چین کی سائنس کے میدان میں کامیابیاں

2017-10-20 09:13:52
Comment
شیئر
شیئر Close
Messenger Messenger Pinterest LinkedIn


 سلطان محمود حالیؔ<br>تجزیہ  نگار / مصنف

سلطان محمود حالیؔ
تجزیہ  نگار / مصنف

گزشتہ ہفتے مجھے چین کے ریڈیوانٹر نیشنل سی آر آئی CRIکی دعوت پہ چین کے دوشہروں کا دورہ کر نے کا موقع ملایہ شہر تاریخی اعتبار سے تو شہرت کے حامل ہیں لیکن ان دونوں شہروں میں سائنس کے اعتبار سے جو ترقی ہوئی ہے۔ وہ قابل تحسین ہے۔ پہلا شہر یونچیان کے نام سے ہے جو ننگشیاء صوبے کا دارالحکومت ہے۔ دوسرا شہر آنہووئے صوبے کا صد رمقام خفے تھا۔
یونچیان شہر میں جو قابل ذکر کا میابی ہے وہ ’’اسمارٹ سٹی‘‘ Smart Cityہے۔ یونچیان میں اسمارٹ سٹی کو نہ صرف قریب سے دیکھنے کا موقع ملا بلکہ یہ سمجھنے کا تجربہ حاصل ہوا کہ ’’اسمارٹ سٹی‘‘ کیا ہے؟ اسکی افادیت کیا ہے؟ ’’ اسمارٹ سٹی‘‘ ایک جدید طرز کا ایسا شہر ہے جہاں کے باسی انٹر نیٹ کی وساطت سے دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی سے آشناہیں اور زندگی کے ہر شعبے میں فیضاب ہورہے ہیں۔ان کے رہائشی علاقوں میں سلامتی اور سیکوریٹی کا بہترین نظام ہے۔ ہر شہری کا نام تصویر اور دوسری تفصیلات انٹر نیٹ میں درج ہے جب وہ اپنے رہائشی علاقے میں داخل ہونے کے لئے تشریف لاتے ہیں اور گیٹ پہ نصب کمپیوٹر کی ایک بڑی سی اسکرین پہ انکی تصویر اور نام نظر آتے ہیں۔اور گیٹ کھل جاتے ہیں۔ مہانوں کے داخلے کی خاطر انکے میزبان پیشگی اطلاع دیتے ہیں۔ کوئی غیر متعلقہ شخص رہائشی کمیونٹی میں داخل نہیں ہو سکتا۔
کوڑے کو ٹھکانے لگانے کی خاطر جدید طرز کے اسمارٹ کوڑے کے ڈبے نصب ہیں جو سورج کی تپش سے تیارکی گئی بجلی سے چلتے ہیں اورکوڑے کو اس طرح ٹھکانے لگاتے ہیں کہ وہ کار آمد چیز میں تبدیل ہوجائیں۔
ڈاکیا یاکورئرCourier اگر ڈاک یاکسی کے لئے پارسل لائے تو گیٹ کے قریب ڈبے نصب ہیں جہاں پہلے خط یا پیکٹ کی اسکریننگ ہوتی ہے کہ کوئی آتشگیر مادہ یا دھماکہ خیز یا ضرررساں چیز تونہیں۔ اسکر یننگ کے بعد پارسل کو مخصوص ڈبے میں منتقل کیا جاتا ہے اور جسکے لئے یہ خط یا پارسل مقصود ہے اسکو انٹرنیٹ کے ذریعہ موبائل فون پہ پیغام ارسال کیا جاتا ہے اور اپنی سہولت کے مطابق وصول کر لیتا ہے۔پورے شہر میں بجلی پیدا کرنے کے ذرایع قدرتی ہیں۔ سورج کی روشنی یا ہوا سے پیدا کی گئی بجلی صاف ،آلودگی سے پاک اور سستی بھی ہے۔ گاڑیاں پڑول ،ڈیزل یا گیس کے بجائے بجلی سے چلتی ہیں۔ گاڑیوں میں نصب مخصوص بیٹریاں چارج کرکے استعمال ہوتی ہیں۔ ایک دفعہ چارج ہونے کے بعد 200کلومیٹرتک سفر کرسکتی ہیں اور گھروں اور دفاتر کے علاوہ شاپنگ پلازہ اور مخصوص چار جنگ اسٹیشن موجود ہیں جہاں گاڑی کی بیڑی چارج کی جاسکتی ہے۔صحت کی خاطر ہر کمیوینٹی رہائشی کمپلیکس میں جدید طرز کے میڈیکل سنیٹر قائم کئے گئے ہیں جہاں ابتدائی طبی امداد کے علاوہ مرض کی تشخیص میں مدد ملتی ہے۔ کوئی مریض بھی اپنے موبائل فون کے ذریعہ میڈیکل سنیٹر کو اپنا مسئلہ بیان کرسکتا ہے۔ مریض کے کوائف اور کیفیت متعلق ڈاکٹر تک پہنچتی ہے جو فیصلہ کرتا ہے کہ کسی قسم کے علاج یا آپریشن کی ضرورت ہے۔ اگر ضرورت پڑتی ہے تو دوسرے شہروں سے قابل معالج اور سرجن کو فوری طورپر طلب کیا جاسکتا ہے۔ٹریفک کے کنٹرول کے لئے بھی کمپیوٹر کا استعمال کیا جاتا ہے۔ جہاں ٹریفک جام ہووہاں پویس عوام کو فوری اطلاع دیتی ہے اور حل نکالنے کی کوشش کرتی ہے۔ حسب ضرورت مصروف سڑکوں پہ ٹریفک کارخ تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ حادثے کی صورت میں بروقت طبی امداد مہیا کی جاتی ہے۔ موسم کی تبدیلی اور تغیرات بھی سیٹیلائٹ کے ذریعہ مونیٹر کر کے عوام کو بروقت اطلاع دیتے ہیں جو عام شہریوں کے علاوہ کسانوں کے لئے انتہائی مفید ہوتی ہیں۔
تعلیم کے شعبے میں بھی اسمارٹ سٹی نے کمپیوٹر کے استعمال سے جدت اور افادیت پیدا کی ہے ۔ عوام کی سہولت کے لئے اسکولوں، کالجوں میں داخلے اور مختلف مضامین سے متعلق تفصیلی معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔ عوام کی سہولت کی خاطر ایدمنسٹریشن سے متعلق تمام معاملات ایک ہی عمارت میں حل ہوتے ہیں۔ کسی شہری کو پاسپورٹ ، شناختی کارڈ ، تجارتی پرمٹ، ڈرایئونگ لائنس جسکی بھی ضرورت ہو وہ کمپیوٹر میں اپنے کوائف درج کرتاہے۔ وہیں تصویر بھی کھنچ جاتی ہے اور منٹوں میں مطلوب پرمٹ حاصل ہوجاتی ہے۔
اسمارٹ سٹی سے ملحقہ انڈ سٹر یل یاصنعتی پارک قائم کئے گئے ہیں جہاں کمپیوٹر کے ذریعہ چلنے والی مشینیں ہیں جہاں ٹیکسٹایل ،چمڑے کی مضوعات دوائیں، گاڑیاں ، فوڈ پر سنگ کے کارخانے قائم ہیں۔ ان فیکٹریوں میں قدرتی توانائی استعمال ہوتی ہے۔ جس سے ماحولیات کو آلودگی سے پاک رکھا جاتا ہے۔ہمیں ایک مبلوسات کی فیکٹری کی سیر کرائی گئی جہاںصارف کا ناپ کمپیوٹر کے ذریعہ لیا جاتا ہے اورمطلوبہ ڈیزائن کا فیصلہ کرنے کے بعد پورا سوٹ منٹوں میں کمپیوٹر کے ذریعہ تیار ہو جاتا ہے۔
چینی حکومت نے ملک میں600’’ اسمارٹ سٹی‘‘ کے قیام کا منصوبہ بنایا ہے جس میں تقریبا پورا چین اس جدید سہولت سے فیضاب ہوگا اور اس کے عوام کی زندگی نسبتا آسان ہوجائے گی۔دوسرا شہرجہاں ہمیں لے جایا گیا وہ خفے تھا۔ اس شہر میں جامعہ برائے سائنس اور ٹیکنالوجی قائم ہے جس کی انسٹی ٹیوٹ برائے سائنس نے ایسی تحقیقات کی ہیں جنہوں نے دنیا کو محوحیرت کر دیا۔ ایٹمی تحقیقات یہیں ہوئیں۔ اور اب اس جامعہ نے کوانٹم فزکس میں کو انٹم ذرے پہ جو تحقیقات کی ہیں انکے ذریعہ خلائی تحقیقات کو زبردست فروغ حاصل ہوا۔ اسی سائنسی کا میابی کی تلاش میں امریکی اور جرمن سائنس داں برسوں سے تحقیق میں مشغول تھے لیکن انہیں کا میابی حاصل نہ ہوئی۔ اب وہ چین سے اس کی تحقیق سے استفادہ کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔راقم کو بیجنگ میں سی آر آئی کی اردو سروس کا دورہ کرنے کا موقع ملا۔ اسکی ہیڈنے گر مجوشی سے میرا استقبال کیا اور اپنے ادارے کا دورہ کرایا۔ ہم پاکستانیوں کو چین کی سائنسی کا میابیوں سے سبق حاصل کر نے کی اشد ضرورت ہے۔


شیئر

Related stories