چین مواقع کی سر زمین

2018-08-30 19:05:06
Comment
شیئر
شیئر Close
Messenger Messenger Pinterest LinkedIn

چین مواقع کی سر زمین

چین مواقع کی سرزمین ہے یہاں طرف ترقی کا دور دورا نظر آتا ہے۔ یہاں اگر ریاست خوشحال ہے تو شہری بھی نہال ہیں۔ سب کا آگے بڑھنے اور کام کرنے کے یکساں مواقع دستیاب ہیں۔ آج کے ریڈیائی کالم میں آپ کی ملاقات ایسے ایک باہمت نوجوان سے کروائیں گے کو اس وقت عوامی جمہوریہ چین کا تیسرا میر ترین شخص بن چکا ہے۔

اس کی عمر چھیالیس برس ہے  اور اس وقت اس کے اثاثوں کی مالیت بائیس بلین سے تجاوز کر رہی ہے۔ اس کی کمپنی کے اپنے طیارے ہیں۔

کاروبار کا مزا یہ ہے کہ آپ بادشاہ ہوتے ہیں اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق آگے بڑھ سکتے ہیں۔ آپ خود مختار اور بااختیار ہوتے ہیں۔ اگر تھوڑی سی محنت لگن اور دیانتداری شامل کر لی جائے تو پھر نہ صرف آپ اپنی بلکہ اپنے آس پاس کے لوگوں کی زندگی بھی بدل دیتے ہیں۔ ایسا ہی  ایک شخص جس نام وانگ وائی ہے آج ہمارے زیر بحث ہے اس کے اثاثوں کی کل مالیت بائیس بلین  پاونڈ سے تجاوز کر رہی ہے۔ اس کی عمر محض چھیالیس برس ہے اور وہ چین کا تیسرا امیر ترین شخص بن چکا ہے۔

اس کی کمپنی میں ایک لاکھ بیس ہزار افراد ملازمت کرتے ہیں۔ اس کمپنی ایس ایف ایکپریس اس وقت چین کی سب سے بڑی کورئیر کمپنی ہے۔

اس میں صلاحیت تھی فیصلہ سازی کی ، کچھ نیا کرنے کی جستجو اور  احساس ذمہ داری بھی کوٹ کوٹ کر بھری تھی ۔ جب اس کا شعور آنکھ کھول رہا تھا تو اس کے ہم عمر اچھی نوکری ، خوبصورت گرل فرینڈ اور رہنے کے لئے ایک اسٹوڈیو اپارٹمنٹ کےبارے میں سوچ رہے تھے مگر وہ سوچ رہا تھا کچھ نیا کرنے کے بارے میں۔

دو دہائیوں قبل  چین میں خطوط اور پارسل بھیجنے کا بنیادی ذریعہ صرف چائنہ پوسٹ تھا جو سست رفتار  ہونے کے ساتھ ساتھ مہنگا بھی تھا۔ ان دنوں کورئیر کمپنی یا کورئیر سروس کا نام اس ملک کے لوگوں کے لئے اجنبی تھا۔ حتی کے بڑے بڑے کاروباری حلقے بھی اس اصطلاح سے ناواقف تھے۔ اس دور میں وانگ نے اپنے والد سے گیارہ ہزار پونڈ ادھار لئے اور ایک کورئیر کمپنی کی بنیاد ڈالی۔

آج اس کمپنی میں ایک لاکھ بیس ہزار کارکن، تیرہ ہزار آفیسرز، ایک لاکھ پچاس ہزار گاڑیاں اور چھتیس طیارے ہیں۔

اس کا والد روسی زبان کا مترجم اور ماں ایک یونیورسٹی میں پڑھاتی تھی۔ اس کی پیدائش شنگھائی میں ہوئی  جہاں سے ان کا خاندان ہجرت کرکے  ہانگ کانگ چلا آیا۔  اس وقت وانگ کی عمر محض سات برس تھی۔اس نے یہیں تعلیم حاصل کی اور  عمر کی منزلیں طے کرتا رہا ۔ یہ وقت تھا جب ہانگ کانگ برطانوی کالونی تھا۔

وانگ ہمیشہ سے قناعت پسند ہے اور اسے شہرت کا شوق نہیں وہ صرف اپنے کام سے کام رکھنے والا شخص ہے۔ اس کا میڈیا میں ایکسوپوژر نہ ہونے کے برابر ہے اس نے سن 2011 میں ایک اخبار کو انٹرویو میں بتایا کہ وہ ہانگ کانگ میں اکثر دیکھا کرتا تھا کہ ہزاروں کی تعداد میں دفاتر ہیں جہاں سے گاونگ ڈاونگ  کے علاقے سے لاکھوں کی تعداد میں ڈاک آتی اور جاتی ہے لہذا اس نے ایک کورئیر کمپنی بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس نے اپنے کچھ ساتھیوں کو ساتھ ملایا اور اپنے خواب کو عملی جامہ پہنانے کے لئے نکل کھڑا ہوا۔ میں نے شندوو میں ایس ایف کی بنیاد رکھی۔

وہ آج بھی اپنی جدوجہد کے ابتدائی دنوں کو یاد کرتا ہے تواس کی انکھوں میں پانی تیرنے لگتاہے لیکن اس کے چہرے کی خوشی بتاتی ہے وہ اپنی کامیابی پر مسرور ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ شروع کے دنوں میں پارسل خود ڈلیور کیا کرتا تھا۔ اس نے کہا کہ وہ روزانہ اپنے سوٹ کیس سنبھالےہانگ کانگ اور Guangdong کے درمیان سفر کیا کرتے تھا۔

 اس کی کمپنی ایس ایف کی جانب سے صارفین کو سستی اور تیز ترین سروس فراہم کی گئی جس کی وجہ سے ان کا کاروبار تیزی سے پھیلنے لگا۔ وہ اور اس کے ساتھی لوگوں کے پارسل بہت کم اجرت میں  سبک رفتاری کے ساتھ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر دیا کرتے تھے ۔ گاہک بنانے کے لئے وہ اکثر اپنا منافع بھی قربان کر دیتے تھے۔

سن 1997 میں اپنے قیام کے محض چار سال بعد ہی ایس ایف کمپنی  Guangdong اور ہانگ کانگ کے درمیان سب سے زیادہ معتبر اور طاقتور کورئیر کمپنی بن چکی تھی۔ یہ وہ دور تھاجب ہانگ کانگ کا کنٹرول برطانوی حکومت سے چینی کیمیونسٹ پارٹی کو منتقل ہوا۔ اس کے بعد اس علاقے میں تجارتی سرگرمیوں میں ڈرامائی انداز میں اضافہ ہوا۔ اس کا اثر وانگ کے کاروبار پر بھی ہوا اور وہ دن دگنی رات چگنی ترقی کرنے لگا۔ اس کے بعد ایس ایف نے چین بھر میں اپنی فرنچائز قائم کرنا شروع کردیں۔ اب چھ افراد کے سٹاف سے شروع ہونے والی ایس ایف کورئیر کمپنی سے منسلک افراد کی تعداد سینکڑوں میں پہنچ چکی تھی۔ گذشتہ ہفتے اس کمپنی کو شینزن سٹاک مارکیٹ میں رجسٹرڈ کیا گیا۔ تو اس کے شئیرز میں پہلے ہی دن ریکارڈ  اضافہ ہوا۔

سن 2003 میں اس کمپنی نے ایک اہم سنگ میل عبور کیا جب اس نے اپنے ڈلیوری ٹائم کو بہتر بنانے کے لئے ہوائی حہاز چارٹر کرنا شروع کردئیے۔ پھر سن 2005 میں چین میں آن لائین خریدو فروخت کا ایسا دور شروع ہوا جس نے ایک ہی جست میں ترقی کو برسوں کا سفر طے کرادیا۔ اس بہتی گنگا میں وانگ نے محاورے کو بدلتے ہوئے ہاتھ دھونے کی بجائے خوب نہایا۔ کمپنی کو اب چارٹر طیارے اپنی ضرورت سے کم لگنے لگے تو کمپنی نے اپنی ائیر لائین قائم  کرنے کا فیصلہ کیا۔  یوں سن 2009 میں ایس ایف ائیر لائینز کا قیام عمل میں لایا گیا

اس وقت یہ کارگو کمپنی 1400 ٹن وزن کے پارسل اپنے 38 بوئینگ جہازوں کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتی ہے۔ ان طیاروں میں سترہ  B737 سولہ B757  اور پانچ B767  طیارےشامل ہیں۔

 اس عظیم کاروباری شخص نے اپنی کامیابی کا راز تین الفاظ میں بیان کیا" قوت فیصلہ، تخلیقی صلاحیت اور احساس زمہ داری"۔ اس کہنا ہے کہ یہ وہ تین الفاظ تھے جن پر کاربند رہتے ہوئے میں نے اپنی قسمت کو بارہ ہزار پاونڈ کے قرضے سے بائیس بلین پاونڈ کے اثاثوں میں بدلا۔                                                             


شیئر

Related stories