حقائق نے ایک بار پھر سی این این کے متعصبانہ نظریے کی قلعی کھول دی : چائنا میڈیا گروپ کے سی سی ٹی وی اسٹیشن کا تبصرہ
مقامی وقت کے مطابق یکم نومبر کی شام برطانیہ کی ایسیکس کاؤنٹی کی پولیس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہاگیا ہے کہ گزشتہ ماہکنٹینر میں ہلاک ہونے والے تمام انتالیس افراد کا تعلق ویت نام سے ہے۔ اس افسوس ناک حقیقت نے ایک بار پھر سی این اینسمیت مغربی میڈیا کے منہ پر ایک طمانچہ مار ا ہے۔
ان ہلاک ہونے والوں کی شناحت اور ہلاکتکی وجوہاتجانے بغیر ہی سی این این نے غیر زمہ داری سے حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے کھلم کھلا چینی وزارت خارجہ سے سوال کیا کہ عوامی جمہوریہ چین کے قیام کی سترویں سالگرہکے موقع پر چینی باشندے اس کسمپرسی کی حالت میں چین سے کیوں روانہ ہوئے؟
ی این این خود کو "آزادی صحافت کا علمبردار"قراردیتاہے لیکناسےاس سے قبل بھی ہانگ کانگ پولیس کی جانب سےپٹرول بموں کے استعمالکیافواہپھیلانےپربڑے پیمانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا اور بالآخر سی این این کو معذرت کرنا پڑی۔
آج کے حقائق نےایک بار پھر نہ صرفسی این این کے متعصبانہ نظریے کی قلعی کھولی ہے بلکہ اس ادارےکی جانب سےافواہیں پھیلانے اور چین کی ترقی کی کامیابیوں کو بد نام کرنےکی مذموم سازشوںکابھی سر عام بھانڈا پھوڑ دیاہے۔
ان حقائق کی موجودگی میں مغربی میڈیا کینام نہاد"پیشہ ورانہ مہارت" اور "متوازن رپورٹنگ" کی پالیسی ایکمذاقبنکر رہ گئی ہے ۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ سی این این سمیتمتعدد دیگرمغربی میڈیا ادارے آج بھی خود کو"سرد جنگ کے دور کی ذہنیت " سے آزاد نہیں کر سکے ۔
ان اداروں نے اپنی کوتاہیوں کو چھپانے کے لئے دوسروں پر بلاجواز اور غیر ضروری تنقید کے جس راستے کا انتخاب کیا ہے وہ یہ ظاہر کرتا ہے یہ لوگ دوسروں کی ترقی کوبرداشت نہیں کرسکتے۔ یہ متعصبانہ رویہ اس بات کی غمازی ہے کہ یہ لوگ محض اپنی اجارہ داری چاہتے ہیں۔