بیماریوں پر قابو پانے اور روک تھام کے لئے امریکی مرکز (سی ڈی سی) پر امریکی رہنما کے حالیہ لفظی حملے پر ، کہ سی ڈی سی جان بوجھ کر وبا کے اعداد و شمار کو بڑھا چڑھا کر پیش کررہا ہے ، امریکی طبی ماہر انتھونی فاوچی نے غصے سے جواب دیا کہ ان ہلاکتوں کے اعداد و شمار سچ ہیں۔ اگر آپ کو اب بھی یقین نہیں آتا ہے تو ، آپ اسپتال جا سکتے ہیں اور دیکھ سکتے ہیں کہ طبی عملہ کیا کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی انتباہ کیا کہ نئے کیسز اور اموات کی تعداد میں مسلسل اضافے کے باوجود ، کوئی بھی فرار ہونے کا انتخاب نہیں کرسکتا ہے۔بیس ملین سے زائد افراد کووڈ-۱۹سے متاثر ہیں اور 350،000 سے زیادہ افراد وفات پاچکے ہیں ۔لاس اینجلس میں ہر 6 سیکنڈ میں ایک شخص میں وبا کی تشخیص ہورہی ہے۔وبا کے پھیلاؤ کا یہ بے رحم سلسلہ امریکہ میں ایک جنگلی گھوڑے کی طرح بے قابو ہوچکاہے۔ تاہم ، کچھ امریکی سیاستدان اب بھی آنکھیں بند کر کے ، غلط معلومات پھیلارہے ہیں اور اپنی ذمہ داریوں سے گریزاں ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔دونوں پارٹیوں کے مابین وبا پر سیاست کرنے کے نتیجے میں غلط معلومات امریکہ میں وسیع پیمانے پر پھیل رہی ہیں اور امریکی عوام کو اس وبا کے بارے میں شدید الجھن کا سامنا کرنا پڑا ہے اور عوام کا حکومت کے انسداد وبا کے اقدامات پر اعتماد ختم ہو گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ میں دو ویکسین استعمال کے لئے منظور کی گئیں ، لیکن لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے انجیکشن لگوانے سے انکار کردیا ہے۔ واشنگٹن کےمغرور سیاستدان اپنے مفادات کے لئے کام کرنے میں مصروف ہیں ، لیکن بے چارے امریکی عوام گہری مصیبتوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ کیا ایک ایسا امریکہ جو انسانوں کے حقوق کو نظرانداز کرتا ہے، اپنے معاشرے کو تقسیم کرتا ہے اور اپنے انتظامی نظام کو مفلوج ہوتے دیکھ رہا ہے، کیا وہ اب بھی اپنے آپ کو "آزاد دنیا کا مینار روشنی" کہہ سکتا ہے؟