پاکستان کی معروف تجزیہ نگار ڈاکٹر رضوانہ کریم عباسی کی چین کی قومی عوامی کانگریس اور چین کی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس کے سالانہ اجلاسوں کے حوالے سے چائنا ریڈیو انٹرنیشنل سےخصوصی بات چیت

2018-03-06 15:08:52
Comment
شیئر
شیئر Close
Messenger Messenger Pinterest LinkedIn


پاکستان کی معروف تجزیہ نگار ڈاکٹر رضوانہ کریم عباسی کی چین کی قومی عوامی کانگریس اور چین کی عوامی  سیاسی مشاورتی کانفرنس کے سالانہ اجلاسوں کے حوالے سے چائنا ریڈیو انٹرنیشنل سےخصوصی بات چیت

ڈاکٹر رضوانہ کریم عباسی اہم سیاسی ، عالمی و علاقائی امور پر گہری نگاہ رکھتی ہیں  پاکستان کے معروف تعلیمی ادارے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے وابستہ ہیں اور  اہم عالمی و علاقائی صورتحال کے تناظر میں آپ کی آراء اور تجزیے اکثر سننے اور پڑھنے کو ملتے ہیں۔

ڈاکٹر رضوانہ کریم عباسی نے چائنا ریڈیو انٹرنیشنل کی اردو سروس سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ  چینی وزیر اعظم لی کھہ چھیانگ کی جانب سے پیش کی جانے والی حکومتی رپورٹ سے  چین کی مستحکم معیشت کی عکاسی ہوتی ہے۔ چین کی جی ڈی پی کی شرح نمو  بیاسی اعشاریہ سات ٹریلین یوان تک پہنچ چکی ہے  ،  چین کی جانب سے غربت کے خاتمے ، ماحولیاتی تحفظ ، روزگار کی فراہمی ، سیاحت کے فروغ  کے حوالے سے نمایاں کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ چین کی جانب سے رواں سال کے حوالےسے طے کیے جانے والے اہداف انتہائی حوصلہ افزائی ہیں۔بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو سمیت   خطے اور علاقائی ممالک کے ساتھ  چین کے تعاون کا سلسلہ جاری رہے گا اور سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔

ڈاکٹر رضوانہ کریم عباسی نے مزید کہا کہ چین کی تیز رفتار معاشی ترقی کی بدولت عالمی سطح پر اس کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہو رہا ہے اور دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کی مزید کامیابی کی صورت میں عالمی راہداریاں اس منصوبے سے جڑ جائیں گی جس سے عالمگیر اقتصادی امور میں چین کی حیثیت مزید نمایاں ہو جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کی بدولت دنیا کا سیاسی اور معاشی نظام تبدیل ہو چکا ہے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نہ صرف خطے بلکہ خطے سے باہر دیگر ممالک کا بھی معاشی دارومدار اس منصوبے پر بڑھ جائے گا۔چین اپنے زمینی ، فضائی اور سمندری راستوں کو دنیا کی درآمدات و برآمدات سے جوڑنا چاہتا ہے جس سے نہ صرف چین بلکہ خطے اور دیگر ممالک کی ترقی بھی ممکن ہو سکے گی۔    

ڈاکٹر رضوانہ کریم عباسی نے مزید کہا کہ سی پیک دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کا ایک فلیگ شپ منصوبہ ہے جس پر تیزی سے پیش رفت ہو رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کی بدولت پاکستان کی سماجی اقتصادی ترقی ممکن ہو سکے گی اور پاکستان یقینی طور پر ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کی بدولت پاکستان میں غربت کے خاتمے کی کوششوں میں مدد ملے گی۔

 پاکستانی تجزیہ نگار نے سی پیک کی عالمی اہمیت کے پیش نظر مزید کہا کہ  اس منصوبے کے حوالے سے خطے میں عدم اعتماد کی فضا کو ختم کرنا ہو گا  اور اس بات کو اجاگر کرنا ہو گا کہ سی پیک کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں بلکہ پورے خطے کی معاشی معاشرتی فلاح و بہبود کا منصوبہ ہے۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت پاکستانی نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کو  یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے حانے چاہیے اور سرمایہ کاری کے لیے ایک ایسا سازگار ماحول قائم کیا جائے جس سے نہ صرف بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو سے وابستہ ساٹھ سے زائد  ممالک بلکہ دیگر ممالک کی بھی سی پیک میں شمولیت کی حوصلہ افزائی ہو۔ 

 


شیئر

Related stories