چین کے صدر شی جن پھنگ نے عالمی سطح پر چین کو ایک نئی شناخت دی ہے اسی باعث چین کی سیاسی تاریخ میں انہیں ایک نمایاں مقام حاصل ہو چکا ہے ۔ڈاکٹر آفتاب حسین

2018-03-19 19:10:26
Comment
شیئر
شیئر Close
Messenger Messenger Pinterest LinkedIn

چین کے صدر شی جن پھنگ نے عالمی سطح پر چین کو ایک نئی شناخت دی ہے اسی باعث چین کی سیاسی تاریخ میں انہیں ایک نمایاں مقام حاصل ہو چکا ہے ۔ڈاکٹر آفتاب حسین

 ڈاکٹر آفتاب حسین محقق اور تجزیہ نگار ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات عامہ بالخصوص چین کے امور کے حوالے سے چینی اور عالمی میڈیا میں لکھتے ہیں۔چین۔پاک تعلقات اور عالمی و علاقائی امور کے حوالے سے بطور تجزیہ نگار میڈیا کی معروف شخصیت ہیں۔ ڈاکٹر آفتاب حسین کی چین کی قومی عوامی کانگریس کے دوران کیے جانے والے اہم فیصلوں کے حوالے سے چائںا ریڈیو انٹرنیشنل کی اردو سروس سے خصوصی بات چیت

 

قومی عوامی کانگریس  کے دوران متعارف کروائی جانے والی اصلاحات کی اہمیت

قومی عوامی کانگریس کے سالانہ اجلاس کے دوران ریاستی اداروں میں اصلاحات کے حوالے سے کئی اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔ ملکی ضروریات کے مطابق کئی نئی وزارتوں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔اِن اقدامات کے واضح مقاصد ہیں کہ  چین کی ترقی کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ چین اِس وقت دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے اور  جدید دور کے تقاضوں اور قومی ضروریات کے مطابق یہ لازم تھا کہ نئے اداروں کا قیام عمل میں لایا جائے تا کہ عوامی خوشحالی ، معیشت کی بحالی اور  چین کی اقتصادی سماجی مستحکم پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہے۔میرے نزدیک چین کی ترقی کا ایک راز یہ بھی ہے کہ ہمیں چینی قیادت کی پالیسیوں میں ہمیشہ تسلسل نظر آتا ہے۔لہذا اِن تمام امور کو مد نظر رکھ کر حالیہ قومی کانگریس کے دوران اصلاحات متعارف کروائی گئی ہیں جس کے دوررس اثرات مرتب ہوں گے۔

 

دیہی اور شہری علاقوں کی یکساں ترقی

چین میں ستر کے عشرے کے آخر میں اقتصادی اصلاحات اور اوپن پالیسی کے نفاذکے بعد  بے مثال کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔گزشتہ چار دہائیوں میں ستر کروڑ افراد کو غربت کے دائرے سے نکالا گیا ہے اور چین اس وقت متوسط آمدنی کی حامل آبادی کا  سب سے بڑا ملک ہے۔اصلاحات کے باعث چین کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں جبکہ چینی حکومت نے کوشش کی ہے کہ دیہی اور شہری علاقوں کی شانہ بشانہ ترقی کو فروغ دیا جائے۔ غربت کے باعث جرائم ، بے روزگاری اور دیگر سماجی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔اس لیے چین کی جانب سے شہری اور دیہی علاقوں کی یکساں ترقی کے لیے اپنائی جانے والی پالیسی سے نہ صرف  معاشی ثمرات حاصل ہوں گے بلکہ معاشرتی فوائد بھی حاصل ہوں گے ۔اگر ہم " چینی خواب " کے تصور کا جائزہ لیں تو اس میں بھی یہ امر واضح ہے کہ چین کو نہ صرف اقتصادی بلکہ معاشرتی لحاظ سے بھی ایک ایسا مضبوط ملک بنانا ہے جس کی عالمی سطح پر ایک منفرد پہچان ہو۔

 

ریاستی اداروں میں بد عنوانی کے خاتمے کے لیے اقدامات

چین کے صدر شی جن پھنگ کی قیادت میں چینی حکومت بد عنوانی کے خاتمے کے لیے پر عزم ہے۔چین نے بد عنوانی کے خاتمے کے لیے نہ صرف اندرون ملک اقدامات کیے ہیں بلکہ بد عنوانی میں ملوث ایسے افراد جو بیرون ملک فرار ہو جاتے تھے ، انہیں بھی  ملک واپس لا کر سزائیں دیتے ہوئے عملی مثال قائم  کی ہے  اور یہ بتا دیا کہ بد عنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔چینی حکومت کی بد عنوانی کے خلاف مہم سے ریاستی ادارے مستحکم ہوئے ہیں اور یقینی طور پر ملکی ترقی میں بد عنوانی کے خاتمے کے لیے اپنائی جانے والی پالیسی کا بڑا عمل دخل ہے۔اگر ہم یورپی ممالک یا ترقی پزیر ممالک کا جائزہ لیں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ بد عنوانی کے خلاف چین نے سب سے موثر اور نتیجہ خیز اقدامات کیے ہیں۔ بد عنوانی پورے جنوبی ایشیا کا مسئلہ ہے۔ پاکستان سمیت دیگر ترقی پزیر ممالک بھی اپنی معاشی سماجی خصوصیات  کی بنیاد پر چین کے تجربے سے سیکھ سکتے ہیں اور بد عنوانی کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔پاکستان میں بد عنوانی کے خاتمے کے لیے چینی تجربے سے سیکھتے ہوئے ایک جامع پالیسی اپنائی جائے اور ایک ایسا نظام وضع کیا جائے جس سے معاشرے میں بد عنوانی کی سماجی حوصلہ شکنی ہو  اور روک تھام ممکن ہو سکے۔

 

دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کی ترقی کا عزم

چین کی قومی عوامی کانگریس کے دوران دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کی ترقی کا بھر پور عزم ظاہر کیا گیا ہے۔یہ انیشیٹو صرف چین کی ترقی کے لیے اہم نہیں ہے بلکہ اس سے وابستہ ممالک وسیع  پیمانے پر اس منصوبے سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ سی پیک کی بدولت پاکستانی معیشت کو بھر پور فروغ مل رہا ہے ، رابطہ سازی بڑھ رہی ہے ، مالیاتی سرگرمیوں میں تیزی آ رہی ہے۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ چین نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے حوالے سے صرف بیانات نہیں دیے ہیں بلکہ اس منصوبے کو عمل شکل دی ہے۔یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ یہ منصوبہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو سے وابستہ ممالک کی اقتصادی سماجی ترقی کا ضامن منصوبہ ہے۔  


شیئر

Related stories