سی پی سی کی انیسویں قومی کانگریس نہ صرف چین بلکہ دنیا کی ترقی کے لیے بہت اہم ہے۔تجزیہ کار اور تبصرہ نگار

2017-10-25 16:44:35
Comment
شیئر
شیئر Close
Messenger Messenger Pinterest LinkedIn

سی پی سی کی انیسویں قومی کانگریس نہ صرف چین بلکہ دنیا کی ترقی کے لیے بہت اہم ہے۔تجزیہ کار اور تبصرہ نگار

سی پی سی کی انیسویں قومی کانگریس نہ صرف چین بلکہ دنیا کی ترقی کے لیے بہت اہم ہے۔تجزیہ کار اور تبصرہ نگار

سی پی سی کی انیسویں قومی کانگریس نہ صرف چین بلکہ دنیا کی ترقی کے لیے بہت اہم ہے۔تجزیہ کار اور تبصرہ نگار

چینی کمیونسٹ پارٹی کی انیسویں قومی کانگریس چوبیس تاریخ کو بیجنگ میں کامیابی سے اختتام پذیر ہوگئی۔چینی اور غیرملکی ذرائع ابلاغ کے خیال میں سی پی سی کی انیسویں قومی کانگریس نہ صرف چین کی آئندہ ترقی بلکہ دنیا کی ترقی کے لیے بھی گہرے اثرات مرتب کرے گی۔چینی کمیونسٹ پارٹی کی تقریباً ایک سو سال کی  کوششوں کے بعد چین ایک نئے تاریخی سنگ میل پر کھڑا ہے۔چین کے فہم و تدبر اور تجربات  نے عالمی برادری کے لیے مزید طاقتور اور مثبت  توانائی  فراہم کی ہے۔چین کے فینکس ٹی وی کے تبصرہ نگار دو پھنگ نے کہا کہ اصلاحات اور کھلے پن کی پالیسی اور جدید سوشلسٹ  تعمیر میں حاصل کردہ تاریخی ثمرات نہ صرف چین کی ترقی کو فروغ دے رہے ہیں بلکہ دنیا بھی اس سے مستفید ہوگی۔انہوں نے کہا کہ  گزشتہ عشروں میں چین کی اصلاحات اور کھلے پن کی پالیسی کو بڑی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں ۔دوسرے ممالک   بھی اس قسم کے ترقیاتی ماڈل اور تصورات سے اپنی ترقی کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ اس پہلو سے چین نے بڑی خدمت سرانجام دی ہے۔دوسری طرف عالمی انتظام کے شعبے میں چین عالمگیریت کو آگے بڑھاتا جا رہا ہے۔دو پھنگ نے کہا کہ عالمی معیشت کی بحالی میں کمزوری کے پس منظر میں چینی معیشت نے عالمی معشیت کے  ایک انجن کی حیثیت سے عالمی اقتصادی ترقی کے لیے بڑی خدمت سرانجام دی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اقتصادی ترقی کے علاوہ چین کے ترقیاتی تجربات دنیا کے لیے بھی مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔دو پھنگ نے کہا کہ چین دنیا کی دوسری بڑی  معیشت ہے جو عالمی تجارت میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے اپنی نئ پالیسی اور نئے تصور کے ذریعے دنیا کے بہت سے  ممالک پر اثر ات مرتب کر رہا ہے۔اس لیے چینی کمیونسٹ پارٹی کی انیس ویں قومی کانگریس کا اثر نہ صرف چین کے مستقبل بلکہ دنیا کے مختلف ملکوں کے تعلقات میں ترتیب پر بھی  پڑے گا۔شی جن پھنگ نے سی پی سی کی انیسویں قومی کانگریس کی رپورٹ میں نشاندہی کی کہ کوئی بھی ملک اکیلے ،  انسان کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ نہیں کر سکتا،کوئی بھی ملک ایک تنہا جزیر ے میں واپس جا کر خود  کو بند نہیں کر  سکتا۔اس بارے میں آسٹریلیا میں سمندر پار چینیوں کی ایک ایسوسی ایشن کے سربراہ زنگ ای نے کہا کہ چین تعاون ،مشترکہ مفادات ،جامع مشاورت اورتعمیری شراکت  کے تصور کو فروغ دیتے ہوئے خود اس پر عمل  پیرا بھی ہے ۔چین نے عالمی انتظام کے لیے چین کے فارمولے اور ترقی کی قوت فراہم کی ہے۔انہوں نے کہا کہ دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹیو سے لے کر تعاون اور مشترکہ مفادات پر مبنی نئے طرز کے بین الاقوامی تعلقات کی تشکیل تک ،چین کا عالمی اسٹیج پر کردار مزید اہم ہوتا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مختلف حکومتیں اور صنعت کار چین سے تعاون کرنے کا بھرپور اعتماد رکھتے ہیں۔وہ بنیادی تنصیبات سمیت دیگر شعبوں میں چین کی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اپنے ملک کی تعمیر کو فروغ دے رہے ہیں۔ان پہلوؤں سے ہمیں دنیا پر چین کا اثر نظر  آ سکتا ہے ۔اس کے علاوہ شی جن پھنگ نے جامع مشاورت ، تعمیری شراکت اور مشترکہ مفادات کا عالمی انتظامی تصور  پیش کیا۔ہمیں ثقافت کے اشتراک کو فروغ دینا چاہیئے ۔دی بیلٹ اینڈ روڈ ایک مشترکہ پلیٹ فارم اور طریقہ کار ہے۔چینی کمیونسٹ پارٹی کی انیسویں قومی کانگریس کی رپورٹ میں پیش کیا گیا ہے کہ چینی کمیونسٹ پارٹی عالمی تہذیب کے تنوع کا احترام کرتی ہے اور بنی نوع انسان کے لیے مزید خدمات کو اپنا مشن قرار دیتی ہے۔اس حوالے سے امریکہ کی کیلیفورنیا یونیورسٹی کے چینی تحقیقی مرکز کے کونسلر چھو جیان پھنگ نے کہا کہ شی جن پھنگ نے انسانیت کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کی تجویز پیش کی جو دنیا میں چین کے اثرورسوخ کو بلند کرنے کے لیے بہت اہم ہے اور عالمی امن وترقی کے لیے بھی بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ان کا کہنا تھا کہ انسانیت کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر مختلف ممالک ، مختلف قوموں ،مختلف ثقافتوں اور مختلف تاریخی پس منظر پر باہمی تبادلوں کے لیے بہت اہم ہے۔



شیئر

Related stories