چین میں پاکستان کے سفیر مسعود خالد کی شنگھائی تعاون تنظیم کے اٹھارویں سمٹ کے حوالے سے خصوصی بات چیت

2018-06-04 19:45:46
Comment
شیئر
شیئر Close
Messenger Messenger Pinterest LinkedIn

چین میں پاکستان کے سفیر مسعود خالد کی شنگھائی تعاون تنظیم کے اٹھارویں سمٹ کے حوالے سے خصوصی بات چیت

چین میں پاکستان کے سفیر مسعود خالد کی شنگھائی تعاون تنظیم کے اٹھارویں سمٹ کے حوالے سے خصوصی بات چیت

 

چین میں پاکستان کے سفیر مسعود خالد نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اٹھارویں سمٹ کے حوالے سے چائنا ریڈیو انٹرنیشنل کی اردو سروس سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم رواں برس اپنی اٹھارویں سالگرہ منا رہی ہے جبکہ پاکستان کے لیے یہ موقع انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ تنظیم کے مستقل رکن کی حیثیت سے پاکستان کی یہ پہلی سالگرہ ہے۔پاکستان دو ہزار پانچ سے  تنظیم کا مبصر ملک رہا ہے اور پاکستان ایس سی او کے مقاصد سے بخوبی آگاہ ہے۔گزشتہ ایک برس سے پاکستان کی یہ کوشش رہی ہے کہ خود کو تنظیم کے ضوابط  اور لائحہ عمل سے ہم آہنگ کر سکے۔اسی باعث پاکستان نے فعال انداز سے ایس سی او  کی متعلقہ سرگرمیوں میں شرکت کی ہے۔

 

مسعود خالد نے مزید کہا کہ  ایس سی او  کے چار اہم ستون ہیں جسمیں سلامتی ، سیاست ، معیشت اور ثقافت شامل ہیں۔ تنظیم نے مشکلات اور چیلنجز کے باوجود ان شعبہ جات میں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ سلامتی کے حوالے سے خطے کو دہشت گردی ، انتہا پسندی اور علیحدگی پسندی جیسے چیلنج کا سامنا ہے۔اس چیلنج کا اگر سب مل کر سامنا کریں تو خاطر خواہ کامیابی حاصل ہو گی۔ایس سی او نے اس ضمن میں اقدامات کیے ہیں اور با قاعدہ ایک قانونی فریم ورک تشکیل دینے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔علاقائی انسداد دہشت گردی ڈھانچہ ترتیب دیا گیا جس کا مقصد دہشت گردی کے خاتمے کے لیے  پالیسی سازی اور اقدامات ہیں۔ایس سی او ممالک نے دوستانہ تعلقات کے فروغ کے لیے بھی ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت تنظیم سے وابستہ ممالک کے درمیان خیر سگالی ، دوستی  کے جذبات کو پروان چڑھاتے ہوئے ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت پر اتفاق کیا گیا ہے۔

 

پاکستانی سفیر کے مطابق اقتصادی شعبے میں بھی تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان روابط اور تعاون کی مضبوطی پر توجہ دی جا رہی ہے  اور چھنگ تاو سمٹ کے دوران بھی معاشی تعاون کے حوالے سے مزید معاہدے طے پائیں گے۔بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو دور اندیشی پر مبنی ایک قدم ہے۔اس انیشیٹو کو دنیا بھر میں پسند کی نظر  سے دیکھا گیا ہے اور مختلف ممالک نے شمولیت اختیار کی ہے۔پاکستان کا یہ موقف ہے کہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو مختلف ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لانے  اور اُن کی ترقی و خوشحالی میں انتہائی معاون ثابت ہو گا۔ایس سی او  بھی یہ چاہتا ہے کہ ممالک کے درمیان تجارت ، ای کامرس  ، اقتصادی سرگرمیاں کو فروغ ملے ، مالیاتی ادارے تشکیل پائیں اور   کسٹمز سے متعلق مشکلات دور ہو سکیں۔ان تمام امور پر توجہ دی جا رہی ہے جس کا مقصد  تیز رفتار علاقائی ترقی ہے۔لیکن یہ اسی صورت میں ممکن ہے   جب خطہ خوشحال اور مستحکم ہو۔ امن اور استحکام لازم ہیں جسے ایس سی او کی جانب سے اہمیت دی جا رہی ہے۔

 

شنگھائی تعاون تنظیم  میں چین کے کردار کے حوالے سے مسعود خالد نے کہا کہ دنیا اور خطے میں چین کا ایک اہم کردار ہے۔چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے۔ چین نے پر امن طریقے سے ترقی کی منازل طے کی ہیں جو ہمارے خطے میں پائیدار استحکام کے لیے اہم ہے۔عالمگیر اقتصادی ترقی کو فروغ دینے میں بھی چین کا ایک کلیدی کردار ہے۔ تجارت  کا فروغ ہو یا  زرائع مواصلات کی ترقی   سے روابط  کا فروغ چین ہر جگہ موجود ہے۔ ایس سی او میں بھی چین کا کردار انتہائی اہم ہے ، چین ایس سی او ممالک میں سرمایہ کاری سمیت مختلف منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ایس سی او ممالک کے درمیان روابط میں اضافے سے  اعتماد سازی کو فروغ دیا جا سکتا ہے اور ایس سی او اس حوالے سے ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔تنظیم میں فیصلہ سازی تفصیلی مشاورت کی بنیاد پر کی جاتی ہے جو  باہمی مفاد میں ہوتی ہے۔

 

مسعود خالد نے مزید کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم  میں پاکستان اور بھارت کی شمولیت سے ایس سی او  آبادی اور رقبے کے اعتبار سے دنیا کی سب سے بڑی علاقائی تنظیم بن چکی ہے  ، ایس سی او  ممالک افرادی و قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں جبکہ   جغرافیائی خدوخال کی بدولت ایک دوسرے سے باآسانی منسلک ہو سکتے ہیں  ، یہ وہ تمام مثبت پہلو ہیں جنہیں آگے لے کر چلنا ہے۔شنگھائی سپرٹ کے حوالے سے انہوں نے کہا  اس وقت دنیا میں کثیر الجہتی تجارت کے بجائے تجارتی تحفظ پسندی کی بات ہو رہی ہے ، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قوانین کی خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں ۔ ایسے میں شنگھائی سپرٹ دنیا میں ایک ایسے منصفانہ نظام کی بات کرتی ہے  جو اقوام متحدہ کے منشور ،  عالمی قوانین اور اقدار کا احترام کرئے۔ اسی شنگھائی سپرٹ کو آگے لے کر جانے کی ضرورت ہے۔

 

پاکستانی سفیر نے شنگھائی تعاون تنظیم کے چھنگ تاو سمٹ کے حوالے سے مثبت توقعات کا اظہار کرتے ہوئے کہا چھنگ تاو سمٹ کا کامیاب انعقاد کیا جائے گا۔پاکستان سمٹ کے کامیاب انعقاد کے حوالے سے چین کے ساتھ بھرپور تعاون کرئے گا۔انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ چھنگ تاو سمٹ کے دوران طے پانے والے معاہدے شنگھائی تعاون تنظیم کو مزید آگے لے جانے میں معاون ثابت ہوں گے۔ 

 

 


شیئر

Related stories