پاکستان کے ناموردانشور، سکالر اور تجزیہ کار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کی چائنہ ریڈیو انٹر نیشنل سے بات چیت

2018-03-06 16:13:38
Comment
شیئر
شیئر Close
Messenger Messenger Pinterest LinkedIn


پاکستان کے ناموردانشور، سکالر اور تجزیہ کار  ڈاکٹر حسن عسکری رضوی  کی چائنہ ریڈیو انٹر نیشنل سے بات چیت


چین  کے دارالحکومت بیجینگ میں ان دنوں چینی عوامی  سیاسی مشاورتی کانفرنس   )سی پی پی سی سی(   اور  قومی عوامی کانگریس  )این  پی سی(   کے اجلاس جاری ہیں۔ ان کو  " دو اجلاس" بھی  کہا جاتا ہے۔   بیرونی ذرائع ابلاغ  ان اجلاسوں کی خصوصی کوریج کرتے ہیں  اور  اپنے نمائندگان کے توسط سے لائیو رپورٹس ، تبصروں اور تجزیوں کا اہتمام بھی کرتے ہیں۔

پاکستان کے ناموردانشور، سکالر اور تجزیہ کار  ڈاکٹر حسن عسکری رضوی  نے  چائنہ ریڈیو انٹر نیشنل سے بات چیت  کی اور آئین کی ترمیم  ، چین کی ترقی اور عالمی سطح پر موثر  کردار کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

موجودہ تناظر میں صدر شی جن پھنگ کی پالیسیاں  اندورنی سطح پر  بڑی کامیاب رہی  ہیں۔ انہوں نے عام آدمی کے مسائل کے حل اور غربت کے خاتمے پرتوجہ دی ہے۔ زیادہ آبادی ہونے کے باوجود  چین کی جانب سے  اپنےشہریوں کی مالی اور اقتصادی  حیثیت بہتر کرنا ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔تجربہ یہ بتاتا ہے  کہ جن ممالک نے بھی ترقی کی ہے انہوں نے ابتدائی سطح پر اپنے شہریوں   یعنی ہیو من ریسورس  پر بڑی توجہ دی۔اس  میں غربت و افلاس کا خاتمہ،  مختلف  بنیادی پیشہ ورانہ تربیت کی فراہمی تاکہ  شہری   باروزگار ہو سکیں،  تعلیم اور   صحت کی سہولیات کی فراہمی یہ وہ طریقے ہیں  جس سے آپ  آبادی کو اپنا ایک  سرمایہ بناتے ہیں۔

بین الاقوامی سطح پر   دو چیزیں بہت  نمایاں ہیں اور اس کو برقرار  رکھے جانے کی ضرورت ہے۔ایک تو ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ  ہے جو کہ عالمی روابط کے فروغ میں اہم ہے۔ یہ چین کے اقتصادی اور سفارتی تعلقات کو ایک نیا رخ دے گا۔ اور یہ ایک طویل المعیاد منصوبہ ہے۔  دوسرا  صدر شی جن پھنگ  کی  سفارتی سرگرمیاں  اور امریکہ اور یورپ کےدورے ہیں ۔ یہ  چین کے ابھرتے ہوئے کردار کی طرف اشارہ ہے۔

چین کے مثبت عالمی کردار کے حوالے سے ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کا کہنا تھا  کہ  چین بہت سے  ممالک کے ساتھ بارڈر شیئر کرتا ہے۔ چین نے ماضی میں اپنی تمام سرحدوں پر پرامن ماحول  کو یقینی بنایا  ہے اور اس کو برقرار رکھا ہے۔تاکہ اپنی اندورنی اقتصادی ترقی اور عالمی  کردار کی طرف توجہ دی جا سکے اور عصرِ حاضر میں  عالمی سطح پر کردار ادا کرنے کے لیے  اندورنی سیاسی استحکام اور اقتصادی ترقی ضروری ہے اور اس پالیسی میں چین کامیا ب ہے۔

ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کہتے ہیں کہ چین  کا  ون بیلٹ  ون روڈ  کے ذریعے ایک بین الاقوامی رول ہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ  چین  معاشی روابط   کو اہمیت دیتا ہے۔یعنی یہ نہیں ہے کہ   فوجی قوت کا مظاہرہ کرکے  اپنا عالمی  کردار پیدا کیا جائے بلکہ اقتصادی تعلقات سے ، دوسرے ممالک کے ساتھ باہمی روابط بڑھا کے،ان کی مدد کرکے ایک بین الاقوامی رول ادا کیا جائے۔اس طرح چین اپنے لیے ایک نیا  راستہ  بنا رہا ہے۔  اس میں فوجی قوت کو بنیادی حیثیت حاصل نہیں ہے۔  بلکہ ا قتصادی تعاون  اور 

ایک دوسرے کی  مدد کو بنیادی اہمیت  حاصل ہے۔

چین نے انتہائِی دانشمندی سے  اپنی آبادی کو اپنے وسائل پر  بوجھ  کی بجائے ایک سرمایہ بنایا ہے۔اس وجہ سے اب چین کے لیے یہ ممکن ہو گیا  ہے  کہ وہ  بین الاقوامی سطح پر زیادہ  اہم  اقتصادی  رول ادا کر کے  اقتصادی بنیاد پر ایک بڑی قوت  بن کر پر امن مقاصد کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے آگے ابھرے۔ 


شیئر

Related stories