"پاتھیے" چین اور پاکستان آہنی بھائی

2018-05-15 09:57:25
Comment
شیئر
شیئر Close
Messenger Messenger Pinterest LinkedIn

"پاتھیے" چین اور پاکستان آہنی بھائی

تحریر : شاہد افراز خان

"پاتھیے" چین اور پاکستان آہنی بھائی

چین آنے والے پاکستانی افراد کو  چینی شہریوں سے بات چیت کے دوران اکثر ایک لفظ  سننے کو ضرور ملتا ہو گا۔"پاتھیے"  جس کا اردو میں مطلب لیا جاتا ہے " چین اور پاکستان آہنی بھائی ہیں"۔ انگریزی میں بھی چین اور پاکستان کے لیے " آئرن برادرز " کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے لیکن اس کی عملی جھلک چین میں قیام کے دوران بارہا دیکھی جا سکتی ہے۔

عام طور پر بیرون ملک دو اجنبی افراد کے درمیان مکالمے  کا پہلا سوال یہی ہوتا ہے کہ آپ کا تعلق کس ملک سے ہے  ؟ سو چینی شہری بھی  پو چھتے ہیں لیکن جب اُنھیں پتہ چلتا ہے کہ ہمارا تعلق پاکستان سے  تو اُن کا پاکستان سے محبت کے جذبات کے اظہار کا ایک مخصوص سا انداز ہوتا ہے۔اپنے دونوں ہاتھوں کو ملا کر اگلا لفظ ہو گا  "پاتھیے"۔

 ایک مرتبہ شام کے وقت اپنی رہائشگاہ کے نزدیک یونہی پارک میں چہل قدمی کے دوران ایک درمیانی عمر کے چینی شہری نے راہ چلتے پو چھا کہ  میرا تعلق کس ملک سے ہے۔جب جواب  دیا کہ پاکستان ، تو اُس کا فوری ردعمل یہی تھا کہ پاکستان اور چین مثالی دوست ملک ، دونوں ملک جوہری طاقتیں اور ایک دوسرے کے فولادی بھائی ہیں۔چینی شہری کے مطابق پاکستان نے چین میں آنے والے زلزلے کے دوران جس طرح چینی شہریوں کی مدد کی اور خیمے ،کمبل اور دیگر اشیاء بر وقت پہنچائیں ، چینی باشندے ہمیشہ پاکستان کی حمایت اور مدد کو یاد رکھیں گے۔

اسی طرح کسی بھی شاپنگ پلازے ، مارکیٹ ، تفریحی مقام یا  دیگر  عوامی مقامات پر جائیں تو چینی شہری پاکستان کے بارے میں انتہائی مثبت رائے رکھتے ہیں اور پاکستان کو اپنا بہترین دوست ملک قرار دیتے ہیں۔چینی میڈیا کی اگر بات کی جائے تو چین ۔پاک تعلقات کے حوالے سے جب بھی کوئی خبر شامل کی جاتی ہے  تو ایک عام اصطلاح استعمال ہوتی ہے کہ " چین اور پاکستان چاروں موسموں کے دوست اور آزمودہ شراکت دار ہیں "

پاک۔چین دوستی کی جھلک ہمیں چین میں منعقد ہونے والی مختلف تقریبات میں بھی دیکھنے کو ملتی ہے ۔ چین کے دارالحکومت بیجنگ میں قیام کے دوران چین کے دیگر شہروں میں جانے اور مختلف ثقافتی تقریبات میں شرکت کے مواقع ملتے رہتے ہیں۔ بیجنگ میں پاکستانی سفارتخانے سمیت چین کے مختلف شہروں میں فعال پاکستانی قونصل خانے بھی پاکستان کے قومی دنوں کی مناسبت سے اکثر  مختلف تقاریب کا اہتمام کرتے ہیں جس میں نہ صرف پاکستانی کمیونٹی بلکہ چینی شہری بھی بھرپور شرکت کرتے ہیں۔ چین بھر کی جامعات میں زیر تعلیم پاکستانی طلباء " ثقافتی فیسٹیولز " کے دوران اپنے قومی ثقافتی رنگوں کو مختلف خوبصورت انداز سے اجاگر کرتے ہیں اور چینی طلباء کی پاکستانی اسٹالز  میں بھرپور دلچسپی کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان کی طرح چین میں بھی عام طور پر پاکستان کے حوالے سے قومی یا ثقافتی تقریبات میں جس ملی نغمے کی گونج ہمیں زیادہ سنائی دیتی ہے وہ "دل دل پاکستان" ہے۔اس نغمے کی دیگر دنیا کی طرح  چین میں بھی مقبولیت کا  یہ عالم ہے کہ اکثر  چینی باشندے دل دل پاکستان کو پاکستان کا قومی ترانہ سمجھتے ہیں۔شائد یہی وجہ ہے کہ  چینی فنکار اور عام شہری بھی  اپنے چینی لب ولہجے لیکن اردو الفاظ میں دل دل پاکستان کو گانے کی کوشش کرتے ہیں اور  اکثر ہم سماجی میڈیا پر  اِن چینی لوگوں کو گاتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔چینی شہریوں کا اردو زبان میں انتہائی خوبصورت انداز سے پاکستانی ملی نغموں کا پیش کرنا جہاں تقریب میں شریک پاکستانیوں کے لیے لائق تحسین ہوتا ہے  وہاں  مقامی چینی باشندے بھی  خوب دل کھول کر داد دیتے نظر آتے ہیں۔

کچھ عرصہ قبل  بیجنگ کی مشہور جامعہ " بیجنگ فارن اسٹڈیز یونیورسٹی " جانے کا اتفاق ہوا جہاں اردو زبان کی تعلیم دی جاتی ہے ۔یونیورسٹی کے شعبہ اردو کی جانب سے شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے افکار کو اجاگر کرنے کے لیے ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں چین میں اردو زبان کے مشہور شاعر انتخاب عالم سمیت پاکستان میں چین کے سابق سفیروں نے بھی شرکت کی  ۔قارئین اس تقریب کی سب سے خاص بات اردو پڑھنے والے چینی طلباء و طالبات کا کلام اقبال پیش کرنا تھا۔بہت اچھا لگا کہ چین کی نوجوان نسل میں بھی پاک۔چین دوستی کے جذبات اب پروان چڑھ رہے ہیں اور  دوستی کا یہ ورثۃ نسل در نسل منتقل ہو رہا ہے۔ طالب علموں سے بات چیت کے دوران اُن کی اردو زبان میں دلچسپی کے حوالے سے جب پوچھا تو  سب کا جواب ایک ہی تھا کہ" پاک۔چین دوستی" نے اُن کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ اردو زبان شوق سے سیکھیں اور اِس دوستی کو مزید آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

قارئین آخر میں ایک قابل زکر بات کہ بیجنگ میں " دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو " کے حوالے سے منعقدہ ایک ثقافتی تقریب میں شامل  چینی خاتون منتظم  سے بات چیت کے دوران چینی زبان کا تذکرہ ہوا تو  برملا کہا کہ  چینی زبان  سے نا آ شنائی کے سبب  ہمیں  بیجنگ سمیت دوسرے شہروں میں بات چیت کے دوران مشکلات پیش آ تی ہیں ، خاتون نے مسکراتے ہوئے  فوری جواب دیا اور کہا کہ " آپ صرف یہ بتا دیا کرو کہ میرا تعلق پاکستان سے ہے ، پاکستانی کا لفظ سنتے ہی دوسرے  چینی فرد کی یہ ذمہ داری بن جاتی ہے کہ وہ آپ کو درپیش مشکل کا حل تلاش کرئے اور  جو ممکن ہو سکے آپ کی مدد کرئے۔یہی چین۔پاک دوستی کی بنیاد ہے "

 


شیئر

Related stories