چین اور امریکہ کے درمیان مکمل تجارتی جنگ کے امکانات کم ہیں۔پاکستانی تجزیہ نگار ولی زاہد

2018-03-27 16:38:10
Comment
شیئر
شیئر Close
Messenger Messenger Pinterest LinkedIn

چین اور امریکہ کے درمیان مکمل تجارتی جنگ کے امکانات کم ہیں۔پاکستانی تجزیہ نگار ولی زاہد

پاکستان کے معروف تجزیہ نگار ، ماہر معیشت ، پاکستان کے معروف تھنک ٹینک " انسٹیٹیوٹ آف میڈیا اینڈ کمیونیکیشن " کے سربراہ ولی زاہد کی امریکہ کی جانب سے چینی مصنوعات پر عائد کیے جانے والے محصولات کے حوالے سے  چائنا ریڈیو انٹرنیشنل سے خصوصی بات چیت

 

پاکستانی تجزیہ نگار ولی زاہد  کے مطابق ایشیا کی مختلف منڈیاں امریکی محصولات کے فیصلے سے متاثر ہوئی ہیں لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ امریکہ کی جانب سے اندرونی طور پر بھی مثبت اشارے سامنے آنا شروع ہوئے ہیں جس سے لگتا ہے کہ صورتحال بہتر ہو جائے گی اور بحران سے بچا جا سکے گا۔مجھے نہیں لگتا کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک مکمل تجارتی جنگ کی صورتحال پیدا ہو اور امکانات یہی ہیں کہ اب ہم واپسی کی طرف جا رہے ہیں۔

 

ولی زاہد کہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ کے بارے میں ایک تاثر یہ بھی ہے کہ وہ مشاورت نہیں کرتے ہیں۔خارجہ پالیسی ہو یا تجارتی پالیسی اُن کو چاہیے کہ چین کے ساتھ بات چیت سے قبل اپنی وزارت تجارت سے مشاورت کریں۔لیکن دوسری جانب یہ تاثر بھی ہے کہ اگر ٹرمپ کوئی فیصلہ کرتے ہیں تو امریکہ کے متعلقہ محکمے بھی  فیصلے کے باعث سامنے آنے والے منفی اثرات کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ " میرے خیال میں امریکی وزارت تجارت بھی یہ نہیں چاہے گی کہ کسی بھی اقدام کے باعث چین اور امریکہ کے درمیان دو طرفہ تجارتی تعلقات متاثر ہوں جس سے باقی دنیا پر بھی اثرات مرتب ہوں"۔

 

پاکستانی تجزیہ نگار کے خیال میں یہ بات واضح ہے کہ جب دو بڑے ممالک کے درمیان محاز آرائی کی صورتحال ہو تو دیگر دنیا بھی خود کو غیر محفوظ  تصور کرتی ہے۔"میرے خیال میں دیگر عالمی کرنسیوں کے ساتھ ساتھ جاپانی اور آسٹریلوی کرنسیاں بڑے پیمانے پر امریکی اقدام سے متاثر ہوں گی کیونکہ آسٹریلیا اور چین کے درمیان کافی وسیع تجارتی تعلقات ہیں۔میرے خیال میں اگر امریکہ اپنے اقدامات پر قائم رہتا ہے تو اس سے عالمی منڈیوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے"۔

ولی زاہد کہتے ہیں کہ چین کے حوالے سے سارے عالمی مبصرین کی یکساں رائے ہے کہ  چین کے فیصلہ سازی کے امور میں مشاورت اور دوراندیشی کا پہلو بہت نمایاں ہے اس کے برعکس امریکہ میں خاص طور پر صدر ٹرمپ کے بر سراقتدار آنے کے بعد  سفارتی امور بھی ٹویٹر کے زریعے چلائے جاتے ہیں اور فیصلہ سازی میں بھی  فوری ردعمل کا پہلو  نمایاں ہے۔موجودہ صورتحال میں پوری دنیا چین کے عمل کو دیکھ سکتی ہے ۔ چین کا رویہ بہت سنجیدہ ، آگے بڑھنے والا ہے  اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والا ہے۔امریکہ یہ دیکھ سکتا ہے کہ اس کی مینو فیکچرنگ صنعت متاثر ہو رہی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ امریکہ کو ایک بڑی پریشانی یہ بھی لاحق ہے اور مختلف امریکی حلقے اس حوالے سے اپنی آراء کا اظہار بھی کر تے ہیں ایسی مخصوص صنعتیں جن پر امریکہ یا اس کے اتحادیوں کی اجارہ داری تھی  آئںدہ پانچ سالوں میں چین ٹیکنالوجی پر سبقت کے حوالے سے امریکہ کو  چیلنج کر سکتا ہے۔ امریکہ چین کے حوالے سے "زیرو سم" پالیسی اپنا رہا ہے کیونکہ  اگر چین کا عالمی اثر ورسوخ بڑھتا ہے تو امریکہ کا اثر ورسوخ کم ہو گااور میرے خیال میں امریکہ کو یہ تشویش بھی لاحق ہے۔

 

پاکستانی تجزیہ نگار نے واضح کیا کہ امریکہ کے محصولاتی اقدامات چین کی شرح نمو کو متاثر نہیں کریں گے اور نہ ہی ایسے اقدامات کے باعث امریکہ کی معیشت پر کوئی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ 


شیئر

Related stories