شنگھائی اسپرٹ شنگھائی تعاون تنظیم کی اساس

2018-06-08 11:04:19
Comment
شیئر
شیئر Close
Messenger Messenger Pinterest LinkedIn

شنگھائی اسپرٹ شنگھائی تعاون تنظیم کی اساس

شنگھائی اسپرٹ شنگھائی تعاون تنظیم کی اساس

تحریر: شاہد افراز خان

شنگھائی تعاون تنظیم کا اٹھارواں سمٹ نو سے دس جون تک چین کے خوبصورت ساحلی شہر چھنگ تاو میں منعقد ہونے جا رہا ہے۔امور  بین الاقوامی تعلقات اور سیاسی ماہرین  کی جانب سے یہ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ ایس سی او چھنگ تاو سمٹ تاریخ ساز  عالمی سرگرمی ہو گی کیونکہ گزشتہ برس آستانہ سمٹ میں پاکستان اور بھارت کو تنظیم کی مستقل رکنیت ملنے اور توسیع کے بعد  شنگھائی تعاون تنظیم کا اٹھارواں سمٹ نہایت اہمیت اختیار کر چکا ہے ۔

دو ہزار ایک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے قیام کے بعد  جس نظریے کو پروان چڑھانے کی کوشش کی گئی بلکہ جس نظریے سے وابستہ رہتے ہوئے  آگے بڑھنے کی جستجو رہی اسے شنگھائی اسپرٹ کہا جاتا ہے۔شنگھائی اسپرٹ دراصل شنگھائی تعاون تنظیم کی اساس ہے ۔شنگھائی اسپرٹ اُن اقدار کا مجموعہ ہے جو موجودہ دور میں عالمی سطح پر نئی طرز کے  تعلقات کی راہ ہموار کرتی ہے۔شنگھائی اسپرٹ کی بنیادی اقدار میں  باہمی اعتماد ، باہمی مفاد ، برابری ، مشاورت ، ثقافتی تنوع کا احترام اور مشترکہ ترقی کی جستجو  شامل ہے۔یہی وہ نظریات ہیں جن کی بناء پر گزشتہ اٹھارہ برسوں کے دوران مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے آج شنگھائی تعاون تنظیم بلا شبہ دنیا کی سب سے بڑی علاقائی تعاون کی تنظیم میں ڈھل چکی ہے۔شنگھائی اسپرٹ نے تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان نہ صرف تعاون کے فروغ کی بات کی بلکہ مشترکہ کوششوں سے تنظیم کی مضبوطی کے تصور کو بھی اجاگر کیا گیا۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے قیام کے آغاز میں جس نقطے کی جانب زیادہ توجہ مرکوز کی گئی اس میں علاقائی سلامتی اور استحکام نمایاں رہے  تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تنظیم کو بدلتی ہوئی دنیا کی صورتحال کے مطابق خود کو ڈھالنا پڑا اور تعاون کے دائرہ کار کو سیاست ، معیشت ، ثقافت،سیکیورٹی ، افرادی تبادلوں ، بیرونی روابط اور باقاعدہ لائحہ عمل تشکیل دینے تک توسیع دی گئی۔

آج تنظیم کی کامیابیاں بلاشبہ شنگھائی اسپرٹ سے وابستگی کی مرہون منت ہیں۔ شنگھائی اسپرٹ نے عالمی سطح پر ممالک کے درمیان تعلقات کا ایک ایسا نیا نمونہ متعارف کروایا جسمیں باہمی احترام ، شفافیت ، انصاف اور مشترکہ مفاد کو فوقیت حاصل رہی۔اس بات سے قطع نظر کہ ایس سی او کے رکن ممالک چھوٹے ہیں یا بڑے ، امیر ہیں یا غریب ، سب کا برابری کی بنیاد پر احترام لازم ہے۔مشاورت اور بات چیت شنگھائی تعاون تنظیم کا خاصہ ہے اور اسی بنیاد پر تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان اہم امور پر اتفاق رائے کا حصول ممکن ہو پاتا ہے ۔

یہاں اس بات کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے کہ اگرچہ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے سماجی نظام  ، نظریات ، ترقیاتی نمونے اور عالمی مسائل کے حل کے حوالے سے نقطہ نظر  مختلف ہو سکتے ہیں لیکن اس سب کے باوجود  علاقائی امن، استحکام ، ترقی اور خوشحالی تنظیم کے رکن ممالک کا یکساں طے شدہ ہدف ہے اور بنی نوع انسان کے لیے مشترکہ مستقبل کے حامل سماج کا قیام متفقہ نظریہ ہے۔

پاکستان اور بھارت کی شمولیت سے اس وقت شنگھائی تعاون تنظیم  دنیا کی تقریباً نصف آبادی کی نمائندہ تنظیم بن چکی ہے جبکہ عالمی جی ڈی پی میں تنظیم کےرکن ممالک کا تناسب تقریباً بیس فیصد بنتا ہے۔ماہرین اس بات پر بھی متفق ہیں کہ شنگھائی تعاون تنظیم   کا پلیٹ فارم پاکستان اور بھارت دونوں   کے درمیان تعلقات کی بہتری میں کردار ادا کر سکتا ہے ۔اس کی ایک بڑی وجہ تنظیم میں دو عالمی طاقتوں چین اور روس کی موجودگی بھی ہے ۔پاکستان اور چین کے مثالی تعلقات ہیں اور دوستانہ تعلقات کی تشبیح کے لیے آئرن برادرز ، آہنی بھائی کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔اسی طرح حالیہ عرصے میں پاکستان اور روس کے درمیان بھی تعلقات میں بہتری کا عنصر دیکھا گیا ہے سو  یہ امید کی جا سکتی ہے کہ مستقبل میں یہ دونوں بڑے ملک پاکستان اور بھارت کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور حل طلب مسائل کے حل میں کردار ادا کر سکیں گے۔

اسی طرح چین کا پیش کردہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو  بھی بنیادی تنصیبات کی تعمیر سے دنیا بالخصوص یوریشیائی خطے  کو قریب لانے میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔پاکستان میں بھی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو   کے کلیدی منصوبے چین ۔پاک اقتصادی راہداری کی تعمیراتی سرگرمیاں جاری ہیں لہذا چھنگ تاو سمٹ سے یہ توقعات بھی وابستہ ہیں کہ سی پیک اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو    کی ترقی کے حوالے سے بھی پیش رفت ممکن ہو سکے گی  ۔ پاکستان اپنے جغرافیائی خدوخال کی بدولت ایس سی او کے رکن ممالک کو ایک دوسرے کے نزدیک لانے میں ایک پل کا کردار ادا کر سکتا ہے اور تنظیم کے مستقل رکن ملک کی حیثیت سے پاکستان کا کردار اب مزید اہمیت اختیار کر چکا ہے۔

چھنگ تاو سمٹ کے دوران علاقائی ممالک جہاں اقتصادی تعاون کی بات کریں گے وہاں درپیش چیلنجز بشمول دہشت گردی ، انتہا پسندی اور علیحدگی پسندی کی حوصلہ شکنی کے لیے بھی اتفاق رائے کے حوالے سے پیش رفت ممکن ہے۔اس سارے عمل میں چین کا قائدانہ کردار بھی لائق تحسین ہے ۔چین کی معجزاتی ترقی کے عمل میں جو امر سب سے نمایاں ہے اسے چین کی سافٹ پاور کہا جاتا ہے۔چین نے گزشتہ چالیس برسوں میں بناء کسی تنازعے ، جنگ و جدل کے صرف اصلاحات  اور کھلے پن کی بدولت ترقی کی منازل طے کی ہیں جو اسے امریکہ سمیت دنیا کے دیگر بڑے ممالک سے ممتاز کرتی ہے۔لہذا یہ امید کی جا سکتی ہے کہ چین کے ساتھ ساتھ شنگھائی اسپرٹ پر عمل پیرا ہوتے ہوئے تنظیم کے دیگر رکن ممالک بھی اپنے اپنے اختلافات کو بہتر انداز سے حل کرتے ہوئے باہمی تعاون کے ایک نئے باب کا آغاز کر سکتے ہیں۔ 


شیئر

Related stories