چین میں پاکستان کے سابق سفارتکار ایمبیسڈر حسن جاوید کی چین کی قومی عوامی کانگریس اور چین کی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس کے حوالے سے چائنا ریڈیو انٹرنیشنل سے خصوصی بات چیت

2018-03-07 16:18:01
Comment
شیئر
شیئر Close
Messenger Messenger Pinterest LinkedIn

 چین میں پاکستان کے سابق سفارتکار  ایمبیسڈر حسن جاوید کی چین کی قومی عوامی کانگریس اور چین کی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس کے حوالے سے چائنا ریڈیو انٹرنیشنل سے خصوصی بات چیت

چین میں پاکستان کے سابق سفارتکار  ایمبیسڈر حسن جاوید نے چین کی قومی عوامی کانگریس اور چین کی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس کے حوالے سے چائنا ریڈیو انٹرنیشنل سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ چین نے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران مختلف شعبہ جات میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔چینی حکومت کی بہتر معاشی پالیسیوں کی بدولت عوام کا معیار زندگی بلند ہوا ہے اور فی کس آمدنی میں نمایاں اضافے کے ساتھ دنیا کا سب سے بڑا متوسط آمدنی والا طبقہ وجود میں آیا ہے۔انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں چینی کمیونسٹ پارٹی اور عوام کی انتھک محنت اور لگن اور  چینی حکومت کی اصلاحاتی پالیسی کی بدولت کامیابی کی منازل طے کی گئی ہیں۔  چین نے ایک ترقی پزیر ملک کی حیثیت سے ترقی کی ہے اور ترقی کے اس عمل میں دوسرے ممالک کو ساتھ شامل کیا ہے۔چینی عوام ایشیا ، افریقہ اور لاطینی امریکی عوام کے لیے ترقی کے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے زریعے دنیا کے مختلف خطوں کو ایک دوسرے سے ملایا جا رہا ہے جس سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ چین اشتراکی خوشحالی پر یقین رکھتا ہے۔

چین نے سوشلزم سے وابستہ رہتے ہوئے ترقی کی ہے  لیکن چینی خصوصیات کے حامل سوشلزم کو فروغ دینے میں چین کی کمیونسٹ پارٹی کا ایک کلیدی کردار ہے۔ چین میں سوشلزم کی کامیابی میں چینی دانش ، حکمت ، چینی ثقافت اور  چینی اقدار  نمایاں نظر آتی ہیں۔ 

چین کے دونوں سالانہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب عالمی و علاقائی سطح پر مختلف واقعات رونما ہو رہے ہیں ۔ دنیا میں تجارتی تحفظ پسندی کی حمایت کے حوالے سے آوازیں اٹھ رہی ہیں ، مغربی ممالک کے درمیان تنازعات پائے جاتے ہیں ،  جزیرہ نما کوریا اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پیچیدہ ہے  ، موسمیاتی تبدیلیوں اور عالمگیریت کے حوالے سے مسائل درپیش ہیں۔ اس صورتحال میں چین دنیا میں ان لوگوں کے لیے  ایک امید بن کر سامنے آیا ہے جو امن و ترقی کے داعی ہیں۔ چین چونکہ ایک ایشیائی ملک ہے اور عالمی سطح پر اس کا اثر ورسوخ بھی بڑھتا جا رہا ہے سو ایسی صورتحال میں چند مغربی ممالک چین کے عروج سے خائف ہیں اور چین میں  عدم استحکام کے لیے کوششیں بھی کی جاتی ہیں کہ چین کو سوشلسٹ راہ سے ہٹایا جائے۔ ایسی صورتحال میں چین میں پالیسیوں کا تسلسل انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ دنیا میں کوئی بھی طاقت اُسی وقت عظیم رہتی ہے جب تک وہ بدلتے ہوئے حالات کے مطابق خود کو ڈھالتی  ہے۔ چین اس لحاظ سے کوشاں ہے کہ اصلاحات کے زریعے استحکام کو یقینی بنایا جائے۔چین کوشش کرتا ہے کہ استحکام اور طاقت کا تواز ن برقرار رہنا چاہیے ۔ چین میں اس وقت دستور میں ترمیم نہایت ضروری ہے  اور چین کے منصوبہ ساز چاہتے ہیں کہ جمہوریت اور انسانی حقوق کے نام پر مغربی طاقتوں کے چین مخالف ایجنڈوں کو ناکام بنایا جائے۔

چین کی یہ مخلصانہ خواہش ہے کہ پاکستان کی معاشی مشکلات دور ہوں اور پاکستان بھی اقتصادی ترقی کی منازل طے کرئے یہی وجہ ہے کہ بیلٹ اینڈ روڈ میں سی پیک کو فلیگ شپ منصوبے کے طور پر مرکزی اہمیت حاصل ہے۔  چینی کمیونسٹ پارٹی ، چینی عوام اور چینی حکومت کی یہ خواہش ہے کہ پاکستانی معیشت کا کسی پر انحصار  نہ ہو اور پاکستانی معیشت اپنے پاوں پر کھڑی ہو جائے۔لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان چین کی ترقی اور اصلاحات کے تجربے سے فائدہ اٹھائے۔ہمیں پالیسی اصلاحات لانا ہوں گی۔ چین کبھی بھی اپنا نظام یا نظریات کسی پر مسلط نہیں کرنا چاہتا ہے بلکہ چاہتا ہے کہ  دنیا کے ممالک اپنے سماجی نظام کے مطابق ترقیاتی پالیسیاں ترتیب دیں ۔  

 

 

 


شیئر

Related stories