سنکیانگ میں تمام لسانی اور مذہبی اقلیتوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی نظر آتی ہے

2017-11-21 19:43:07
Comment
شیئر
شیئر Close
Messenger Messenger Pinterest LinkedIn

چین کے خود اختیار علاقہ سنکیانگ کے شہر ارومچی میں قیام کے دوسرے روز اکیڈمی آف سوشل سائنسز میں ماہرین سے اہم ملاقات کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اس ادارے میں سنکیانگ کی تاریخ اور مختلف مذاہب بالخصوص اسلام پر تحقیق کی جاتی ہے۔  سنکیانگ کے جنوبی شہر کاشغر کو شاہراہ ریشم کی تاریخ میں مرکزی حیثیت ہے، کیونکہ مشرقی اور مغربی ممالک کے درمیان یہی وہ مرکزی مقام ہے جہاں تجارت، فن و ثقافت اور وفود کا تبادلہ ہوا کرتا تھا۔ چین کے صدر شی جن پھنگ کی جانب سے پیش کردہ ڈی بیلٹ اینڈ روڈ انیشٹیو میں بھی شنکیانگ کو جغرافیائی لحاظ سے انتہائی اہم حیثیت حاصل ہے۔عالمی ذرائع ابلاغ کی طرف سے جاری منفی پروپیگنڈا کے برعکس سنکیانگ میں تمام لسانی اور مذہبی اقلیتوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی نظر آتی ہے اور اس حوالے سے چین کی مرکزی حکومت کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ دن کے دوسرے حصے میں مقامی موسیقی اور رقص سے محضوظ ہونے کا موقع ملا۔ یہاں کے فنکار اپنے فن میں طاق اور فنونِ لطیفہ سے محبت کرنے والے لوگ ہیں۔ یہاں کے سازوں میں ترک لوک موسیقی کی جھلک ہے، لیکن رقص کا انداز انتہائی منفرد ہے۔ 


شیئر

Related stories