چین اور پاکستان کے درمیان سی پیک کے تحت صنعتی تعاون اور صنعتی زونز کے قیام کے حوالے سے بیجنگ میں ایک عالمی سیمینار کا انعقاد

2018-01-06 14:26:50
Comment
شیئر
شیئر Close
Messenger Messenger Pinterest LinkedIn

چین اور پاکستان کے درمیان سی پیک کے تحت صنعتی تعاون اور صنعتی زونز کے قیام کے حوالے سے  بیجنگ میں ایک عالمی سیمینار کا انعقاد

چین اور پاکستان کے درمیان سی پیک کے تحت صنعتی تعاون اور صنعتی زونز کے قیام کے حوالے سے  بیجنگ میں ایک عالمی سیمینار کا انعقاد

چین اور پاکستان کے درمیان سی پیک کے تحت صنعتی تعاون اور صنعتی زونز کے قیام کے حوالے سے  بیجنگ کی پیکنگ یونیورسٹی کے زیر اہتمام ایک عالمی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ پیکنگ یونیورسٹی میں مطالعہ پاکستان مرکز اور چین کی تھری گارجیز انٹرنیشنل کارپوریشن کے اشتراک سے مذکورہ سیمینار  کا انعقاد کیا گیا تھا۔ عالمی سیمینار میں چین۔پاک تعلقات کے ماہرین ، دونوں ممالک سے سفارتکاروں ، دانشوروں ، تھنک ٹینکس کے سربراہان اور تعلیمی ماہرین نے شرکت کی۔شرکاء نے سی پیک کے تحت چین اور پاکستان کے درمیان تعاون اور تبادلوں سے متعلق تبادلہ خیال کیا۔چین میں پاکستان کے سفیر مسعود خالد نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چین اور پاکستان چاروں موسموں کے تزویراتی شراکت دار ہیں  اور دونوں ملکوں کی دوستی کی جڑیں تاریخی اعتبار سے بے حد گہری ہیں۔انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کی دوستی وقت کے ساتھ مزید فروغ پاتی رہی ہے اور خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی چین پاک دوستانہ تعلقات ایک مثال ہیں۔پاکستانی سفیر نے مزید کہا کہ چین اور پاکستان کے تعلقات باہمی احترام ، باہمی اعتماد اور مشترکہ اقدار کی بنیاد  پر فروغ پا  رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سی پیک دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کا ایک فلیگ شپ منصوبہ ہے اور دونوں ملکوں کی اعلیٰ قیادت کے وژن کا عکاس ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ دو ہزار تیرہ میں سی پیک کے آغاز کے بعد مسلسل مثبت پیش رفت ہوئی ہے  ، سی پیک منصوبہ جات کی بدولت پاکستان میں توانائی کے بحران پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا ہے  ، گوادر بندرگاہ فعال ہو چکی ہے جبکہ بنیادی تنصیبات کے دیگر منصوبوں پر بھی کام بھر پور انداز سے جاری ہے۔مسعود خالد نے کہا کہ چین اور پاکستان کے درمیان صنعتی تعاون سی پیک کا ایک اہم جزو ہے جس کے تحت دونوں ملک پاکستان بھر میں خصوصی اقتصادی زونز کی تعمیر  کے لیےمل کر کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چین کے پاس صنعتی پارکس اور اقتصادی زونز کا وسیع تجربہ ہے اور پاکستان امید کرتا ہے کہ چین کی حمایت سے پاکستان کے  منتخب علاقوں میں خصوصی اقتصادی زونز قائم کیے جا سکیں گے جس سے پاکستان کی معیشت کو فروغ ملے گا اور مقامی افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔مسعود خالد نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان سی پیک کی کامیاب تکمیل کے لیے پر عزم ہے اور  حکومت پاکستان نے سی پیک کے منصوبہ جات پر کام کرنے والے چینی شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کی بدولت خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ سی پیک کی بدولت چین اور پاکستان کی معاشی ترقی ممکن ہو سکے گی جس سے دونوں ممالک کے عوام کے لیے ثمرات حاصل کیے جا سکیں گے۔

پاکستان کی وزارت برائے منصوبہ بندی ،ترقی و اصلاحات میں سی پیک پروجیکٹ ڈائریکٹر حسان داود بٹ نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ تیز رفتاری سے صنعتی تعاون کو آگے بڑھایا جائے گا اور اس ضمن میں چینی ماہرین پاکستانی اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

پاکستان کے معروف تھنک ٹینک ایس ڈی پی آئی کے سربراہ عابد قیوم سلہری  نے کہا کہ پاکستان میں خصوصی اقتصادی زونز کے قیام سے پاکستان کی معیشت بہتر ہو گی ، غربت کے خاتمے میں مدد ملے گی اور مقامی افراد کے لیے روزگار کی فراہمی کے مواقع میسر آئیں گے۔

تقریب میں شریک دیگر شرکاء نے کہا کہ سی پیک کی بدولت چین۔پاک تعلقات مضبوط ترین معاشی تعلقات میں تبدیل ہو چکے ہیں۔شرکاء نے سی پیک کے تحت جاری منصوبہ جات کی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے دیگر شراکت داروں کے لیے سی پیک ایک بہترین مثال ہے۔دو روز تک جاری رہنے والے عالمی سیمینار کے دوران ماہرین چین۔پاک صنعتی تعاون ،صنعتی زونز کی تعمیر  ، سی پیک کی کامیاب تکمیل کی راہ میں حائل چیلنجز  ، پاکستان میں شعبہ خدمات کی ترقی ، سی پیک کے تحت تعلیمی و افرادی تبادلوں کے فروغ  سمیت فریقین کے درمیان توانائی ، زراعت ، میڈیا ، سیاحت اور دیگر شعبہ جات میں تعاون کے حوالے سے تبادلہ خیال کریں گے۔


شیئر

Related stories