کرنسی کی شرح تبادلہ کو آلہ بنانا پوری دنیا پر منفی اثرات مرتب کرے گا،سی آر آئی کا تبصرہ

2019-08-09 19:19:33
Comment
شیئر
شیئر Close
Messenger Messenger Pinterest LinkedIn

امریکی وزارت خزانہ نے حال ہی میں چین کو کرنسی کی شرح تبادلہ میں ردوبدل کرنے والا ملک قرار دیا جس کے منفی اثرات نہ صرفخود امریکہپر بلکہ پوری دنیاپر پڑیں گے۔
عالمی اقتصادی ترقی کی تاریخ کے جائزے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ شرح تبادلہ میں بڑی حد تک اتار چڑھاؤکا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ امریکہ کی بعض شخصیات نے چین پر کرنسی کی شرح تبادلہ میں ردوبدل کرنے کا الزام اس لیے لگایا ہے کہ وہ چین پر ٹیرف سے مزید دباؤ ڈالنے کے لیے بہانہ تلاش کرنا چاہتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھوہ امریکی فیڈرل ریزرو پر کرنسی کی پالیسی کو نرم بنانےکے لئےدباؤ بھی ڈالنا چاہتے ہیں۔اس کے پیچھے سیاسی اسباب موجود ہیں۔لیکن سارا کام ان شخصیات کے ارادہ کے مطابق نہیں چل سکے گا اور ان کی یہ سازش ناکام ہوگی۔
امریکہ اشیا کی کم قیمت کے ذریعے ملک کے اندرکھپت کے اعلی معیار کو برقرار رکھتا ہے۔لیکن اس وقت امریکہ کی کچھ شخصیات چین کیبرآمدی مصنوعات کی قیمت کوبڑھا نے کی کوشش کررہی ہیں جس کی وجہسے امریکیاداروں کےمنافع کو بھی کم کیا جائے گا۔آخر کار اس صورت حال میں اصلنقصان امریکی صارفین کا ہوگا۔
کافی زیادہامریکی ماہرین نےبتایا ہے کہ آر ایم بی کی شرح تبادلہ میں اتار چڑھاؤکا سبب امریکہ کی جانب سے چین پر نئے محصولاتعائد کرنے کی دھمکی ہے۔
سن انیس سو ستانوے میں ایشیائی مالیاتی بحراں سے لے کر دو ہزارآٹھ کے عالمی مالیاتی بحراں تک ،نیز دو ہزار اٹھارہ سے امریکہ کی جانب سے چھیڑنے والے تجارتی تصادم میں چین نے ہمیشہ سے مارکیٹ کی بنیاد پر شرح تبادلہ کے نظامکو برقرار رکھا ہے۔خواہ امریکہ کی کچھ شخصیات آر ایم بی کی شرح تبادلہ کے حوالے سے کیا بیانات دیتی رہیں،عالمی برادری ان کے اس جھوٹ کو تسلیم نہیںکرے گی۔

شیئر

Related stories