   امید سے مطابقت رکھتا ہے۔
اس کے علاوہ دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو سے متعلق تعمیر   میں چین کھلے پن اور اشتراک کے اصولوں پر قائم رہا ہے جس سے یہ نتیچہ ہوا ہے کہ یہ   تعاون مساوات ،کھلےپن اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکٹرٹری   جنرل انتونیو گتریز کے خیال میں دی بیلٹ اینڈ روڈ ایسا انیشیٹو ہے جس سے لوگوں   کو یہ یقین ہو سکتا ہے کہ اقتصادی ترقی کے عمل میں کسی ایک شخص کو بھی پیچھے   نہیں چھوڑا جا ئے گا۔ چین اور دنیا کی مشترکہ کوششوں کے ذریعے دی بیلٹ اینڈ روڈ   انیشیٹو کا مستقبل مزید روشن ہو جائے گا جو عالمی امن و ترقی کے لیے مزید کردار ادا   کر سکے گا۔

شیئر

Related stories