چین کی ترقی کا سفر

2017-09-25 20:40:31
Comment
شیئر
شیئر Close
Messenger Messenger Pinterest LinkedIn

سلطان محمود حالی <br> تجزیہ  نگار / مصنف <br>

سلطان محمود حالی
تجزیہ  نگار / مصنف

پچھلے  تینتالیس سالوں میں چین کے  ستتر دوروں کے دوران چین کی ترقی کا سفر جو میں نے دیکھا اسے اپنے کتابوں میں بھی قلمبد کیا ہے ۔ میں پہلی بار چین میں 1974 میں آیا تھا۔  اور اس وقت کے چین اور آج کے چین میں زمین آسمان کا فرق ہے  اس وقت چین ایک پسماندہ ملک تھا مگر ترقی کی جانب گامزن تھا ۔   پھر چین نے  جس طرح کی جست لگائی  اس نے بیشتر ترقی یافتہ ملکوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور غربت اور پسماندگی کو چھوڑ کر ترقی کی جانب یوں گامزن ہوا ۔چین کے جو راہنما تھے انکے اندر یہ خواہش پیدا ہوئی کہ دنیا کی  نا انصافی کے باوجود وہ ترقی کریں اور دنیا کو دکھا دیں کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑے رہ سکتے ہیں  اور مغرب نے چین کو مغربی ٹیکنالوجی سے دور رکھا ہوا تھا اسی وجہ سے چینی حکمرانوں نے ملک کی ترقی کے لئیے بھرپور کوشش کی۔  چین کی ترقی کا دوسرا راز یہ  ہے کہ چین کے جتنے راہنما آئے  وہ اپنی پالیسیوں کے باٰعث چین کو ترقی کے نئے سے نئے راستے پر گامزن کرتے گئے ۔ اور انہوں نے دوسرے ملکوں کی غلطیوں سے سیکھا ۔اور یہ بھی کوشش کی کہ چین کی جو پالیسیاں ہیں ۔وہ منجمند نہ ہوں انکے اندر روانی ہو ۔ اور وہ وقت کے دھارے کے ساتھ ساتھ بدلتی بھی رہیں ۔ تا کہ جو نئے چیلنجز آئیں ان کا مقابلہ کیا جاسکے ۔ اور یہی وجہ ہے کہ چین آج اس مقام پر کھڑا ہے

چین اس کوشش میں ہے کہ اپنی ترقی سے دوسرے ممالک کو بھرپور فائدہ پہنچائے  اور جو ترقی یافتہ ممالک ہیں اس نے ان کو دعوت دی ہے  کہ چین  کے ساتھ مل کر دنیا سے غربت ،افلاس ، ناخواندگی  ،صحت اور ماحولیات کے مسائل کو دور کیا جائے  اس میں سے کچھ ممالک نے تو چین کا خیر مقدم کیا ہے اور کچھ چین سے خائف ہیں  لیکن چین کو یقین ہے کہ جسطرح دی  بیلٹ  انڈ روڈ کا انیشیٹیو ہے اسکو لے کر جب وہ آگے چلے گا یہ جو 74 مماالک اور اسکے علاوہ ایشئین انفراسٹرکچر انوسٹمنٹ  بنک قائم کیا گیا ہے اس سے جو پسماندہ ممالک ہیں ۔  یا ترقی یافتہ ممالک ہیں وہ مل کر کے ایک ساتھ ترقی کے سفر پر چلیں گئے تو دنیا میں جوعدم مساوات ہے وہ دور ہو جائے گی اور مساوات قائم ہو گی۔ اور سب ممالک یکساں طور پر ترقی یافتہ ہو جائیں گئے ۔ یہ ایک بہت بڑا مشن ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ صدر شی جن پھنگ کی بصارت کا کمال ہے کہ وہ اسے لے کر آگے چلے ہیں ۔  مجھے قوی امید ہے کہ یہ کامیاب ہو گا۔

یہ بھی حسن اتفاق ہے کہ جب صدر شی جن پھنگ صدر منتخب ہوئے تو میں اس تقریب میں موجود تھا ۔  اور مجھے اس وقت اندازہ نہیں تھا کہ چین اور چین کے ساتھ ساتھ دنیا کی تاریخ بدلنے جا رہی ہے۔  کیونکہ ایک ایسا صدر ایک ایسا قائد چین کو  میسر ہوا ،  جس نے اپنی بصارت سے سب سے پہلے تو دنیا کو چینی خواب  کا تصور دیا  مگر اس چینی خواب میں انہوں نے چین کو علیحدہ نہیں رکھا ۔  انہوں نے دنیا کو ساتھ لے کر چلنے کی امید دکھائی  جس سے دنیا اور چین سے غربت اور افلاس کا خاتمہ ہو جائے گا ۔ 


شیئر

Related stories