پاکستان کی سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کی چائنہ ریڈیو انٹرنیشنل سے خصوصی بات چیت

2018-06-12 14:28:25
Comment
شیئر
شیئر Close
Messenger Messenger Pinterest LinkedIn

پاکستان کی سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کی چائنہ ریڈیو انٹرنیشنل سے خصوصی بات چیت

پاکستان کی سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کی چائنہ ریڈیو انٹرنیشنل سے خصوصی بات چیت

پاکستان کی سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے چین کے شہر چھنگ تاو میں شنگھائی تعاون تںطیم کے اٹھاوریں سمٹ کے حوالے سے چائنہ ریڈیو انٹرنیشنل کی اردو سروس سے خصوصی بات چیت کی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے ایس سی او کا اجلاس انتہائی اہم تھا کیونکہ پاکستان کو تنظیم کی مستقل رکنیت ملنے کے بعد یہ پہلا اجلاس تھا۔ پاکستان نے اس عرصے کے دوران شنگھائی تعاون تنظیم کے مقاصد کو آگے بڑھانے میں  تمام ایس سی او ممالک کے ساتھ مل کر کام کیا ہے اور تمام ضروری اقدامات کیے گئے ہیں۔پاکستان کے لیے یہ بات بھی اہمیت کی حامل رہی کہ ایس سی او کا سمٹ چین میں منعقد ہوا ، گزشتہ برس تنظیم کی صدارت چین کے پاس تھی اور چین کی قیادت میں تنظیم کے متعدد اجلاسوں کا انعقاد کیا گیا جسمیں پاکستان نے بھی بھر پور طریقے سے فعال شرکت کی ہے۔پاکستان نے کوشش کی کہ علاقائی سطح پر سلامتی ، اقتصادی ترقی  اور  رابطہ سازی کے فروغ کے حوالے سے تنظیم کے کردار کو مزید آگے بڑھایا جا سکے۔

تہمینہ جنجوعہ نے مزید کہا کہ پاکستان کی کوشش رہی کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے تجربات کا تبادلہ ایس سی او ممالک سے کر سکے اور اسی طرح اُن ممالک کے تجربات سے بھی مستفید ہو سکے۔پاکستان کی خارجہ پالیسی کے مقاصد بڑے واضح ہیں  جسمیں غیر جانبداری اور ایک دوسرے کی خودمختاری اور سالمیت کا   احترام نمایاں ہیں ، شنگھائی تعاون تنظیم بھی انہی مقاصد کے فروغ کی بات کرتی ہے۔ اسی باعث پاکستان کی سمٹ میں شرکت اہم تھی اور صدر پاکستان ممنون حسین چین کے صدر شی جن پھنگ کی خصوصی دعوت پر اجلاس میں شرکت کے لیے تشریف لائے۔چینی صدر شی جن پھنگ کی پاکستان سے یہ امید وابستہ ہے کہ پاکستان اگرچہ تنظیم کا ایک نیا مستقل رکن بنا ہے لیکن پاکستان تنظیم کے حوالے سے ایک سنجیدہ ملک ہے ۔ پاکستان نے گزشتہ ایک برس کے دوران اس حوالے سے عملی مظاہرہ بھی کیا ہے اور تنظیم کے ایک مستقل رکن کی حیثیت سے پاکستان کوشش کرئے گا کہ خطے میں رابطہ سازی کو فروغ ملے ، افرادی روابط کے فروغ کے مواقع زیادہ ہوں اور علاقائی ممالک کے ثقافتی شعبے کو بھی ترقی دی جائے۔

شنگھائی سپرٹ کے حوالے سے پاکستان کی سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ  ایس سی او تنظیم دوستانہ تعلقات  کو فروغ دینے کی بات کرتی ہے اور دہشت گردی ، انتہا پسندی اور علیحدگی پسندی کے خاتمے کے لیے  مشترکہ اقدامات کی حمایت کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سمٹ کے دوران ہمسایہ ممالک کے درمیان خوشگوار ہمسائیگی پر مبنی دیرپا تعلقات کے قیام کے لیے ایک معاہدہ طے پایا ہے جو اس بات کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ شنگھائی سپرٹ کے مطابق نہ صرف تنظیم سے وابستہ علاقائی ممالک کے درمیان بلکہ دیگر  ہمسایہ ممالک کے ساتھ بھی خوشگوار دوستانہ تعلقات رکھے جائیں۔

چین کے صدر شی جن پھنگ کے سمٹ سے خطاب کے حوالے سے تہمینہ جنجوعہ نے کہا کہ گزشتہ ایک برس کے دوران تنظیم کے امور کے حوالے سے چینی صدر نے شاندار کردار ادا کیا ہے اور بہترین انداز سے اپنی ذمہ دارایاں ادا کی ہیں۔چینی صدر نے غیر امتیازی تجارت سے متعلق بات کی اور کہا کہ  تجارت کے حوالے سے کچھ اصولوں پر عمل پیرا رہنا چاہیے ، انہوں نے عالمی تجارتی تنظیم کی حمایت کے حوالے سے اظہار خیال کیا ۔چینی صدر نے کچھ اصولوں کا زکر کیا جو شنگھائی تعاون تنظیم کو مزید رہنمائی فراہم کرتے ہیں ۔ سیکرٹری خارجہ کے مطابق سمٹ میں شریک تمام رہنماوں کا یہ متفقہ موقف رہا کہ  چینی صدر شی جن پھنگ نے اُن کی بھرپور ترجمانی کی ہے اور  اپنے خطاب میں اُن کی دل کی باتوں کا نچوڑ  بیان کر دیا ہے۔


شیئر

Related stories