​کھلے پن پر مبنی عالمی معیشت کی تشکیل کے لیے چین کی بھر پور کوشش ،سی آر آئی کا تبصرہ

2018-11-05 15:49:13
Comment
شیئر
شیئر Close
Messenger Messenger Pinterest LinkedIn

پہلی چین بین الاقوامی درآمدی ایکسپو پانچ تاریخ کو شنگھائی میں شروع   ہوئی جس میں ایک سو بہتر ممالک ، علاقوں،عالمی تنظیموں سمیت  تین ہزار چھ سو سے   زیادہ کاروباری ادارے شریک ہیں۔چینی صدر نے افتتاحی تقریب سے اہم خطاب کیا۔سی آر   آئی کی جانب سے جاری ایک تبصرے میں کہا گیا ہے کہ چینی صدر کے خطاب میں "کھلے پن ،   جدت کاری اور اشتراک"کو بڑی اہمیت دی جا رہی ہےجو چین کی اصلاحات و کھلے پن کے   تجربات کا ایک اہم خلاصہ ہے اور مستقبل میں چین کی اعلی معیار کی ترقی کے لیے لازمی   شرط بھی ہے۔خاص طور پر کھلے پن کو چینی صدر شی جن پھنگ نے موجودہ چین کی نمایاں   علامت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ نئے عہد میں چین کو مزید کھلے پن کے ذریعے مزید   اعلی معیار کی ترقی کرنے کی ضرورت ہے۔
رواں سال اپریل میں بو آؤ ایشیائی فورم   میں چین نے کھلےپن کی توسیع کے لیے اہم اقدامات کا اعلان کیا ۔اور شنگھائی میں چینی   صدر نے کھلے پن کو توسیع دینے کے مزید اہم اقدامات پیش کیے جن میں درآمدات کی   ممکنہ صلاحیت کی حوصلہ افزائی ، منڈی تک رسائی میں آسانی ، بین الاقوامی معیار   کےکاروباری ماحول کی فراہمی ، کھلے پن کو نئی بلندی تک لے جانا اور عمیق کثیرالطرفہ   و دوطرفہ تعاون کرنا شامل ہیں۔مذکورہ اقدامات مختلف ممالک کی ترقی سے مطابقت رکھتے   ہیں اور چین کی جانب سے اقتصادی عالمگیریت اور عالمی اقتصادی اضافےکو فروغ دینے کا   ٹھوس عمل بھی ہیں۔ 

شیئر

Related stories