چین میں جشن بہار سے جڑی روایات

2018-02-12 08:44:55
Comment
شیئر
شیئر Close
Messenger Messenger Pinterest LinkedIn

چین میں جشن بہار سے جڑی روایات

چین میں جشن بہار سے جڑی روایات

تحریر: شاہد افراز خان

چین میں نئے قمری سال اور جشن بہار کا آغاز ساتھ ساتھ ہوتا ہے۔دنیا کے دیگر معاشروں کے بر عکس چینی معاشرے میں ہر قمری سال کو کسی خاص جاندار سے منسوب کیا جاتا ہے مثلاً بندر ، خرگوش ، مرغ ، ڈریگن وغیرہ۔رواں برس چین میں کتے کا سال کہلائے گا جبکہ سال دو ہزار سترہ مرغ کا سال تھا۔

جشن بہار کے موقع پر   چینی شہری  چالیس روزہ تقاریب کا اہتمام کرتے ہیں۔ پوری دنیا میں رہنے والے چینی جوش و خروش سے یہ تہوار مناتے ہیں۔ اس تہوار پر چینی لوگ گھروں اور دکانوں پر سجاوٹ اور آرائش کے لیے  سرخ رنگ کے استعمال کو ترجیح دیتے ہیں۔اسی طرح پہناووں میں بھی سرخ ملبوسات آپ کو زیادہ نظر آئیں گے۔جشن بہار کے دوران خاص قسم کے ذائقے دار کھانے کھائے جاتے ہیں اور ان میں چین کی خاص سوغات ڈمپلنگ کو  بڑی اہمیت حاصل ہے۔ڈمپلنگ کو آپ پاکستان کا  رول پراٹھا کہہ سکتے ہیں جس میں سبزی ،قیمے کو  نشاستہ والےاجزاء مثلاً روٹی ، گندم کے اندر بھر کر کچھ دیر کے لیے ابالا جاتا ہے اور شوق سے کھایا جاتا ہے۔

 چینی لوگ نئے قمری سال کے آغاز کی شام ڈمپلنگ تیار کرتے ہیں اور نئے سال کی صبح خاندان کے تمام افراد ایک ساتھ مل کر ان سے لطف اٹھاتے ہیں۔اسی طرح نئے سال کی پہلی شام خاندان کے تمام افراد  ایک ساتھ کھانا کھائیں گے اور جشن بہار اور نئے سال کی مناسبت  سےخاص قسم کے لذیز پکوان تیار کیے جاتے ہیں۔ جشن بہار کی مختلف تقریبات کے سلسلے میں چین بھر میں ٹیمپل فیئرز کا انعقاد کیا جاتا ہے اور چین کے مختلف حصوں میں لالٹین فیسٹیول اور دیگر بہت سی ثقافتی تقریبات دیکھنے میں آتی ہیں۔

چین کے باشندے جشن بہار کا بہت بے تابی سے انتظار کرتے ہیں،اس موقع پر نمائشی اشیاءاورتحفے خریدے جاتے ہیں۔بیجنگ میں قیام کے پہلے برس ایک چینی خاندان نے دعوت دی کہ جشن بہار کے موقع پر ان کے ہمراہ دوپہر کا کھانا کھایا جائے سو کچھ چینی دوستوں سے پوچھا کہ اس تہوار کے موقع پر بطور مہمان کسی کے گھر جانے کے کیا آ داب ہیں ۔ دوستوں نے بتایا کہ چینی افراد جب ایک دوسرے کے گھر جشن بہار کی مبارکباد دینے جاتے ہیں تو  ساتھ مٹھائی ، پھل وغیرہ ضرور ساتھ لے کر جاتے ہیں ، جس طرح پاکستان میں عام طور پر ہم عید کے موقع پر رشتہ داروں سے ملنے جاتے ہیں تو کوشش ہوتی ہے کہ  کچھ نہ کچھ ضرور ساتھ لے کر جایا جائے۔سو ہم نے بھی رخ کیا ایک نزدیکی بیکری کا لیکن بیکری پر تو بلا کی رش دیکھی ۔ اب دوسرا کوئی چارہ تو تھا نہیں سو ایک لمبی قطار میں لگ کر مٹھائی خریدنے میں بلا آ خر کامیابی مل ہی گئی ،یہ الگ بات ہے کہ ہماری باری کوئی ڈیڑھ گھنٹے بعد آ ئی۔ چینی بیکری کی مٹھائی پاکستانی انداز سے بہت مختلف ہوتی ہے اور میٹھے اور تیل کا استعمال بہت کم کیا جاتا ہے۔

جس طرح پاکستان میں عید کے موقع پر عیدی دی جاتی ہے اسی طرح یہاں بھی سرخ لفافوں میں بڑے ،بزرگ بچوں اور نوجوانوں کو عیدی دیتے ہیں۔ قارئین عیدی دینے کا انداز بہت دلچسپ ہے۔عیدی دینے کے لیے بھی سرخ رنگ کے انتہائی دیدہ زیب لفافے استعمال کیے جاتے ہیں اور جشن بہار کے موقع پر ان لفافوں کی بہت مانگ ہوتی ہے۔جس چینی خاندان سے ملنے اور ان کے ہمراہ جشن بہار کا تہوار منانے  کا اتفاق ہوا  اُن کی بزرگ خاتون سربراہ نے جب میں نے رخصت کی اجازت چاہی تو ایک سرخ رنگ کا لفافہ تھماتے ہوئے چینی زبان میں  نیک خواہشات کا اظہار کیا  ، اگرچہ میری جانب سے کچھ ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا گیا لیکن جس طرح پاکستان میں ہم زبردستی پیار سے  دوست احباب کی جیب میں کوئی چیز ڈال دیا کرتے ہیں اُس کی جھلک چین میں بھی نظر آئی اور یہی اپنائیت کا اظہار بھی ہے۔ چینی معاشرے میں جشن بہار کے موقع پر بڑے افراد بچوں کو  انہی سرخ لفافوں میں  پاکستانی طرز کی عیدی دیتے ہیں۔ 

جشن بہار کے موقع پر چین بھر میں تمام گھروں میں خوب خوب صفائیاں کی جاتی ہیں اور آمدسال نو کے موقع پر ہر طرح کے کوڑے کرکٹ کو گھرسے باہر نکال دینے کو ایک نیک شگون کادرجہ حاصل ہوتاہے۔دروازوں اور کھڑکیوں کو سرخ رنگ کے خوبصورت نمائشی کاغذ کے کتبوں سے آراستہ کیاجاتاہےاور ان کتبوں پر نئے سال کی آمد کے حوالے سے خوشی،خوش بختی،دولت اور طویل العمری کے بارے میں خوبصورت تحریریں بڑے دلکش انداز سے تحریر کی گئی ہوتی ہیں جبکہ بعض لوگ اس موقع پر سارے گھرکو سرخ رنگ  کرواتے ہیں۔

 چینی معاشرے میں یہ تہوار سال بھر کی رنجشوں اور ناراضگیوں کے خاتمے کا باعث بھی بن جاتاہےاور اس موقع پر ایک دوسرے کی بہتر صحت اور خوشحالی کے لیے نیک تمناوں کا اظہار بھی ہوتا ہے ۔ جو بات مجھے بہت خوبصورت لگی اور پاکستانی معاشرے کا بھی خاصہ ہے وہ خاندان کی اہمیت  ، رشتوں کی مضبوطی ، بزرگوں کا احترام اور خوشیوں کا بھر پور اظہار ہے۔جشن بہار کے دوران بچوں کی کوشش ہوتی ہے کہ والدین اور خاندان کے دیگر بزرگوں کے ساتھ وقت گزارا جائے ، ان کے ہمراہ تفریح کے لمحات کا بھرپور لطف اٹھایا جائے اور اجتماعی طور پر خوشیوں کو منایا جائے۔یہی وجہ ہے کہ چین میں بزرگ افراد بھی اپنے بچوں سے ملنے کی آرزو میں جشن بہار کا خاص طور پر انتظار کرتے ہیں اور تقریباً سال بھر انتظار کے بعد جب ملن کے لمحات آتے ہیں تو  خوشی کی کیفیات کو الفاظ میں بیان کرنا شائد ممکن نہیں۔


شیئر

Related stories