چینی معاشی و اقتصادی ترقی کے چار عوامل

2018-10-23 10:45:48
Comment
شیئر
شیئر Close
Messenger Messenger Pinterest LinkedIn

چینی معاشی و اقتصادی ترقی کے چار عوامل

چینی معاشی و اقتصادی ترقی کے چار عوامل

تین ستمبر سنہ دو ہزار سولہ کو جی 20 گروپ کی صنعتی و تجارتی سربراہی کانفرنس کی افتتاحی تقریب چینی شہر ہانگ زو میں منعقد ہوئی ۔چین کے صدر مملکت شی جن پھنگ نے افتتاحی تقریب سے خطاب کیا۔
دسمبر سنہ انیس سو اٹہتر میں چینی کمیونسٹ پارٹی کی گیارہویں مرکزی کمیٹی کے تیسرے کل رکنی اجلاس کے انعقاد کے بعد چین میں اصلاحات و کھلے پن کا آغاز ہوا۔اس وقت چین میں فی کس مجموعی قومی آمدنی صرف ایک سو نوے امریکی ڈالرز تھی۔چالیس سالوں کی ترقی کے بعد اب چین میں فی کس مجموعی قومی آمدنی آٹھ ہزار آٹھ سو امریکی ڈالز سے بھی زائد ہوچکی ہے اور ستر کروڑ لوگ غربت سے نکل آئے ہیں۔چین میں اصلاحات و کھلی پالیسی کے نفاذ کے دوران حاصل کردہ پیش رفت "چینی معجزہ" کہلاتی ہے۔
چین کے صدر مملکت شی جن پھنگ کی نظر و خیالات میں چین کی معاشی و اقتصادی ترقی چار عوامل پر مبنی ہے:
یہ دریافت کا عمل ہے۔ایک ارب تیس کروڑ آبادی کا حامل بڑا ملک اپنے جدید ساز عمل کو پورا کرنا چاہتا ہے۔انسانی تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں مل سکتی۔چین کو اپنی صورتحال کے مطابق ترقی کے راستے پر گامزن رہنا ہے۔
یہ محنت سے کام کرنے کا عمل ہے۔ہم نے اقتصادی ترقی کو مرکزی اہمیت دے کر محنت سے کام لیتے ہوئے چین کو دنیا کی دوسری بڑی معشیت ، سامان تجارت کا سب سے بڑا ملک اور غیرملکوں میں سرمایہ لگانے والے تیسرےبڑے ملک میں بدل دیا ہے۔
یہ مشترکہ خوشحالی کا عمل ہے۔ترقی عوام کے لئے ہے، ترقی کا انحصار عوام پر ہے اور ترقی کی کامیابی کے لیے عوام اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔یہ چین میں اصلاحات و کھلی پالیسی کے نفاذ اور سوشلسٹ جدیدیت کی تعمیر کا بنیادی مقصد ہے۔
یہ چین کو دنیا سے ملانے کا عمل ہے۔ہم کھلے پن کی پالیسی پر قائم رہتے ہوئے مزید انصاف اور معقول عالمی نظام کی تعمیر کو مثبت طور پر آگے بڑھاتے رہتے ہیں۔چین اور دنیا کے درمیان رابطہ کو مزید گہرائی تک لےجایا جارہا ہے۔


شیئر

Related stories