بو آؤ ایشیائی فورم میں ایشیائی صدی کے لیے ایک مشترکہ ویژن کو فروغ دیا جائے گا ، پاکستانی وزیر اعظم

2018-04-04 13:37:46
Comment
شیئر
شیئر Close
Messenger Messenger Pinterest LinkedIn

پاکستانی وزیر اعظم شاہد خا قان عباسی نے بو آؤ  ایشائی فورم کے سالانہ اجلاس کے   حوالے سے کہا کہ امید ہے اس میں ایشیائی صدی کے لیے ایک مشترکہ ویژن کو فروغ دیا   جائے گا ۔ بوآؤ ایشیائی فورم کے اجلاس سے قبل تین اپریل کو اسلام آباد میں چینی   ذرائع ابلاغ کو دیے گئے انٹرویو میں پاکستانی وزیر اعظم نے کہا کہ فورم کے چھبیس   بانی رکن ممالک میں پاکستان بھی شامل ہےاور ایک بانی رکن ملک کی حیثیت سے   انہیں امید ہے کہ یہ سالانہ اجلاس  ایشا کے مستقبل کے لیے مزید موثر ثابت ہو گا   ۔انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں ایشائی  ممالک کے درمیان شراکت دارانہ   تعلقات سے معیشت،تجارت،ٹیکنالوجی،توانائی،ماحولیات  سمیت دیگر شعبوں کو فروغ ملا   ہے۔ وزیر اعظم  کا مزید کہنا تھا کہ کھلا پن اور شراکت داری موجودہ دور کا تقاضہ    ہے۔
 انہوں نے کہا کہ بو آؤ ایشیائی فورم کی اہمیت میں اضافہ ہو رہا ہے    جو مختلف ملکوں کو باہمی روابط بڑھانے  اور مشترکہ ترقی کے لیے تبادلہ خیال   کا موقع فراہم کرتا ہے۔پاکستانی وزیر اعظم نے کہا کہ صدر شی جن پھنگ کی   شرکت اس فورم کو مزید اہم بنائے گی اور ہم بو آؤ ایشیائی فورم میں صدر شی کی   دوراندیشانہ رائے اور عالمی معیشت و تجارت میں چین کے اہم کردار کے حوالے سے نظریات   سننے کےمنتظر ہیں۔
پاکستانی وزیر اعظم نے کہا کہ صدر شی جن پھنگ کا پیش کردہ   دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو موجودہ دور میں اصلاحاتی اقدام ہے جس کے اثرات  مثالی   ہونگے۔اس انیشیٹو کے فلیگ شپ منصوبے کی حیثیت سے سی پیک پاکستان چین اقتصادی تعاون   کا اصلاحاتی منصوبہ ہے جو پاکستان کو ترقی کے تاریخی مواقع فراہم کر رہا ہے ۔انہوں   نے کہاکہ سی پیک منصوبے میں توانائی ، ٹیلی مواصلات، ریلوے،شاہراہیں ،بنیادی   تنصیبات اور عوامی زندگی سمیت دیگر شعبوں میں تعاون شامل ہے۔پاکستان سی پیک کے اگلے   مرحلے میں  اکنامک زون کی تعمیر  کے لیے پرامید ہے ،جو پاکستان کی معیشت اور صنعتی   بنیادوں کو مضبوط بنائے گا ، جس سے نہ صرف اقتصادی انڈیکس میں اضافہ ہو گا بلکہ روز   گار کے بھی ہزاروں مواقع فراہم ہونگے۔
انہوں نے کہا کہ سی پیک پاکستان   میں موثر رابطوں کے نظام کی تعمیر میں مدد اور لاکھوں لوگوں٘ کی زندگی میں بھی   تبدیلی لا رہا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ تین سال قبل پاکستان میں توانائی کی قلت   تھی ،جب کہ سی پیک کے مختلف منصوبوں کے تحت  توانائی کے شعبے میں بہتری آ رہی ہے   ۔
مغربی   میڈیا کی جانب سے اس منصوبے پر کی جانے والی تنقید کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا   کہ دی بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ   موجودہ دورکا بہت اہم منصوبہ ہے اور ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ پاکستان اس منصوبے کا   بہت بڑا حصہ ہے۔ 

شیئر

Related stories