ڈاریل موری کو معافی مانگنی چاہیے۔ سی سی ٹی وی کا تبصرہ

2019-10-07 16:44:35
Comment
شیئر
شیئر Close
Messenger Messenger Pinterest LinkedIn

حالیہ دنوں امریکہ کی نیشنل باسکٹ بال ایسوسی ایشن یعنی این بی اے کے ہیوسٹن راکٹ کے جنرل منیجر ڈاریل موری نے اپنے سوشل میڈیا اکاونٹ پر ہانگ کانگ کے انتہا پسندوں کی حمایت کی جس پر ہیوسٹن میں قائم چینی قونصل خانے نے راکٹ کلب کے خلاف سخت احتجاج کیا ۔ چین کی باسکٹ بال ایسوسی ایشن اور چائنا میڈیا گروپ کے سی سی ٹی وی اسپورٹس چینل نے کلب کے ساتھ تبادلے ، تعاون اور نشریات کی معطلی کا بھی اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ ، چین میں ہیوسٹن راکٹ کے متعدد سپانسرز نے بھی اس کلب سے تعاون کی معطلی کا اعلان کیا ہے۔

یہ بات سب جانتے ہیں کہ مشرق میں ہو یا مغرب میں ، قومی خودمختاری کو کبھی بھی چیلنج نہیں کیا جاسکتا ، اور قومی وقار سب سے زیادہ قابلِ احترام ہے۔ ایک ایسے کلب مینیجر کے طور پر کہ جو چین کو بہت اچھی طرح جانتا ہو اور اس کے عوام میں اچھی شہرت رکھتا ہو ،موری نے جس طرح بنیادی حقائق کو نظرانداز کرکے ،ہانگ کانگ کے تشدد پسندعناصر کی حوصلہ افزائی کی وہ چین کے بنیادی اصولوں کے خلاف اور چینی عوام کے لیے ناقابل قبول ہے۔

چین کے مشہور کھلاڑی یاو منگ کی وجہ سے ، راکٹ کلب کو چین میں کئی سالوں سے بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہے۔ پچھلے سترہ سالوں میں ، ہیوسٹن راکٹ نے چین میں بڑی تعداد میں اسپانسرز کی حمایت حاصل کی اور بہت پیسہ کمایا ہے۔ہیوسٹن راکٹ چینی مارکیٹ میں این بی اے کا سب سے کامیاب کلب بن چکا ہے۔موری اس تعاون سے مستفید ہونے والوں میں شامل ہیں۔ لیکن چینی عوام کی جانب سے کسی کو پسند کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ من گھڑت اور بے بنیاد باتیں یا عمل کرسکتا ہے ۔ چینی شائقین پہلے چینی ہیں ، پھر کھیل کے شائق ہیں ، وہ باسکٹ بال پسند کرتے ہیں ، لیکن مادر وطن سے بھی محبت کرتے ہیں۔چینی عوام قومی خودمختاری چیلنج کرنے والے کو ہرگز برداشت نہیں کر سکتے ہیں


شیئر

Related stories