چین کی خارجہ پالیسی میں تبدیلیاں

2017-09-25 20:44:23
Comment
شیئر
شیئر Close
Messenger Messenger Pinterest LinkedIn

سلطان محمود حالی <br> تجزیہ  نگار / مصنف <br>

سلطان محمود حالی
تجزیہ  نگار / مصنف

چین سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے اور اسکے پاس ویٹو پاور  بھی ہے ، اور چین نے اس پاور کا استعمال ہمیشہ نہایت ہی سمجھداری کے ساتھ کیا ہے  چین کو اچھی طرح معلوم ہے کہ دوسرے ممالک کے اوپر اپنے خیالات اور پالیسیاں  مسلط کرنے سے کیا نقصانات ہوتے ہیں ۔ چین کی خارجہ پالیسی میں جو تبدیلی آئی ہے اس میں چین نے تقریبا دنیا کے تمام ممالک  سے دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے ۔ اور دوستی کےساتھ تعاون کا ہاتھ بڑھایا ہے اور دنیا کو یہ باور کروایا ہے کہ چین کسی سے سبقت لے جانے کی دوڑ میں نہیں ہے  بلکہ چین سب کو ساتھ لے کر چلنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور خاص طور سے اپنے پڑوسی ممالک سے۔  ایک چینی محاورہ ہے کہ  ایک اچھے پڑوسی کو سونے کی بوری کے بدلے میں بھی تبدیل نہیں کیا جا سکتا ، اسی لئیے چین اپنے پڑوسیوں سے بہتر تعلقات کو اہمیت دیتا ہے  مثلا بھارت کی مثال لیں  اگرچہ بھارت چین سے تھوڑا سا خائف تھا  شائد ابھی بھی ہے  مگر چین نے اس سے جسطرح سے دوستی کا ہاتھ بڑھایا اور اسکو ایسے پراجیکٹس اور معائدات پیش کئیے جن سے فائدہ بھارت کو پہنچے گا ۔  نہ کہ چین کو۔ ان سے دنیا میں یہ خیالات پیدا ہوں گئے کہ ہم ایک دوسرے کےساتھ تعاون کر  کے زیادہ ترقی کر سکتے ہیں ۔  چین کی خارجہ پالیسی میں تبدیلیوں سے ہی خطے میں امن کے امکانات پیدا ہوئے ہیں کیونکہ چین تمام معاملات اور مسائل کو مزاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیتا ہے ، مسئلہ یوکرائن ہو یا کوریائی  جزیرے کا مسئلہ ،چین تصادم سے بچنے کی راہ دنیا کو دکھاتا ہے اسی وجہ سے چین کا راہنما کردار ابھر کر دنیا کے سامنے آیا ہے ۔ ۔ اور گزشتہ چار سالوں میں چین نے یہ کوشش کی ہے  کہ دنیا کےمسائل کا حل گفتگو کے ذریعے نکالا جائے۔

شیئر

Related stories