دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو نے عالمی انتظامی نظام میں اصلاحات کے لئے ایک نیا راستہ پیش کیا ہے

2018-08-28 18:53:48
Comment
شیئر
شیئر Close
Messenger Messenger Pinterest LinkedIn

پانچ سال قبل چینی صدر شی جن پھنگ نے دی بیلٹ ایند روڈ انیشیٹو پیش کیا ۔ اب پانچ سال گزار  چکے ہیں۔ جیسا کہ برطانیہ کی  کیمبرج یونیورسٹی کے پروفیسر  مرٹن یاکس کا کہنا ہے کہ چین نے ایک بڑی تعداد میں دنیا کے ممالک کو اپنی طرف متوجہ کر لیا ہے چونکہ انہوں نے دیکھا کہ چین نے ترقی کا نیا امکان فراہم کیا ہے ۔ نیا امکان دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے تحت عالمی انتظامی اصلاحات کے لئے چین کی جانب سے پیش کئے جانے والے  جامع مشاورت ، تعمیرات  میں  شراکت داری  اور مشترکہ مفادات پر مبنی اس نئے تصور کے مترادف ہے ۔ 
جامع مشاورت کے معنی یہ ہیں کہ تمام معاملات کو مختلف فریقوں کے درمیان صلاح مشورے کے بعد حل کیا جائے گا اس سے جدید عالمی انتظام کے اصول کے طور پر "مساوات " کی عکاسی کی جاتی ہے جبکہ  تعمیرات میں شراکت داری کا مطلب یہ ہے کہ سب ایک دوسرے کے ساتھ مل کر  تعمیرات میں حصہ لیں جو کھلے پن کا عکاس ہے ۔ علاوہ ازیں مشترکہ مفادات سے تمام شراکت دار  ترقی میں حاصل کردہ نتائج سے مستفید ہوں گے ۔ 
چینی صدر شی جن پھنگ نے بارہا کہا ہے کہ چین نے دی بیلٹ اینڈ رود انیشیٹو پیش کیا لیکن تمام مواقع اور نتائج پوری دنیا کے ہیں ۔ 
گزشتہ پانچ برسوں میں دی بیلٹ اینڈ روڈ کی تعمیر سے نا صرف عالمی اقتصادی تعاون کو فروغ ملا ہے بلکہ عالمی انتظامی نظام کی بہتری کے لئے بھی مفید  ثابت ہوئی ہے ۔ 

شیئر

Related stories