چین کی قدیم تعمیرات کی خصوصیات

2018-01-04 10:41:46
شیئر:

چین کی قدیم تعمیرات کی خصوصیات

چین کی قدیم تعمیرات کی خصوصیات

لکڑی کی ساخت  قدیم چینی  تعمیرات  کی سب سے بڑی خصوصیت ہے۔چین کی قدیم تعمیرات چینی ثقافت  اور فنون لطیفہ  کے تصورات کی علمبردار  ہیں جن کے اثرات جاپان، کوریا اور ویت نام سمیت ہمسایہ ممالک  اور یہاں تک کہ  یورپ کے روایتی تعمیرات پر  بھی مرتب ہوئے ہیں ۔

چین ایک وسیع و عریض ملک ہے اس لئے مختلف علاقوں کی  تعمیرات  اپنی موسمیاتی اور جغرافیائی خصوصیات کے مطابق ہیں۔شمالی چین کی تعمیرات کا  خاکہ عام طور پر  لکڑیوں  کا ہوتا ہے جبکہ جنوبی چین میں بارشوں کی کثرت کے باعث تعمیرات  میں  بانس کا استعمال بہت عام ہے تاکہ مکانات میں ہوا کی گردش زیادہ ہموار ہو سکے۔پہاڑی علاقوں  کے لوگ عام طور پر پتھروں سے اپنے مکانات کی تعمیر  کرتے ہیں جو  بہت مضبوط  ہوتےہیں۔

 

تھانگ شاہی خاندان کے دور کی تعمیرات

تھانگ شاہی خاندان کا دور سنہ چھ سو اٹھارہ سے  نو سو سات تک رہا۔ یہ چین کی  جاگیردارانہ تاریخ  میں سب سے ترقی یافتہ  دور تھا جس کے دوران فن تعمیر کو بھی خوب فروغ ملا۔

تھانگ شاہی خاندان تک شاہی محلات کی خاکہ بندی اور منصوبہ بندی کا معیار کافی بلند ہو گیا تھا۔دارالحکومت چھانگ آن  میں جو شاہی محلات تعمیر کیئے گئے ہیں، بیجنگ میں موجود شہر ممنوعہ سے تین گناہ زیادہ بڑے ہیں ۔اس وقت کا چھانگ آن شہر دنیا میں سب سے بڑا شہر بھی تھا ۔

تھانگ شاہی خاندان کے دور کی تعمیرات لکڑیوں سے  بنی تعمیرات کی  شاندار مثال ہیں ۔ اس کے علاوہ  اینٹوں اور پتھروں سے بنے ہوئے پگوڈے بھی اس زمانے کی تعمیرات  کی ایک اور نمائندہ  علامت ہیں  جن میں سے کچھ  آج بھی اچھی حالت میں  محفوظ ہیں ۔

 

سونگ شاہی خاندان کےد ور کی تعمیرات

سونگ  شاہی خاندان کا دور سنہ نو سو ساٹھ سےبارہ سو اناسی تک  رہا۔چین کی تاریخ میں  سیاسی اور فوجی لحاظ سے یہ ایک نسبتاً  کمزور شاہی خاندان تھا۔ تاہم اس کے باوجود  اس دور میں چین کی معیشت، فن دستکاری، تجارت اور سائنس و ٹیکنالوجی نےبے مثال ترقی کی  اور فن تعمیر بھی اعلیٰ بلندی تک گیا۔

اس زمانے میں شہروں  میں سڑکوں کے کناروں پر دکانیں تعمیر کی جاتیں  اور تمام عمارات سیدھی قطار میں تعمیر کی جاتیں ۔اس کے علاوہ شہروں میں نقل و حمل ، آگ بجھانے کا نظام  اور دوسری شہری تنصیبات بھی مکمل  کی گئیں ۔

اس زمانے کی تعمیرات  کی خصوصیت یہ ہے کہ تعمیرات کے سائز کے بجائے ان کی سجاوٹ اور رنگسازی  پر زیادہ زور دیا  گیا ۔ یوں تعمیرات کی خوبصورتی بہت بڑھ گئی ۔اونچی عمارتیں اس زمانے کی تعمیرات کی اعلیٰ مثال ہیں جو سون شاہی خاندان کے دور  کےفن تعمیرات کی اعلیٰ ترین مثال سمجھی جاتی ہیں۔

 

یوان شاہی خاندان کے دور کی تعمیرات

منگولیائی قومیت کے یوان شاہی خاندان کی حکمرانی سنہ بارہ سو چھ سے تیرہ سو اڑسٹھ تک رہی۔یہ چین کی تاریخ میں نسبتاً ایک پسماندہ دور تھا اس لئے اس زمانے کی تعمیرات بھی سادہ  رہیں۔یوان شاہی خاندان کا دارالحکومت  تا دو  تھا  جوآج کا بیجنگ ہے۔بیجنگ شہر کی خاکہ بندی اس زمانے سے ہی وجود میں آئی۔

 

مینگ شاہی خاندان کے دور کی تعمیرات

مینگ  شاہی خاندان کی حکمرانی سنہ تیرہ سو اڑسٹھ سے سولہ سو چوالیس   تک رہی۔اس زمانے میں شاہی محلات  کی تعمیر  کا  فن عروج پر تھا  اور شہر ممنوعہ اسی زمانے میں ہی مکمل  کیاگیا۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ مینگ شاہی خاندان کے دور میں  قدیم دیوار چین کی تعمیر نو جاری رہی  اور اس زمانے میں دیوار چین کی کل لمبائی پانچ ہزار چھ سو کلومیٹرز تک جا پہنچی  ۔

 

چھینگ شاہی خاندان کے دور کی تعمیرات

چھینگ  شاہی خاندان کی حکمرانی سنہ سولہ سو چوالیس سے انیس گیارہ   تک رہی۔یہ چین کا آخری جاگیردار شاہی خاندان ہے۔اس دور میں شاہی محلات  کے علاوہ شاہی باغات کا فن تعمیر بھی  عروج پر  پہنچا۔ان میں سے بیجنگ کے  یوان منگ یوان باغ اور  گرمائی محل  سب سے مشہور ہیں۔اس کے علاوہ تبتی طرز کے مندرات کی تعمیر بھی چھینگ شاہی خاندان کے دور میں  خوب بڑھی ۔  کچھ مندرات آج بھی اچھی حالت میں  محفوظ ہیں۔